ایران جنگ: 28 مارچ تا دو اپریل۔ اپ ڈیٹس
ایران جنگ پر تازہ ترین اپ ڈیٹس
اہم نکات
-
- تہران پر فضائی حملے میں سابق وزیر خارجہ کمال خرازی کے شدید زخمی ہونے کی اطلاع ، اہلیہ جاں بحق
- امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے حوالے سے ایک اہم فیصلے کا اعلان کرنے والے ہیں۔
واشنگٹن: امریکہ سے تعلق رکھنے والے بین الاقوامی قانون کے 100 سے زائد ماہرین، جن میں صفِ اول کے ماہرینِ تعلیم، سابق سرکاری وکلاء اور فوجی قانون کے ماہرین شامل ہیں، نے ایک مشترکہ خط میں ایران کے خلاف امریکی فوجی مہم پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
‘جسٹ سیکیورٹی فورم’ (Just Security Forum) کی جانب سے شائع کردہ اس خط میں ماہرین نے موقف اپنایا ہے کہ اس مہم کا آغاز ہی اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی تھا۔ خط کے مطابق امریکی افواج کا اب تک کا طرزِ عمل اور سینئر حکومتی حکام کے بیانات بین الاقوامی انسانی حقوق اور انسانی قوانین کی خلاف ورزیوں کے بارے میں سنگین خدشات پیدا کرتے ہیں، جو ممکنہ طور پر جنگی جرائم (War Crimes) کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔”
ماہرین نے جنگ کے نتیجے میں عام شہریوں کو پہنچنے والے بڑھتے ہوئے نقصان، بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور ماحولیات کو پہنچنے والے نقصان کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔ خط میں متنبہ کیا گیا ہے کہ یہ تنازع خطے کے امن و سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے۔
قانونی ماہرین نے امریکی حکام کے ان حالیہ بیانات کو “خطرناک حد تک کوتاہ نظری” قرار دیا جن میں جنگی ضوابط (Rules of Engagement) کو “احمقانہ” کہا گیا تھا۔ خط میں کہا گیا ہے کہ حکام کی جانب سے “قانونیت” (Legality) کے بجائے “ہلاکت خیزی” (Lethality) پر زور دینا عالمی اصولوں کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔
ایسی بیان بازی سے ان عالمی ضابطوں کو خطرہ لاحق ہے جو جنگ کے دوران عام شہریوں کے تحفظ کے لیے بنائے گئے ہیں۔
خط پر دستخط کرنے والوں میں سابق ‘جج ایڈووکیٹ جنرلز’ (JAGs) اور بین الاقوامی قانون کی نامور انجمنوں کے سربراہان شامل ہیں۔ ان ماہرین نے زور دیا ہے کہ امریکی حکومت کو بین الاقوامی قانونی فریم ورک کا احترام کرنا چاہیے تاکہ عالمی نظام کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے۔
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے شہر کرج میں واقع ایک پُل پر حملے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی ہے۔
ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ آج ہونے والے ایک فضائی حملے کے بعد پُل پر شعلے اور دھوئیں کے بادل اُٹھ رہے ہیں۔ اس سے قبل اسرائیلی فوج نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ انھیں اس حملے کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔
ٹرمپ بظاہر اس حملے کی ذمہ داری لیتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔
امریکی صدر نے اپنے پلیٹ فارم ٹریوتھ سوشل پر لکھا: ’ایران کا سب سے بڑا پُل زمین بوس ہو گیا ہے، اب کبھی استعمال کے قابل نہیں رہے گا، آگے اور بھی بہت کچھ ہونے والا ہے۔‘
’وقت آ گیا ہے کہ اب ایران مزید تاخیر ہونے سے قبل کوئی معاہدہ کر لے ورنہ اس عظیم ملک کے ممکنہ مستقبل میں کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔‘
ایرانی میڈیا کے مطابق اس حملے میں دو افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ امریکی کے محکمہ دفاع نے تاحال اس حملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
بیونس آئرس: ارجنٹائن اور ایران کے درمیان دیرینہ سفارتی تناؤ ایک نئی اور سنگین نہج پر پہنچ گیا ہے۔ صدر جیویر مائلی کی حکومت نے ایران کے ناظم الامور محسن سلطانی تہرانی کو ملک چھوڑنے کے لیے 48 گھنٹوں کی مہلت دیتے ہوئے انہیں ملک بدر کر دیا ہے۔
ارجنٹائن کی وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ انتہائی قدم درج ذیل وجوہات کی بنا پر اٹھایا گیا ہے،
دو روز قبل ارجنٹائن نے ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کو باقاعدہ طور پر ایک “دہشت گرد تنظیم” قرار دیا تھا۔
ایران کی وزارتِ خارجہ نے اس اقدام پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ارجنٹائن پر “جارحیت پسندوں کا ساتھ دینے” اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام لگایا تھا۔
حالیہ فوجی حملوں کی حمایت: صدر جیویر مائلی، جو امریکہ اور اسرائیل کے قریبی اتحادی مانے جاتے ہیں، انہوں نے حال ہی میں ایران پر ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں کی کھل کر حمایت کی تھی۔
تل ابیب / مقبوضہ بیت المقدس اسرائیلی فوج نے جمعرات کے روز یمن سے داغے گئے ایک میزائل کی نشاندہی کی ہے جو براہِ راست اسرائیلی حدود کی جانب بڑھ رہا تھا۔ جنگ کے آغاز سے اب تک یہ چوتھا موقع ہے کہ یمنی علاقے سے اسرائیل پر اس نوعیت کے حملے کی کوشش کی گئی ہے۔
اسرائیلی میڈیا (چینل 14) کے مطابق، ہوم فرنٹ کمانڈ نے میزائل کی تشخیص کے فوری بعد قبل از وقت وارننگ جاری کر دی تھی۔ اس حملے کے باعث مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) اور بحیرہ مردار (ڈیڈ سی) کے علاقوں سمیت اسرائیل کے بیشتر شہروں میں خطرے کے سائرن بجنے لگے، جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ دفاعی نظام نے خطرے کو بھانپتے ہوئے جوابی کارروائی شروع کر دی ہے۔ فی الحال کسی جانی یا مالی نقصان کی فوری اطلاع موصول نہیں ہوئی، تاہم حکام صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔
بیجنگ: چین نے کہا ہے کہ ایران جنگ جاری رہی تو آبنائے ہرمز کا راستہ بحال نہیں ہوگا، ایران جنگ بندی فوری کی جائے۔
چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان سے ٹیلیفون پر گفتگو کی۔
چینی میڈیا کے مطابق وانگ ای کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کا مسئلہ ایران جنگ کے پھیلاؤ کا نتیجہ ہے، جب تک جنگ جاری رہے گی تو آبنائے ہرمز کا راستہ مستحکم نہیں ہوسکے گا۔
چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ تنازع کے حل کے لیے فوری جنگ بندی ہونی چاہیے۔
چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے یورپی یونین کے اعلیٰ سفارتکار سے بھی ٹیلیفون پر گفتگو کی۔
چینی میڈیا کے مطابق وانگ ای کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کو فروغ دینے کے لیے فریقین کے درمیان اتفاق رائے مضبوط کیا جانا چاہیے۔
تہران: امریکا اور اسرائیل کے حملوں کا نشانہ بننے والے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر اور سابق وزیر خارجہ ڈاکٹر کمال خرازی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگئے۔
امریکا اور اسرائیل نے ڈاکٹر کمال خرازی کے تہران میں واقع گھر پر حملہ کیا تھا جس میں انکی اہلیہ شہید ہوگئی تھیں، ڈاکٹر کمال خرازی کو انتہائی زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ کوما کی حالت میں تھے۔
ایران کے انتہائی معتبر ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ڈاکٹر کمال خرازی چل بسے، انکی شہادت نے ایران میں سفارتکاری اور تعلیم کے شعبے میں ایک اہم باب بند کردیا ہے۔
