صدر ٹرمپ کی رہائش گاہ میں دراندازی کرنے والا مسلح شخص فائرنگ سے ہلاک
پام بیچ، فلوریڈا: امریکی ریاست فلوریڈا میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نجی رہائش گاہ، مار-اے-لاگو میں سکیورٹی کی سنگین خلاف ورزی کے دوران سیکرٹ سروس کے اہلکاروں نے ایک مسلح شخص کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ واقعہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب مقامی وقت کے مطابق تقریباً 01:30 بجے پیش آیا۔
سیکرٹ سروس کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، ایک مشکوک شخص کو مار-اے-لاگو کے شمالی گیٹ کے قریب انتہائی محفوظ حصے میں دیکھا گیا۔ برڈشا (شیرف پام بیچ کاؤنٹی) نے میڈیا کو بتایا کہ جب سکیورٹی اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچے تو وہاں ایک سفید فام نوجوان موجود تھا جس کے پاس ایک شاٹ گن اور ایندھن (پٹرول) کا کین تھا۔
عینی شاہدین اور سکیورٹی حکام کے مطابق، اہلکاروں نے فوری طور پر حرکت میں آتے ہوئے اس شخص کو ہتھیار اور پٹرول کا کین زمین پر پھینکنے کا حکم دیا۔ مذکورہ شخص نے پٹرول کا کین تو چھوڑ دیا، تاہم اس نے اپنی شاٹ گن سکیورٹی اہلکاروں پر تان لی اور فائرنگ کی پوزیشن اختیار کر لی۔
سیکرٹ سروس کے ایجنٹس اور پام بیچ کاؤنٹی شیرف کے نائب نے “خطرے کو ختم کرنے” کے لیے جوابی فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں حملہ آور ہلاک ہو گیا۔ بتایا گیا ہے کہ اس دوران فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔
حکام نے تصدیق کی ہے کہ ہلاک ہونے والے شخص کی عمر 20 سے 30 سال کے درمیان ہے، تاہم اس کی شناخت اور اس اقدام کے پیچھے چھپے محرکات کے بارے میں فی الحال کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
واقعے کے وقت کوئی بھی زیرِ حفاظت شخصیت (بشمول ڈونلڈ ٹرمپ) مار-اے-لاگو میں موجود نہیں تھی۔ سکیورٹی پروٹوکول کے مطابق علاقے کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔
صدر اور ان کا خاندان محفوظ ہیں، امریکی وزیرِ خزانہ
امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے فاکس نیوز کو بتایا کہ انھوں نے ابھی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات کی ہے۔ ان کے مطابق صدر اور ان کا خاندان محفوظ ہیں، لیکن انھوں نے زور دے کر کہا ’انھیں بار بار حملوں کی کوششوں کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔‘
سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ صدر کے گرد سکیورٹی حصار پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے اور سیکرٹ سروس اب اس وقت سے کہیں بہتر ہے جب سنہ 2024 میں پنسلوانیا کے شہر بٹلر میں ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کی کوشش کی گئی تھی۔
انھوں نے اس واقعے کی وجہ سیاسی تشدد کو قرار دیا اور کہا کہ یہ سب بائیں بازو کی طرف سے پیدا ہونے والی فضا کا نتیجہ ہے۔ ان کے الفاظ میں ’یہ وجودی خطرہ، یہ زہر جو بائیں بازو سے پھیل رہا ہے، اب ختم ہونا چاہیے۔ انھوں نے اس تشدد کو معمول بنا دیا ہے۔‘