بھارت اوراسرائیل جنگی تعاون فریم ورک پر خفیہ معاہدہ کرنے کے لیے تیار

February 24, 2026 · امت خاص

 

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی بدھ کے روز اسرائیل کا دورہ کرنے والے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس دورے سے دوطرفہ تعلقات کو اس سطح تک پہنچایا جائے گا جسے وہ “خصوصی اسٹریٹجک تعلقات قرار دے رہے ہیں۔ یہ سفارتی شراکت داری کی بلند ترین سطح ہے، جس کا نام اسرائیل امریکہ اور جرمنی کے ساتھ اپنے تعلقات کے لیے بھی استعمال کرتا ہے۔

 

دورے کے دوران مودی کا اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسیٹ (Knesset ) سے خطاب اور وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور صدر اسحاق ہرزوگ سے ملاقات کا پروگرام ہے۔ توقع ہے کہ فریقین دفاع پر بنیادی توجہ مرکوز کرتے ہوئے متعدد شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کے لیے مفاہمت کی ایک یادداشت (MoU) پر بھی دستخط کریں گے۔حکام کے مطابق، اس معاہدے کے تحت ایک نیا خفیہ فریم ورک قائم کیا جائے گا تاکہ دفاعی تعاون کو وسعت دی جا سکے، جس میں بھارت کے لیے جدید فضائی دفاعی نظام جیسے ممنوعہ زمرےکھولنا شامل ہے۔ اس فریم ورک سے یہ بھی توقع ہے کہ بھارت اسرائیل کے لیزر پر مبنی فضائی دفاعی نظام، جسے آئرن بیم(Iron Beam) کہا جاتا ہے، میں شامل ہو سکے گا۔

 

یہ اپ گریڈ شدہ شراکت داری مستقبل میں ممکنہ اسلحے کی پابندیوں کے اثرات کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے، انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ موجودہ جنگ کے دوران اسرائیل کو کچھ سپلائرز کی جانب سے پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ غیر ملکی رپورٹس کے مطابق، بھارت موجودہ تنازع کے دوران پہلے ہی ڈرونز اور دھماکہ خیز مواد فراہم کر چکا ہے۔

 

دفاع کے علاوہ، دونوں ممالک سے مصنوعی ذہانت (AI)، کوانٹم کمپیوٹنگ، اور سائبر سیکیورٹی جیسی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز پر توجہ مرکوز کرنے والے معاہدوں پر دستخط کی توقع ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بھارت ابتدائی مرحلے کی ٹیکنالوجیز کو بڑے پیمانے پر نافذ کرنے کی مضبوط صلاحیت رکھتا ہے۔

 

بھارت میں اسرائیل کے سفیر روون آذر نے اس دورے کو نہ صرف دفاع بلکہ فوڈ سیکیورٹی، زراعت، پانی، مالیات اور انفراسٹرکچر میں بھی ایک بہت بڑی پیش رفت قرار دیا۔ آذر نے کہاکہ ہم نے اسرائیلی انفراسٹرکچر کے بڑے منصوبوں، جیسے تل ابیب میٹرو، کے لیے بھارتی کمپنیوں کو لانے پر کام کیا ہے۔ یہ تعلقات میں ایک نئے دور کا آغاز ہے۔

 

آذر نے مزید امید ظاہر کی کہ اسرائیل اور بھارت کے درمیان مزید براہ راست پروازوں کا آغاز ہوگا۔ اس وقت صرف ایئر انڈیا واحد مختصر براہ راست روٹ چلا رہی ہے۔ اسرائیلی حکام نے دیگر بھارتی فضائی کمپنیوں سے سروس شروع کرنے کے حوالے سے رابطہ کیا ہے، اور ممبئی کے لیے ارکیاArkia) کے ممکنہ روٹ کے بارے میں بھی رابطے جاری ہیں۔

 

دورے سے قبل، اسرائیلی حکومت نے مختلف شعبوں میں تعلقات مضبوط کرنے کے لیے 148 ملین شیکل (40 ملین ڈالر) کے منصوبے کی منظوری دی۔ اس کے اہم نکات میں علمی اور اختراعی تعاون کو وسعت دینا، زراعت اور مالیاتی تعاون کو گہرا کرنا، اور ٹرانسپورٹ و توانائی میں شراکت داری بڑھانا شامل ہے۔ اس منصوبے میں بالی ووڈ اور اسرائیل کی فلمی صنعت کے درمیان تعاون کو بھی فروغ دیا گیا ہے۔

 

ان اقدامات میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطح کی اسٹیئرنگ کمیٹی کا قیام بھی شامل ہے جو ہر دو سال بعد ملاقات کرے گی۔ اس کے علاوہ بھارت میں زراعت، پانی اور جدت طرازی پر مرکوز مزید 10 مراکزِ فضیلت (Centers of Excellence) کا قیام اور اسرائیل میں بھارتی ٹرینیوں کی تعداد میں اضافہ بھی شامل ہے۔

 

منصوبے میں ایک مشترکہ دفاعی سائبر سیکیورٹی سینٹر بنانے، آزاد تجارتی معاہدے (FTA) کو آگے بڑھانے، اور بھارت کے دور افتادہ علاقوں میں قابل تجدید توانائی اور ٹیلی میڈیسن کے منصوبوں پر تعاون کا تصور بھی پیش کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کچھ اقدامات بھارت کی جانب سے فنڈز کی فراہمی سے مشروط ہیں، اور مکمل نفاذ کنیسیٹ میں 2026 کے ریاستی بجٹ کی منظوری پر منحصر ہے۔

 

امریکی جریدے فوربز کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان اہم دفاعی معاہدے پر دستخط ہونے کا امکان ہے۔ بھارت، اسرائیل کے ساتھ مجموعی طور پر8اعشاریہ 6 ارب ڈالر کے دفاعی معاہدے کرنے جا رہا ہے جن کے تحت سپائس 1000 پرسیژن گائیڈڈ بم، ہوا سے زمین پر مار کرنے والے میزائل، بیلسٹک میزائل اور آئس بریکر میزائل سسٹم خریدے جائیں گے۔

 

وزیر اعظم نریندر مودی کا اسرائیل کا یہ دوسرا دورہ ہوگا۔4 جولائی 2017 کونریندر مودی کا دورہ پہلا موقع تھا جب کسی بھارتی وزیر اعظم نے اسرائیل کا دورہ کیا تھا۔ اس حوالے سے نیتن یاہو نے 2014 میں نیویارک میں پہلی ملاقات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے بھارت اور اسرائیل کے درمیان باقی ماندہ دیواریں گرانے پر اتفاق کیا تھا۔نو سال بعد،25 فروری کو مودی کے دوسرے دورے پرتجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وہ بڑے پیمانے پر اس مشن کی تکمیل کا دعویٰ کر سکتے ہیں۔ وہ تعلقات جنہیں کبھی بھارت میں ناپسندیدہ سمجھا جاتا تھا اور پھر خفیہ طور پر جاری رکھا گیا، اب نئی دہلی کی سب سے عوامی دوستیوں میں سے ایک بن چکے ہیں۔