ڈاکٹر کمال خرازی ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کے مشیر تھے۔ اس سے پہلے وہ شہید سپریم لیڈر آیت اللّٰہ سید علی حسینی خامنہ ای کے بھی مشیر رہے۔
کمال خرازی کی عمر 81 برس تھی، وہ ایران کی خارجہ پالیسی ترتیب دینے والی شخصیات میں اہم ترین تصور کیے جاتے تھے۔
وہ امور خارجہ سے متعلق ایران کی اسٹریٹیجک کونسل کے سربراہ بھی تھے، یہ مشاورتی ادارہ ملک کی اعلیٰ ترین قیادت کو خارجہ پالسی پر سفارشات بھیجتا ہے، ایران کے اصلاح پسند صدر محمد خاتمی کے دور میں ڈاکٹر کمال خرازی 1997 سے 2005 کے دوران وزیر خارجہ رہے تھے۔
امریکی اخبار کا دعویٰ ہے کہ کمال خرازی پاکستان سے متعلق رابطہ کاری کی بھی نگرانی کر رہے تھے۔ اسی بنیاد پر کمال خرازی پر حملہ سفارتی کوششیں سبوتاژ کرنے کی کوشش قرار دیا جارہا ہے۔
تہران: ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ جنگ کے آغاز کے بعد سے 70 لاکھ ایرانیوں نے فوجی خدمات کے لیے رضاکارانہ طور پر خود کو پیش کیا ہے۔
ان کے مطابق ’ایک طاقتور قومی مہم‘ کے نتیجے میں لاکھوں ایرانیوں نے یہ اعلان کیا ہے کہ وہ ’ہتھیار اٹھانے اور اپنے وطن کا دفاع کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘
محمد باقر قالیباف نے کہا: ’ہم یہ پہلے بھی کر چکے ہیں اور دوبارہ کرنے کے لیے بھی تیار ہیں۔ آپ ہمارے گھر پر حملہ کرو گے تو پورا خاندان آپ کا مقابلہ کرے گا۔‘
لندن: برطانیہ کی وزارت دفاع نے تصدیق کی ہے کہ آئندہ ہفتے فوجی منصوبہ سازوں کا اجلاس برطانوی فوج کے مرکز میں ہو گا، جس میں آبنائے ہرمز سے متعلق صورتحال پر غور کیا جائے گا۔
اس سے قبل برطانوی وزیر خارجہ ایویٹ کوپر بتا چکی ہیں کہ وزرائے خارجہ کے درمیان ہونے والے اجلاس کے بعد فوجی منصوبہ سازوں کی سطح پر بھی بات چیت کی جائے گی۔
وزارت دفاع کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آئندہ ہفتے ہونے والے اجلاس میں ’آبنائے ہرمز کو قابلِ رسائی اور محفوظ بنانے کے عملی طریقہ کار پر غور کیا جائے گا۔‘
وزارت دفاع نے مزید بتایا کہ گذشتہ رات برطانوی فضائی رجمنٹ کے گنرز نے ایک ’انتہائی خطرناک‘ علاقے میں پرواز کرنے والے متعدد ایرانی ڈرونز کو کامیابی سے مار گرایا۔
نیو یارک: اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نیویارک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے فوری طور پر جنگ کے خاتمے اور تمام فریقوں کی جانب سے لڑائی روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا: ’ہم ایک ایسی وسیع تر جنگ کے دہانے پر کھڑے ہیں جو پورے مشرق وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے اور جس کے دنیا بھر پر سنگین اثرات ہوں گے۔‘
انتونیو گوتریس نے بڑھتی قیمتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ لوگ پہلے ہی مہنگی ہوتی توانائی اور خوراک کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں۔
اقوام متحدہ کے سربراہ نے تنازعات کو ’پر امن طریقے سے‘ حل کرنے پر زور دیا اور کہا کہ شہری تنصیبات کا احترام کیا جائے اور ان کی حفاظت کی جائے۔
انھوں نے مزید کہا: ’میرا پیغام بالکل واضح ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے لیے یہ وقت ہے کہ وہ اس جنگ کو روکیں جو انسانوں کے لیے شدید مشکلات کا باعث بن رہی ہے اور اس کے تباہ کن معاشی نتائج پہلے ہی سامنے آ چکے ہیں۔‘
انتونیو گوتریس نے ایران سے بھی اپیل کی کہ وہ ’اپنے ہمسایہ ممالک پر حملے بند کرے۔‘
تہران اور کرج سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ان شہروں پر نئے حملے کیے گئے ہیں۔
کرج پر2 حملوں میں پل کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ شہر ایران کے صوبہ البرز میں واقع ہے۔ البرز کے گورنر آفس میں سکیورٹی امور کے نائب نے بتایا کہ کرج میں ایک پل پر ہونے والے حملے کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔
نائب کے مطابق شہر کے پل کو نشانہ بنائے جانے کے باعث متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
اس کے بعد اسی پل پر دوسرے حملے کی بھی اطلاعات سامنے آئیں۔ بھی معلوم ہوا ہے کہ پہلے حملے کے بعد شہر کے بعض حصوں میں بجلی کی بندش ہوئی۔
منامہ/تہران : ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے بحرین میں واقع امریکی کمپنی ایمیزون (Amazon) کے کلاؤڈ کمپیوٹنگ ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ‘ارنا’ (IRNA) کے مطابق، یہ کارروائی خطے میں جاری کشیدگی اور ایران کے خلاف ہونے والے حالیہ حملوں اور ٹارگٹ کلنگ کے جواب میں کی گئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق حملہ بحرین کے علاقے حمالہ میں واقع بتلکو (Batelco) کے ہیڈ کوارٹر پر کیا گیا، جہاں ایمیزون ویب سروسز (AWS) کا انفراسٹرکچر موجود ہے۔
بحرین کی وزارتِ داخلہ نے تصدیق کی ہے کہ “ایرانی جارحیت” کے نتیجے میں ایک کمپنی کی تنصیبات میں آگ لگی، جسے بجھانے کے لیے سول ڈیفنس کی ٹیمیں فوری طور پر روانہ کی گئیں۔
ایمیزون نے اس مخصوص حملے پر براہِ راست تبصرہ نہیں کیا، تاہم کمپنی نے بحرین ریجن میں سروسز کے متاثر ہونے کی تصدیق کی ہے۔
IRGC کی جانب سے جاری کردہ بیان میں اس حملے کو “دشمن کے لیے پہلی عملی وارننگ” قرار دیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ “اگر انتباہات کو نظر انداز کیا گیا اور قتل و غارت گری کا سلسلہ جاری رہا، تو ہم ان تمام کمپنیوں کو مزید سخت سزا دیں گے جن کے نام ہم پہلے ہی ظاہر کر چکے ہیں۔ ان کمپنیوں کی مکمل تباہی کی ذمہ داری براہِ راست امریکی صدر پر عائد ہوگی۔”
1
ویانا: آسٹریا کی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی کئی درخواستیں موصول ہوئی تھیں، جنہیں ملک کے غیر جانبدارانہ قانون (Neutrality Law) کی بنیاد پر مسترد کر دیا گیا ہے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ ہر درخواست کا انفرادی طور پر جائزہ لیا جا رہا ہے اور وزارتِ خارجہ کے ساتھ مل کر حتمی فیصلہ کیا جاتا ہے۔ آسٹریا طویل عرصے سے فوجی غیر جانبداری کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
دوسری جانب، اسپین نے بھی واضح کیا ہے کہ اس کی فضائی حدود ان امریکی فوجی طیاروں کے لیے بند رہے گی جو اس تنازع میں ملوث ہیں۔ اسپین کو یورپی ممالک میں اس جنگ کا سب سے بڑا مخالف تصور کیا جا رہا ہے۔
علاوہ ازیں، اطالوی حکومت نے بھی گزشتہ ہفتے امریکی بمبار طیاروں کو سسلی میں قائم فوجی اڈہ استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ یورپی ممالک کے اس سخت موقف نے ایران کے خلاف امریکی عسکری نقل و حرکت کو محدود کر دیا ہے۔
ریاض/ماسکو: روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے، جس میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور سفارتی کوششیں تیز کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
کریملن کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے خطے میں جاری جنگ کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ گفتگو میں اس بات پر زور دیا گیا کہ دشمنی کا فوری خاتمہ اور طویل مدتی تصفیے کے لیے سیاسی و سفارتی کوششوں کو تیز کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
