ایران پرمحدود حملہ زیرغور ، ایک بہتر معاہدے پر پہنچنے کی ضرورت ہے۔امریکی صدر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران پر محدود فوجی حملے پر غور کر رہے ہیں تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس میں جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے کسی محدود حملے پر غور کر رہے ہیں تاکہ اس کے جوہری پروگرام پر کوئی معاہدہ ہو سکے تو انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ میں کہہ سکتا ہوں کہ میں اس پر غور کر رہا ہوں۔
اس سے قبل باخبر ذرائع نے امریکی میڈیاکو بتایا کہ امریکی افواج کو ایران پر ممکنہ حملوں کے اہداف کی فہرست موصول نہیں ہوئی۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ صدر ٹرمپ نے ابھی تک کسی مخصوص فوجی کارروائی کا فیصلہ نہیں کیا۔ تاہم نیٹ ورک نے حکام کے حوالے سے بتایا کہ اب وہ ایسے کسی معاہدے کے امکانات کم دیکھ رہے ہیں جو امریکی صدر کے تمام مطالبات کو پورا کر سکے۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہمیں ایک بہتر معاہدے پر پہنچنے کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام اپنے لیڈروں سے بہت مختلف ہیں۔ یہ ایک بہت، بہت، بہت افسوسناک صورتحال ہے۔ مختصر عرصے میں،32 ہزارلوگ مارے گئے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے مظاہرین کی پھانسی کی معطلی کا حوالہ دیتے ہوئے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ ایرانی حکام 800 سے زائد افراد کو پھانسی دینے جا رہے تھے۔ وہ ان میں سے کچھ کو کرین سے پھانسی دینے والے تھے، وہ 837 لوگوں کو پھانسی دینے جا رہے تھے، میں نے انھیں پیغام بھیجا کہ اگر آپ ایک شخص کو بھی پھانسی دیں گے تو آپ کو اسی وقت نشانہ بنایا جائے گا۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ انھیں ایران کے لوگوں سے ہمدردی محسوس ہوتی ہے، ’وہ جہنم میں رہ رہے ہیں۔
اس سے پہلے ’’وال سٹریٹ جرنل‘‘نے کہا تھا کہ صدر ٹرمپ ایران کو معاہدے پر مجبور کرنے کے لیے ایک ابتدائی محدود حملے پر غور کر رہے ہیں۔اخبار نے مزید کہا کہ تہران کے خلاف ممکنہ امریکی حملے میں فوجی اور حکومتی مقامات شامل ہوں گے۔ اخبار نے اس بات کی تصدیق کی کہ اگر ایران نے یورینیم کی افزودگی ختم کرنے سے انکار کیا تو واشنگٹن اس کے خلاف بڑے پیمانے پر مہم کا سہارا لے گا۔ ٹرمپ نے ایران کو معاہدے کے لیے زیادہ سے زیادہ 10 سے 15 دن کی مہلت دی تھی اور اس بات پر زور دیا تھا کہ ایران کسی نہ کسی طریقے سے معاہدے کی طرف بڑھے گا۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر تہران نے جواب نہ دیا اور پیش کردہ مفاہمت پر اتفاق نہ کیا تو بُرے واقعات پیش آئیں گے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سفارتی آپشن اب بھی موجود ہے لیکن یہ ہمیشہ کے لیے کھلا نہیں رہے گا۔دوسری طرف اقوام متحدہ میں ایرانی مشن نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو ایک خط بھیجا جس میں امریکی صدر کے بیانات کو فوجی جارحیت کے حقیقی امکان کا اشارہ قرار دیا گیا۔ ایرانی خط میں وضاحت کی گئی ہے کہ تہران کشیدگی نہیں چاہتا اور جنگ شروع نہیں کرے گا لیکن فوجی حملہ ہونے کی صورت میں جواب دے گا۔ اقوام متحدہ میں ایرانی مشن نے کہا کہ اصل قوت کے تمام اڈے اور تنصیبات جائز اہداف ہوں گے۔
سربیا کی حکومت نے ایران میں موجود اپنے تمام شہریوں سے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر ملک چھوڑ دیں۔سربیا کی حکومت کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائت ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ اس ہدایت کی وجہ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال ہے۔یاد رہے کہ اس سے قبل امریکہ، جرمنی، پولینڈ اور بیلجیئم سمیت متعدد یورپی ممالک نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کا کہا تھا۔