اسرائیل نے شام میں زہرپاشی شروع کردی،وسیع پیمانے پر فصلیں تباہ
قنیطرہ :جنوبی شام کے صوبہ قنیطرہ میں اسرائیلی طیاروں کی جانب سے مبینہ طور پر زہریلے کیمیکلز کے چھڑکاؤ کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر زرعی فصلیں تباہ ہو گئی ہیں۔ مقامی کسانوں کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے باعث ان کی تیار فصلیں چند ہی دنوں میں زرد پڑ کر سوکھ گئی ہیں، جس سے انہیں شدید مالی نقصان کا سامنا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ واقعات جنوری کے اواخر اور فروری 2026 کے اوائل میں پیش آئے۔ فرانس 24 کی ‘آبزرور ٹیم’ کو موصول ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز میں اسرائیلی طیاروں کو قنیطرہ کے زرعی علاقوں کے اوپر انتہائی نچلی پروازیں کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ فوٹیج میں طیاروں کے پیچھے سے سفید رنگ کی لکیریں نکلتی دکھائی دے رہی ہیں، جن کے بارے میں ماہرین کا خیال ہے کہ یہ کیمیکل اسپرے ہو سکتا ہے۔
مقامی کسانوں نے تصدیق کی ہے کہ 25، 27 اور 30 جنوری کو ‘الفا لائن’ (شام اور مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں کے درمیان سرحدی پٹی) کے ساتھ واقع دیہاتوں میں یہ اسپرے کیا گیا۔ اسی طرح کی شکایات جنوبی لبنان اور مغربی کنارے سے بھی موصول ہوئی ہیں جہاں اسرائیلی آبادکاروں پر فصلوں کو نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔
شامی وزارتِ زراعت نے 11 فروری کو اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ قنیطرہ سے حاصل کردہ نمونوں کے ٹیسٹ میں زہریلے مواد کی ‘شدید سطح’ (Acute Toxicity) تو پائے نہیں گئی، تاہم رپورٹ میں ان کیمیکلز کی نوعیت واضح نہیں کی گئی جنہوں نے فصلوں کو اس قدر تیزی سے تباہ کیا۔