سعودی عرب ان دنوں ایرانی ساختہ ‘شاہد’ ڈرونز کے حملوں کی زد میں ہے، یہ وہی ڈرونز ہیں جو روس یوکرین جنگ میں استعمال کر رہا ہے۔
یوکرین کی پیشکش: یوکرین نے اپنے تجربے کی بنیاد پر سعودی عرب کو سستے ڈرون انٹرسیپٹرز (مار گرانے والے نظام) فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔ اس کے بدلے میں یوکرین خلیجی ممالک سے وہ مہنگے ایئر ڈیفنس میزائل حاصل کرنا چاہتا ہے جن کی اسے روسی حملوں کے خلاف ضرورت ہے۔
روسی صدر اور سعودی ولی عہد نے خبردار کیا کہ مشرقِ وسطیٰ کے بحران کی وجہ سے توانائی کی پیداوار اور نقل و حمل میں پیدا ہونے والی رکاوٹیں عالمی سطح پر انرجی سیکیورٹی کو متاثر کر رہی ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے تیل کی منڈیوں میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے اوپیک پلس (OPEC+) کے فریم ورک کے تحت باہمی تعاون کو جاری رکھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے روس اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتے ہوئے دوستانہ تعلقات اور کثیر جہتی تعاون پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا۔
تہران: ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے پاکستان سمیت ثالثوں کے ذریعے امریکی پیغامات موصول ہونےکی تصدیق کردی۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے ایک بار پھر امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی تردید کردی اور واضح کیا کہ پاکستان سمیت ثالثوں کے ذریعے پیغامات موصول ہوئے ہیں، امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات نہیں ہو رہے۔
برطانوی خبر ایجنسی نے سینئر ایرانی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ ثالثوں نےمنگل کوایران سےرابطہ کیا اور سفارتکاری جاری رکھنےپرگفتگو کی تاہم عارضی جنگ بندی کےلیےثالثوں کے ذریعےکوئی بات چیت نہیں ہوئی۔
اس سے قبل برطانوی خبر رساں ایجنسی نے کہا تھا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران تنازع پر گزشتہ روز پاکستانی ثالث کاروں سے بات کی۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی نائب صدر نے ثالثوں کے ذریعے ایران کو امریکی صدر کا سخت پیغام بھجوایا ہے۔
خبر ایجنسی کے ذرائع کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے پیغام بھیجا تھا کہ وہ کچھ امریکی مطالبات پورے ہونے پر جنگ بندی پر بات کرنے کے لیے تیار ہیں ، ان مطالبات میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا بھی شامل ہے۔
ادھر امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ ایرانی حکومت جنگ کےخاتمےکےلیے سنجیدہ مذاکرات میں شامل ہونےکو تیار نہیں۔
اسلام آباد: پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے ایران سے مذاکرات کی امریکی خواہش پر سوالات اٹھا دیے۔
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے سوال کرتے ہوئے کہا کہ اگر مذاکرات کی نیت ہے تو خطے میں فوجی کارروائیاں کیوں جاری ہیں؟ کیا مذاکرات کا نیا موقع دوبارہ حملے کی تیاری کے لیے وقفہ ہے؟
انہوں نے کہا کہ ایران پرانا فارمولا حملہ، جنگ بندی، مذاکرات، پھر حملہ مزید قبول نہیں کرے گا، کیا کوئی یقین دہانی ہے یہ سلسلہ دوبارہ نہیں دہرایا جائے گا؟ کیا ثالث امریکا کی ضمانتوں پر اعتماد کر سکتے ہیں؟
ایرانی سفیر کا کہنا تھا کہ عالمی برادری غور کرے کہ بار بار وعدہ خلافی کون کررہا ہے ؟ آخر کیوں معاہدے ٹوٹتے ہیں؟ کیا یہ حکمت عملی ہے یا اعتماد کا بحران؟
پیرس: امریکی صدر ٹرمپ فرانس کے خلاف جارحانہ انداز اپنائے ہوئے ہیں۔ انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں فرانس نے مدد نہیں کی۔ وہ فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں پر ذاتی نوعیت کی تنقید بھی کر چکے ہیں۔
بدھ کے روز ٹرمپ نے یہ تبصرہ بھی کیا کہ فرانسیسی صدر کی اہلیہ بریجیٹ میکخواں ان سے ’انتہائی برا سلوک‘ کرتی ہیں۔
ردِ عمل میں صدر میکخواں نے اس تبصرے کو غیر شائستہ اور نا موزوں قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جواب دینے کے بھی قابل نہیں۔
تاہم سٹریٹیجک امور پر بات کرتے ہوئے فرانسیسی صدر نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ مسلسل متضاد پیغامات دے رہی ہے۔
صدر میکخواں کا کہنا تھا: ’بہت زیادہ باتیں ہو رہی ہیں لیکن ہمیں استحکام، سکون اور امن کی طرف واپسی کی ضرورت ہے۔ یہ کوئی تماشہ نہیں ہے۔‘
انھوں نے کہا اگر آپ سنجیدہ ہونا چاہتے ہیں تو ایسا نہیں ہو سکتا کہ ایک روز آپ کوئی بات کریں اور اگلے روز اس کے الٹ بات کریں۔
لندن: برطانیہ کی وزیر خارجہ ایویٹ کوپر نے کہا ہے کہ عالمی جہاز رانی کے لیے آبنائے ہرمز ’فوری طور پر‘ کھولنے کی اشد ضرورت ہے۔
انھوں نے یہ بات ایک آن لائن اجلاس میں کہی جس میں 40 سے زیادہ ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ یہ ورچوئل اجلاس آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کے لیے سفارتی کوششوں کے تحت منعقد کیا گیا ہے۔
ایران کی جانب سے اس اہم سمندری راستے کی مؤثر ناکہ بندی نے بین الاقوامی تجارت کو شدید متاثر کیا ہے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث دو ہزار کے قریب جہاز پھنسے ہوئے ہیں، جن پر عملے کے لگ بھگ 20 ہزار افراد سوار ہیں۔
اجلاس سے خطاب میں برطانوی وزیرِ خارجہ نے ایران کی جانب سے کیے گئے اقدامات کو ’غیر ذمہ دارانہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان سے ’عالمی معاشی سلامتی کو نقصان‘ پہنچ رہا ہے۔
ایویٹ کوپر نے کہا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صرف 25 جہاز آبنائے ہرمز سے گزر پائے، جبکہ معمول کے دنوں میں اس راستے سے تقریباً 150 بحری جہاز گزرتے ہیں۔
سیول: فرانسیسی صدر ایمانوئل میکروں نے ایران کے خلاف فوجی طاقت کے استعمال کو “غیر حقیقی” اور عالمی قانون سے متصادم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ طاقت کے ذریعے جوہری پروگرام کا مسئلہ حل نہیں کیا جا سکتا۔
جنوبی کوریا کے دو روزہ سرکاری دورے کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فرانسیسی صدر نے مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ کشیدہ صورتحال اور آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کے بحران پر فرانس کا دوٹوک موقف پیش کیا۔
صدر میکروں نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے جانے والے فضائی حملوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چند ہفتوں کی ٹارگٹڈ کارروائی سے جوہری پروگرام کا طویل مدتی حل نہیں نکل سکتا۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ “اگر سفارتی اور فنی مذاکرات کے لیے کوئی فریم ورک موجود نہ ہوا، تو صورتحال چند ماہ یا سالوں میں دوبارہ بگڑ سکتی ہے۔”
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو فوجی طاقت سے واگزار کرانے کی تجاویز کو مسترد کرتے ہوئے میکروں نے کہا کہ ایسی مہم میں طویل وقت لگے گا اور اس سے خطے میں موجود تمام بحری جہاز ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے میزائلوں اور ساحلی خطرات کی زد میں آ جائیں گے۔
فرانسیسی صدر نے ڈونلڈ ٹرمپ کے تضاد بیانی پر مبنی بیانات کو نیٹو (NATO) جیسے اتحادوں کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ فرانس ان حملوں میں شامل نہیں کیونکہ یہ عالمی قوانین کے دائرہ کار سے باہر ہیں۔
بین الاقوامی سمٹ کے ذریعے آبنائے ہرمز کھلوانے کی برطانوی تیاری
امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے واشنگٹن کو بتایاہے کہ ایرانی حکومت امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے سنجیدہ مذاکرات میں شامل ہونے کے لیے تیار نہیں۔
نیویارک ٹائمزکے مطابق تہران خود کو جنگ میں مضبوط پوزیشن پر دیکھتا ہے اور امریکی سفارتی مطالبات کا جواب دینے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔اگرچہ ایران رابطے کے ذرائع کھلے رکھنے کے لیے تیار ہے، تاہم وہ واشنگٹن پر بھروسہ نہیں کرتا اور نہیں سمجھتا کہ صدر امریکی مذاکرات میں سنجیدہ ہیں۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ تہران اس وقت سفارتی راستے پر تب ہی آگے بڑھ سکتا ہے جب واشنگٹن جنگ ختم کرنے کے لیے حقیقی سنجیدگی دکھائے، نہ کہ محض عارضی جنگ بندی کے لیے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ ملکی بقا کا مسئلہ ہے اور وہ کسی ممکنہ امن معاہدے پر مشکوک ہیں، کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ مستقبل میں حملے دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں، چاہے کوئی معاہدہ بھی ہو جائے۔
انٹیلی جنس جائزوں کے مطابق ایران اپنے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام پر کسی قسم کی رعایت دینے سے انکار کرتا ہے اور اسے اپنی قومی خودمختاری کا حصہ سمجھتا ہے۔
مشرق وسطیٰ کشیدگی کے اثرات، برطانیہ میں پیٹرول اسٹیشنوں پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی جنگ کے تناظر میں قوم سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اپنے “اہم تزویراتی اہداف” کے قریب پہنچ چکا ہے اور کارروائی “بہت جلد مکمل” کر دی جائے گی۔
پاکستانی وقت کے مطابق جمعرات کی صبح چھ بجے کیے گئے خطاب میں توقع کی جا رہی تھی کہ صدر جنگ کے خاتمے یا نئے حملوں کا اعلان کریں گے، تاہم انہوں نے کسی واضح جنگ بندی یا نئی عسکری مہم کا اعلان نہیں کیا، بلکہ جاری کارروائیوں کو حتمی مرحلے میں داخل قرار دیا۔
خطاب کے اہم نکات
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ گزشتہ چار ہفتوں میں امریکی افواج نے “تیز، فیصلہ کن اور بھرپور کامیابیاں” حاصل کیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی پہلی ترجیح سفارتکاری تھی، مگر ایران نے جوہری پروگرام سے متعلق معاہدے کی ہر کوشش مسترد کی۔
ٹرمپ کے مطابق امریکا نے ایران کی ایسی ہتھیاروں کی صلاحیتوں کو بھی نشانہ بنایا جن کے بارے میں “کسی کو علم نہیں تھا”۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی بحریہ “مکمل طور پر تباہ”، فضائیہ شدید متاثر اور میزائل پروگرام “تقریباً ختم” ہو چکا ہے۔
صدر کے بقول امریکی کارروائیوں کا مقصد ایران کی عسکری طاقت کو مفلوج کرنا، پراکسی گروپس کی حمایت ختم کرنا اور جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت روکنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ “اہم تزویراتی اہداف تکمیل کے قریب ہیں” اور امریکا “بہت تیزی سے کام مکمل کرے گا”۔
صدر ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں اتحادی ممالک — اسرائیل، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، کویت اور بحرین — کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ امریکا انہیں “کسی صورت نقصان نہیں پہنچنے دے گا”۔
خطاب سے چند گھنٹے قبل ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے جنگ بندی کی درخواست کی ہے، تاہم تہران نے اس دعوے کی تردید کی۔ اس صورتحال کے باعث ممکنہ سفارتی پیش رفت سے متعلق ابہام برقرار ہے۔
ماہرین کے مطابق صدر کے بیان سے یہ تاثر ملتا ہے کہ امریکا عسکری برتری کے بعد کسی مرحلہ وار اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے، تاہم واضح حکمت عملی یا ٹائم لائن سامنے نہیں آئی۔
ایرانی میڈیا نے بتایا ہے کہ اہم ایرانی سیاست دان کمال خرازی تہران پر ایک فضائی حملے میں شدید زخمی ہو گئے ہیں،ان کی اہلیہ کے جاں بحق ہونے کی اطلاع ہے۔
خرازی سابق وزیر خارجہ ہیں، اور وہ ایران میں ایک نسبتاً معتدل شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔ وہ سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مشیر بھی رہ چکے ہیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ حالیہ دنوں میں ایران کی موجودہ قیادت کو زیادہ معقول قرار دیتے رہے ہیں۔ ایسے میں اس مبینہ حملے کے بعد یہ سوال اٹھ رہے ہیں کہ خرازی کو کیوں نشانہ بنایا گیا ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے منگل کو پاکستان میں رابطہ کاروں سے ایران کے تنازع پر بات چیت کی تھی، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ جنگ ختم کرنے کی کوششوں میں ان کا کردار بڑھ رہا ہے۔
ایک باخبر ذریعے نے روئٹرز کو بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر وینس نے نجی طور پر یہ پیغام دیا کہ ٹرمپ جنگ بندی کے لیے تیار ہیں، بشرطیکہ امریکہ کے کچھ مطالبات پورے کیے جائیں۔
جے ڈی وینس نے ایک سخت پیغام بھی پہنچایا، جس میں کہا گیا کہ ٹرمپ کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے اور خبردار کیا کہ اگر تہران کسی معاہدے پر آمادہ نہ ہوا تو ایرانی تنصیبات پر حملے میں اضافہ کیا جائے گا۔
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران جنگ پر پاکستانی وقت کے مطابق صبح 6 بجے خطاب کریں گے۔
وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ اپنی آج کی تقریر میں ایران جنگ خاتمے کے لیے 2 سے 3 ہفتے کے ٹائم ٹیبل کا اعادہ کر سکتے ہیں۔
وائٹ ہاؤس نے خطاب کی تفصیلات جاری نہیں کیں، تاہم یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے جنگ میں وقفے کی خواہش ظاہر کی ہے، حالانکہ اس کے ساتھ انہوں نے کچھ شرائط بھی عائد کیں جو جنگ کی غیر یقینی صورتحال کو ظاہر کرتی ہیں۔
عرب میڈیا کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے ایک ماہ بعد ڈونلڈ ٹرمپ کا پہلا پرائم ٹائم خطاب ہوگا۔ عام طور پر امریکی صدور بڑے تنازعات کے آغاز پر جلد خطاب کرتے ہیں، اس تاخیر کو غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے۔
حالیہ سروے کے مطابق ٹرمپ کی مقبولیت 40 فیصد سے نیچے آ چکی ہے جبکہ مخالفت کی شرح 50 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے۔ عوامی سطح پر نہ صرف جنگ بلکہ اس کے معاشی اثرات پر بھی تشویش بڑھ رہی ہے۔
بغداد/واشنگٹن: امریکی محکمہ خارجہ نے عراق میں اپنے سفارتی مراکز اور اہلکاروں پر ہونے والے حالیہ حملوں کے ذمہ داروں کی نشاندہی کے لیے 30 لاکھ ڈالر (تقریباً 83 کروڑ پاکستانی روپے) کے بڑے انعام کا اعلان کر دیا ہے۔
امریکی پروگرام “ریوارڈز فار جسٹس” (Rewards for Justice) کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (سابقہ ٹویٹر) پر جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ رقم ان افراد یا گروہوں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر دی جائے گی جو بغداد میں قائم امریکی سفارت خانہ،بغداد ڈپلومیٹک سپورٹ سینٹر اور اربیل (کردستان ریجن) میں قائم امریکی قونصل خانے پر حملوں میں ملوث ہیں۔
امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں کے پیچھے ایران نواز مسلح گروہ اور ان کے سہولت کار ملوث ہیں۔ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ ان حملوں کا مقصد نہ صرف امریکی سفارتی عملے کو نقصان پہنچانا ہے بلکہ عراق کے استحکام کو بھی خطرے میں ڈالنا ہے۔
محکمہ خارجہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ان حملوں کی منصوبہ بندی، معاونت یا عمل درآمد کرنے والوں کے بارے میں کسی بھی قسم کی ٹھوس معلومات ‘سگنل’، ‘ٹیلی گرام’ یا ‘واٹس ایپ’ کے ذریعے فراہم کریں۔ حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ معلومات دینے والے کی شناخت مکمل طور پر خفیہ رکھی جائے گی۔
تل ابیب/بیروت: جنوبی لبنان میں اسرائیلی زمینی کارروائیوں اور حزب اللہ کے ساتھ ہونے والے خونریز مقابلوں میں شدت آ گئی ہے۔
اسرائیلی فوج (IDF) نے باضابطہ طور پر تصدیق کی ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مختلف جھڑپوں میں 48 افسران اور سپاہی زخمی ہوئے ہیں۔
اسرائیلی عسکری ذرائع کے مطابق، لبنان اور ایران کے ساتھ جنگ کے آغاز سے اب تک اسرائیلی فوج کے 10اہلکار ہلاک، 309 زخمی ہوئے ہیں، حالیہ 24 گھنٹے میں جنوبی لبنان کے محاذ پر 48 اہلکار زخمی ہوئے۔
رپورٹس کے مطابق جنوبی لبنان کے سرحدی علاقوں، خاص طور پر ناقورہ، شمع اور بیت لیف میں گھمسان کی جنگ جاری ہے۔ حزب اللہ کی جانب سے ٹینک شکن میزائلوں اور ڈرون حملوں نے اسرائیلی پیش قدمی کو سخت مزاحمت کا نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیلی چیف آف اسٹاف نے بھی حالیہ بیان میں افرادی قوت کی کمی اور ریزرو فوجیوں پر بڑھتے ہوئے دباؤ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ٹوکیو: فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اپنے دورہ جاپان کے دوران مشرق وسطیٰ میں فوری جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری آمد و رفت کی بحالی پر زور دیا ہے۔ ٹوکیو کے اکاساکا پیلس میں جاپانی وزیراعظم ثنائی تاکائیچی کے ساتھ اہم ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے عالمی قوانین کی پاسداری اور خطے میں امن کی واپسی کے لیے مشترکہ عزم کا اظہار کیا۔
فرانسیسی صدر نے کہا کہ فرانس اور جاپان دونوں بین الاقوامی قوانین اور جمہوری اقدار پر یقین رکھتے ہیں، اسی لیے ہم خطے میں امن کی واپسی اور فوری جنگ بندی کے حامی ہیں۔
صدر میکرون نے آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کے آزادانہ اور محفوظ گزرنے کو عالمی تجارت کے لیے ناگزیر قرار دیا۔
جاپانی وزیراعظم ثنائی تاکائیچی نے کہا کہ دونوں ممالک تنازع کو ختم کرنے اور عالمی سپلائی چین کو مستحکم رکھنے کے لیے کوشاں ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ سنگین عالمی حالات میں فرانس اور جاپان کا تعاون انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے نہ صرف دفاعی شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا بلکہ نایاب معدنیات (Rare Earths)، جوہری توانائی، خلائی ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) میں بھی شراکت داری کا اعادہ کیا۔
واضح رہے کہ صدر میکرون کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی کے حوالے سے اتحادی ممالک پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ فرانسیسی صدر ٹوکیو میں قیام کے بعد اپنے اگلے مرحلے میں جنوبی کوریا روانہ ہوں گے۔
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے امریکہ سے جنگ بندی کی درخواست کی ہے۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں ٹرمپ نے لکھا: ’نئی ایرانی حکومت کے صدر اپنے پیش روؤں کے مقابلے میں کہیں کم انتہا پسند اور کہیں زیادہ ذہین ہیں۔ انھوں نے ابھی ابھی امریکہ سے کہا ہے کہ جنگ بند کر دی جائے۔‘
ٹرمپ نے لکھا کہ ’ہم اس پر تب غور کریں گے جب آبنائے ہرمز کھلے گی اور رکاوٹوں سے پاک ہو گی۔‘

امریکی صدر نے اپنی پوسٹ میں مزید لکھا: ’(جب تک آبنائے ہرمز نہیں کھلتی) اس وقت تک ہم دھماکے کر کے ایران کو فنا کرنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ واپس پتھر کے دور میں بھیج دیں گے۔‘
ٹرمپ کی یہ پوسٹ بظاہر ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے بیان کا رد عمل لگتی ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ایران کے پاس جنگ کو ختم کرنے کے لیے ’ضروری ارادہ‘ موجود ہے، بشرطیکہ کچھ شرائط پوری کی جائیں۔
پزشکیان کے مطابق ان شرائط میں ’لازمی ضمانتیں‘ شامل ہیں تاکہ مستقبل میں کسی بھی قسم کی جارحیت کو روکا جا سکے۔
یہ بیان پزشکیان اور یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوستا کے درمیان ایک ٹیلیفونک گفتگو کے دوران سامنے آیا، جس کی تفصیلات ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی آئی آر این اے نے جاری کیں۔
انھوں نے کہا تھا: ’ہم نے کبھی بھی کشیدگی یا جنگ کی خواہش نہیں کی اور صورتحال کو معمول پر لانے کا حل جارحانہ حملوں کا خاتمہ ہے۔‘
تہران: ایران کی وزارت خارجہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو ’جھوٹا اور بے بنیاد‘ قرار دیا ہے کہ ایران نے امریکہ سے جنگ بندی کی درخواست کی ہے۔
ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق یہ بیان وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کی جانب سے دیا گیا۔
یہ تردید ڈونلڈ ٹرمپ کی اس سوشل میڈیا پوسٹ کے بعد آئی ہے جس میں انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ’ایران کے نئے صدر نے جنگ بندی کی درخواست کی ہے لیکن وہ تب اس پر غور کریں گے جب آبنائے ہرمز کھلے گی۔‘
ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ ’نئے صدر‘ سے ان کی کیا مراد ہے۔ کیوں کہ سنہ 2024 میں منتخب ہونے کے بعد سے مسعود پزشکیان ہی ایران کے صدر ہیں۔
تہران: ایران میں پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز ’اس قوم کے دشمنوں کے لیے‘ بند رہے گی۔
سرکاری ٹی وی پر بیان میں پاسداران انقلاب نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر اس کے بحری دستوں کا ’مضبوط اور مکمل‘ قبضہ ہے۔
کچھ دیر قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا تھا کہ ایران نے جنگ بندی کی درخواست کی ہے۔
ٹرمپ نے لکھا تھا کہ ’ہم اس پر تب غور کریں گے جب آبنائے ہرمز کھلے گی اور رکاوٹوں سے پاک ہو گی۔‘
امریکی صدر کے اس دعوے پر ایران کی جانب سے تا حال کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا۔
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو پتھروں کے دور میں بھیجنے کی دھمکی دے دی۔
اپنے بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے نئے صدر پہلے والوں سے کہیں کم شدت پسند اور کہیں زیادہ ذہین ہیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایران کی نئی رجیم کے صدر نے ابھی امریکا سے جنگ بندی کی درخواست کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم جنگ بندی کی درخواست پر غور کریں گے۔ درخواست پر تب غور کریں گے جب آبنائے ہرمز کھلی اور مکمل طور پر محفوظ ہوجائے گی۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اس وقت تک ہم ایران کو مکمل طور پر تباہ یا پتھر کے زمانے میں واپس بھیج دیں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو پتھروں کے دور میں بھیجنے کی دھمکی دے دی۔
اپنے بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے نئے صدر پہلے والوں سے کہیں کم شدت پسند اور کہیں زیادہ ذہین ہیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایران کی نئی رجیم کے صدر نے ابھی امریکا سے جنگ بندی کی درخواست کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم جنگ بندی کی درخواست پر غور کریں گے۔ درخواست پر تب غور کریں گے جب آبنائے ہرمز کھلی اور مکمل طور پر محفوظ ہوجائے گی۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اس وقت تک ہم ایران کو مکمل طور پر تباہ یا پتھر کے زمانے میں واپس بھیج دیں گے۔
امریکی ریاست ڈیلاویئر سے ڈیموکریٹک سینیٹر اور سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے اہم رکن کرس کونز نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف فوجی کارروائی کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے امریکی معیشت کے لیے تباہ کن قرار دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر جاری کردہ اپنے ایک بیان میں سینیٹر کونز نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران میں شروع کی گئی “اپنی مرضی کی جنگ” (War of Choice) نے امریکہ میں ہر چیز کو مہنگا کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس جنگ کے منفی اثرات اب عام امریکی کی زندگی پر براہ راست اثر انداز ہو رہے ہیں۔
سینیٹر کونز نے مہنگائی کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ یہ بوجھ اب صرف پٹرول پمپوں تک محدود نہیں رہا۔ ان کے مطابق بنیادی ضروریات: پٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے ساتھ ساتھ اشیائے خوردونوش (گروسری) کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔
یوٹیلیٹی بلز: عام شہریوں کے لیے بجلی، گیس اور دیگر یوٹیلیٹی بلز کی ادائیگی مشکل ہو چکی ہے۔
ڈیموکریٹک سینیٹر نے ٹرمپ انتظامیہ پر شفافیت کی کمی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اب تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ جنگ آخر کیوں شروع کی گئی اور اس کا اختتام کب ہوگا۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اس مہم جوئی کی اصل قیمت امریکی خاندانوں کو اپنی جیبوں سے ادا کرنی پڑ رہی ہے۔
دنیا بھر کی نظریں آج بدھ کی شام وائٹ ہاؤس کے اوول آفس پر مرکوز ہیں، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے حوالے سے ایک اہم فیصلہ کرنے والے ہیں۔
یہ اعلان وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک مختصر پیغام میں کیا۔انہوں نے لکھا:ہمارے ساتھ رہیں… مشرقی امریکی وقت کے مطابق رات 9 بجے صدر ٹرمپ قوم سے خطاب کریں گے اور ایران کے بارے میں اہم اپڈیٹ دیں گے۔
اس مختصر اعلان کے بعد امریکی عوام، صحافیوں اور تجزیہ کاروں میں مختلف قیاس آرائیاں شروع ہوگئیں۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ ممکنہ طور پر جنگ کے خاتمے کا اعلان کر سکتے ہیں، خاص طور پر اس لیے کہ وہ اور ان کی انتظامیہ کے دیگر عہدیدار حالیہ دنوں میں اس طرف اشارہ کر چکے ہیں کہ تنازع اپنے اختتام کے قریب ہے۔
دوسری جانب کچھ حلقے یہ بھی سمجھتے ہیں کہ امریکہ ایران کے اندر زمینی فوج بھیجنے کا اعلان کر سکتا ہے۔
تہران: ایران کے نو منتخب سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کے سربراہ شیخ نعیم قاسم کے نام ایک تہنیتی پیغام ارسال کیا ہے، جس میں انہوں نے تحریکِ مزاحمت کی قیادت کرنے پر حزب اللہ کے کردار کو بھرپور طریقے سے سراہا ہے۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ‘ایسنا’ (ISNA) کے مطابق، سپریم لیڈر نے اپنے تحریری بیان میں حزب اللہ کی قیادت کو “استقامت، پامردی اور صبر” کی علامت قرار دیا۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے حزب اللہ کو موجودہ تحریک کی قیادت کرنے پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ تنظیم نے مشکل ترین حالات میں بھی ثابت قدمی کا ثبوت دیا ہے۔
انہوں نے حزب اللہ کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ قیادت “عالمِ اسلام کے بدترین دشمنوں” کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوئی ہے۔
پیغام میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ایران حزب اللہ کی اخلاقی اور تزویراتی حمایت جاری رکھے گا، جو خطے میں مزاحمتی بلاک کا ایک اہم ستون ہے۔
جنوبی لبنان کے سرحدی عیسائی قصبوں میں رہائش پذیر شہریوں نے شہرچھوڑنے سے انکار کردیا۔
لبنانی فوج نے بنت جبیل ضلع کی سرحدی بستیوں رمیش اور عین ابل میں اپنے مراکز خالی کر دیے ہیں۔ یہ اقدام جنوبی لبنان کی گہرائی میں اسرائیلی پیش قدمی کے نتیجے میں متوقع تھا۔ انخلا کے ساتھ ہی سرحدی دیہات کے باسیوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے، کیونکہ اس کے سنگین حفاظتی اور انسانی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
رمیش کے میئر حنا العمیل نے عرب میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ مقامی لوگ چاہتے تھے فوج ان مراکز کو خالی نہ کرے کیونکہ وہ ریاست اور قانون کی علامت ہے، لیکن ہمیں پہلے ہی بتا دیا گیا تھا کہ اسرائیلی پیش قدمی کی صورت میں فوج ان مقامات پر نہیں رہ سکے گی۔ انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی فوج ابھی رمیش میں داخل نہیں ہوئی بلکہ اس کے گردونواح میں موجود ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ چھ ہزار کے قریب باسی اپنی سرزمین چھوڑ کر کہیں نہیں جائیں گے۔
دوسرے سرحدی قصبے عین ابل کے میئر ایوب خریش نے بھی کہا کہ وہ اپنی زمین سے وابستہ ہیں اور مشکلات کے باوجود اسے نہیں چھوڑیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ فوج کے انخلا کے بعد اب اپنے قصبے کی حفاظت ہماری اپنی ذمہ داری ہے۔ یونیفیل سے رابطہ کیا تھا لیکن بتایا گیا کہ بین الاقوامی افواج کو اپنے مراکز نہ چھوڑنے کی ہدایات ملی ہیں۔
العمیل نے یونیفیل سے مطالبہ کیا کہ وہ لبنانی فوج کے عارضی متبادل کے طور پر قصبے میں تعینات ہو۔
فوج کے انخلا کا یہ سلسلہ صرف رمیش اور عین ابل تک محدود نہیں رہا بلکہ بنت جبیل کے دیگر علاقوں برعشیت، الطیری اور بیت یاحون کے مراکز بھی خالی کر دیے گئے ہیں۔ لبنان پر اسرائیلی جنگ کو ایک ماہ مکمل ہونے پر بے گھر افراد کی تعداد 10 لاکھ 50 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جن کے لیے ملک بھر میں 600 سے زائد مراکز قائم کیے گئے ہیں۔
لبنانی عسکری ذریعے نےبتایا ہے کہ ان مقامات کا انخلا اسرائیلی افواج کی پیش قدمی کے باعث نا گزیرہو گیا تھا۔اسرائیلی افواج جغرافیائی طور پر آگے بڑھ رہی ہوں توہمارے فوجی پیچھے عسکری مراکز میں نہیں رہ سکتے۔
لندن: مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث بند ہونے والی عالمی تجارت کی اہم ترین گزرگاہ، آبنائے ہرمز، کو دوبارہ کھلوانے کے لیے برطانیہ نے کمر کس لی ہے۔ برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ ان کا ملک رواں ہفتے 35 ممالک کے نمائندوں کی میزبانی کرے گا تاکہ سفارتی اور عسکری سطح پر جہاز رانی کی آزادی کو بحال کیا جا سکے۔
اجلاس کی قیادت برطانوی وزیر خارجہ یوویٹ کوپر کریں گی۔ اس میں پھنسے ہوئے بحری جہازوں اور ملاحوں کی بحفاظت واپسی اور اشیائے ضروریہ کی نقل و حرکت شروع کرنے کے اقدامات پر غور ہوگا۔
سیاسی مذاکرات کے فوراً بعد عسکری ماہرین کا اجلاس بلایا جائے گا تاکہ مشترکہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے آبنائے کو محفوظ بنایا جا سکے۔
وزیر اعظم نے واضح کیا کہ برطانیہ اس جنگ کا حصہ نہیں بنے گا۔ انہوں نے کہا، “یہ ہماری جنگ نہیں ہے اور نہ ہی اس تنازعے میں فریق بننا ہمارے قومی مفاد میں ہے۔”
کیئر سٹارمر کے مطابق آبنائے ہرمز توانائی کا اہم راستہ ہے اور اسے کھولنا برطانیہ میں مہنگائی کم کرنے اور اخراجات میں معاونت کا سب سے مؤثر طریقہ ہے۔
ایک سوال کے جواب میں برطانوی وزیر اعظم نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تعلقات میں کسی ممکنہ تناؤ کے تاثر کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ برطانیہ کو امریکہ یا یورپ میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ دونوں کے ساتھ مضبوط تعلقات برقرار رکھنا ہی ملکی مفاد میں ہے۔
واشنگٹن: برطانوی اخبار ٹیلی گراف کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ امریکہ کو نیٹو سے نکالنے پر ’سنجیدگی سے غور‘ کر رہے ہیں۔
اخبار کے مطابق ٹرمپ نے نیٹو اتحاد کو ’کاغذی شیر‘ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ برطانیہ کے پاس بحریہ نہیں ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ مشرق وسطیٰ میں تنازع کے بعد نیٹو میں امریکہ کی رکنیت پر نظر ثانی کریں گے تو ٹرمپ کا کہنا تھا: ’اوہ ہاں، میں تو کہتا ہوں کہ یہ معاملہ اب نظرثانی سے بھی آگے جا چکا ہے۔۔۔‘
امریکی صدر نے مزید کہا: ’میں کبھی بھی نیٹو سے قائل نہیں ہوا۔ میں ہمیشہ جانتا تھا کہ یہ ایک کاغذی شیر ہے اور یہ بات پوتن بھی جانتے ہیں۔‘
برطانیہ کے جنگی بحری بیڑے کی حالت کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا: ’آپ کے پاس تو بحریہ ہی نہیں ہے۔ آپ بہت پرانے ہیں اور آپ کے پاس ایسے طیارہ بردار جہاز تھے جو کام ہی نہیں کرتے۔‘
آج صبح ہونے والے حملوں کے بعد اسرائیل بھر میں کم از کم 25 افراد زخمی ہوگئے ہیں، جنہیں 20 مختلف مقامات پر نشانہ بنایا گیا۔
اس سے قبل کی اطلاعات کے مطابق بنی براک میں زخمی ہونے والا 10 سالہ لڑکا اور 11 سالہ بچی اب تشویشناک حالت میں ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق وسطی ایران کے شہر اصفہان میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق یہ دھماکے ملک کے وسطی حصے میں واقع اس اہم شہر میں ہوئے، تاہم فوری طور پر ان کی نوعیت اور نقصانات کی تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔
متحدہ عرب امارات کی ریاست فجیرہ کے حکام کا کہنا ہے کہ الریفا میں ایک فارم پر روکے گئے ایک ڈرون کا ملبہ گرنے سے ایک شخص ہلاک ہو گیا ہے۔
فجیرہ میڈیا آفس کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مرنے والا شخص بنگلہ دیشی شہری تھا۔
یاد رہے کہ ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے حملے کے نتیجے میں شروع ہونے والی جنگ کے آغاز سے اب تک متحدہ عرب امارات نے 1977 ڈرونز اور 433 بیلسٹک میزائل روکے ہیں۔
قطر کی وزارتِ دفاع کے مطابق ایران کی جانب سے داغے گئے تین کروز میزائلوں سے قطر کو نشانہ بنایا گیا، جن میں سے ایک میزائل آئل ٹینکر سے جا ٹکرایا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں وزارتِ دفاع نے کہا کہ دو میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا، جبکہ تیسرا میزائل قطر انرجی کے زیرِ استعمال ایک ٹینکر سے ٹکرایا۔
وزارت کے مطابق ٹینکر پر موجود 21 افراد پر مشتمل عملے کو بحفاظت نکال لیا گیا، اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

اسرائیل کی ایمرجنسی سروسز میگن ڈیوڈ ایڈوم کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل حملوں کی اطلاعات کے بعد اس کی ٹیموں کو متعدد علاقوں میں تعینات کر دیا گیا ہے۔
اسرائیلی فوج نے مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بجے سے تھوڑا پہلے کہا تھا کہ اس نے ایران سے فائر کیے گئے میزائلوں کی ایک نئی لہر کا پتہ لگایا ہے۔
ایمرجنسی سروسز کا کہنا ہے کہ تل ابیب کے مشرق میں بنی بریک میں ایک 11 سالہ لڑکی سمیت تین افراد کو طبی امداد دی گئی ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ 11 سالہ لڑکی کی حالت تشویشناک ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایرانی فوج نے مزید میزائل داغے ہیں، جو اس بار ملک کے شمال اور جنوب کی جانب گئے۔
یہ حملہ اس کے فوراً بعد ہوا جس میں وسطی اسرائیل کو نشانہ بنایا گیا تھا اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔
وسطی اسرائیل میں دھماکے سنے گئے جب ایران نے میزائل داغے گئے ہیں۔
چینل 12 کے مطابق وسطی اسرائیل میں “شدید دھماکے” اور “کئی کریش سائٹس” رپورٹ کی گئی ہیں۔
اس نے بتایا کہ حملے کے دوران گُش ڈان، شارون اور سامیریا کے علاقوں میں الارم بجے ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ ہلاکتوں کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔

ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے ڈونلڈ ٹرمپ کے نام ایک پیغام میں کہا ہے کہ ’آبنائے ہرمز یقیناً دوبارہ کھلے گی، لیکن آپ کے لیے نہیں؛ یہ ان لوگوں کے لیے کھلی رہے گی جو ایران کے نئے قوانین کی تعمیل کریں گے۔
اپنے ایکس اکاؤنٹ سے جاری پیغام میں عزیزی نے ایران کے 1979 کے انقلاب کے بعد کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’مہمان نوازی کے 47 سال ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئے ہیں۔
عزیزی کا مزید کہنا ہے کہ ٹرمپ نے بالآخر ’حکومت کی تبدیلی‘ کا اپنا خواب پورا کر لیا ہے لیکن یہ تبدیلی خطے کی سمندری حکومت میں آئی ہے۔
اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ گزشتہ شب جنوبی لبنان میں تعینات ایک ڈرون کو زمینی سے فضاء تک مار کرنے والے میزائل نے نشانہ بنایا اور گرادیا۔
فوج نے مزید کہا کہ ڈرون گرنے کے بعد کسی جانی و مالی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔
ایک ڈرون شمالی اسرائیل میں کریات شمونا کے اوپر داخل ہوا ہے۔
اس واقعے کے بعد صفد علاقے میں الارم بج گئے اور ڈرون کو پکڑنے کے لیے تلاش جاری ہے۔

اسرائیلی فوج نے ایران پر جنگ کے پہلے مہینے میں کیے گئے حملوں پر تفصیلات جاری کی ہیں۔
جس کے مطابق “800 سے زیادہ فضائی حملے کیے گئے اور تقریباً 16,000 مختلف قسم کے ہتھیار استعمال کیے گئے”۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ 2,000 سے زائد ایرانی فوجی اور کمانڈر ہلاک ہوئے اور 4,000 سے زیادہ مقامات پر حملے کیے گئے۔
ایران کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں آیا۔
ایرانی حکام کے مطابق اب تک امریکی اور اسرائیلی حملوں میں 1,937 افراد شہید ہو چکے ہیں، جن میں 240 خواتین اور 212 بچے شامل ہیں۔ شہید ہونے والوں میں ایک آٹھ ماہ کا بچہ بھی شامل ہے۔
ایران اسرائیلی حملوں میں کم از کم 10 ایرانی نرسیں شہید ہوگئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق یہ نرسیں یا تو موقع پر شہید ہوئیں یا اپنی خدمات انجام دیتے ہوئے متاثر ہوئیں۔
تاہم اس کے باوجود ملک میں طبی خدمات بغیر کسی رکاوٹ کے جاری ہیں۔ یہ معلومات نرسنگ سسٹم آرگنائزیشن کے ڈائریکٹر جنرل نے فراہم کیں۔

عراقی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ عراق کے دارالحکومت بغداد سے ایک امریکی فری لانس صحافی کو اغوا کر لیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق مشتبہ اغواکاروں میں سے ایک کا تعلق ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا سے ہے۔
ال مانیٹر نامی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ شیلی کٹلسن کو منگل کی شام اغوا کیا گیا تھا۔ وہ ال مانیتر کے لیے خبریں فائل کیا کرتی تھیں۔
عراقی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے رپورٹر کے اغوا کاروں کا تعاقب کیا جس کے نتیجے میں اغوا کاروں میں سے ایک کار الٹ گئی اور ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ایران سے منسلک ملیشیا گروپ کتائب حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو عراقی حکام نے حراست میں لیا ہے۔
اسسٹنٹ سیکرٹری آف سٹیٹ برائے گلوبل پبلک افیئر ڈیلن جانسن کٹلسن کا نام لیے بغیر ایک امریکی صحافی کے اغوا کی تصدیق کی ہے۔
اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اُس نے یمن سے داغے گئے ایک میزائل کو جنوبی اسرائیل کی طرف آگے بڑھتے ہوئے فضائی دفاعی نظام کے ذریعے مار گرایا۔ یہ میزائل ایران‑متعلق حوثی باغیوں نے داغنے کا دعویٰ کیا ہے، جو حالیہ اسرائیل‑امریکہ اور ایران کے تنازع میں پہلی بار یمن کی سرزمین سے حملہ کیا گیا۔ اسرائیل کے دفاعی نظام نے میزائل کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا اور اس واقعے میں کسی کے زخمی یا ہلاک ہونے کی رپورٹ سامنے نہیں آئی۔
اس واقعے کے دوران جنوب مشرقی اسرائیل میں ہوائی حملے کی وارننگ سائرن بجائے گئے ہیں۔

امریکی و اسرائیلی طیاروں نے ایران کے شہری علاقوں کو نشناہ بنایا ہے۔دارالحکومت کے دیگر علاقوں، خاص طور پر مضافات میں بھی مزید دھماکوں کی اطلاعات ہیں۔
اطلاعات کے مطابق دیگر شہروں پر بھی حملے ہوئے ہیں، جن میں اہواز، شیراز، اصفہان، کرج اور کرمانشاہ شامل ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں کئی شہری مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں تہران کے مغرب میں کینسر کی ادویات بنانے والی ایک دواسازی کمپنی، اصفہان کی اسٹیل انڈسٹریز، بندر عباس کا تجارتی بندرگاہ، مغربی ایران کے بروجن میں اسٹیل فیکٹری، بوشہر میں موسمیاتی مرکز اور مالاب میں رہائشی کمپلیکس شامل ہیں۔
ایرانیوں کے نزدیک یہ سنجیدہ خلاف ورزیاں ہیں۔ امریکی اور اسرائیلی افواج شہری سہولیات کو تباہ کر رہی ہیں۔
ایران کے ہرمزگان صوبے کے سینئر اہلکار، احمد نفیسی نے بتایا ہے کہ چند گھنٹے قبل دشمن کے لڑاکا طیاروں نے بندر عباس میں واقع شہید حقانی مسافر جیٹ پر بمباری کی۔
انہوں نے اس شہری ڈھانچے پر ہونے والے حملے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ اس واقعے میں کسی کے بھی ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔

عالمی تنازعات کے نتیجے میں ہونے والے معاشی نقصان پر نظر رکھنے والے ماہرین نے برطانوی نشریاتی کو بتایا ہے کہ ایران جنگ سے امریکہ کو روزانہ تقریباً دو ارب ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔
براؤن یونیورسٹی کے جنگی لاگت کے منصوبے کی ڈائریکٹر سٹیفنی سیویل کا کہنا ہے کہ ہتھیاروں اور فوجی اخراجات، امریکی اثاثوں کو پہنچنے والے نقصانات اور دیگر اخراجات کی مد میں اس جنگ سے امریکیوں کو پہلے ہی دسیوں ارب ڈالر کا نقصان پہنچ چکا ہے۔
سیویل کا کہنا ہے کہ جنگ کے نتیجے عوامی قرضوں میں روزانہ کی بنیاد پر بہت بڑی رقم کا اضافہ ہو رہا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق پینٹاگون نے مارچ کے آغاز میں کانگریس کو بتایا تھا کہ جنگ کے پہلے چھ دنوں میں 11.3 ارب ڈالر لاگت آئی ہے۔ سیویل کے خیال میں درحقیقت یہ لاگت اس سے کہیں زیادہ ہے۔
ہارورڈ یونیورسٹی کے دفاعی بجٹ کی ماہر لنڈا بلائمز کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر اس جنگ پر پہلے ہی تقریباً روزانہ کی بنیاد پر دو ارب ڈالر لاگت آ رہی ہے۔
سیویل کا کہنا ہے کہ جنگی اخراجات کا بوجھ ہمیشہ اوسط امریکی پر پڑتا ہے۔ جنگ کے نتیجے میں ایندھن کی قیمتیں اوپر جا چکی ہیں۔ اس کے علاوہ مہنگائی، کاروبار میں غیر یقینی صورتحال اور انشورنس کی لاگت میں اضافے جیسے طویل مدتی اثرات بھی پڑیں گے۔
وائٹ ہاؤس پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ ایران میں جنگ کے لیے مزید 200 ارب ڈالر کا مطالبہ کیا جائے گا جو سیویل کے بقول ایک بہت خطیر رقم ہے۔
برطانیہ کی میرٹائم ٹریڈ آپریشنز ایجنسی کے مطابق یہ حملہ دوحہ سے تقریباً 17 بحری میل شمال میں ہوا۔ ٹینکر کے پانی کے اوپر حصے کو نقصان پہنچا، لیکن عملہ محفوظ رہا۔ ادارے نے کہا کہ اس حملے کا ماحولیاتی اثر نہیں ہوا۔
عالمی ذرائع کے مطابق تہران کے وسط میں دھماکے سنے گئے اور مبینہ طور پر فضائی دفاع نے دشمن اہداف کو روکنے کی کوشش کی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اہم علاقوں میں دھماکوں کے بعد سیکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔

امریکہ اور اسرائیل کی بمباری کے باوجود ایران میں مظاہرے جاری ہیں۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور وزیرخارجہ عباس عراقچی نے مظاہروں میں شرکت کی، صدر پزشکیان نے کہا کہ عوام قومی یکجہتی، سماجی ہم آہنگی اور اسلامی انقلاب کا تحفظ جاری رکھیں، اس موقع پر وزیرخارجہ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ وہ اپنےجذبے کو مزید توانا کرنے کیلئے ریلی میں شریک ہوئے۔

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ براہِ راست اور خطے کے بعض ممالک کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، تاہم انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ایران اور واشنگٹن کے درمیان باقاعدہ مذاکرات ہو رہے ہیں۔
ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ انہیں اسٹیو وٹکوف کی جانب سے براہِ راست پیغامات موصول ہوتے ہیں، جیسا کہ ماضی میں بھی ہوتا رہا ہے، لیکن ان روابط کو مذاکرات قرار دینا درست نہیں۔ ان کے مطابق ایران میں کسی بھی سطح پر مذاکرات کے دعوے بے بنیاد ہیں، اور تمام پیغامات وزارتِ خارجہ کے ذریعے بھیجے یا وصول کیے جاتے ہیں۔

مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو نے خطے کی کشیدہ صورتحال پرافسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا انہیں اُمید ہے کہ 5 اپریل کو ایسٹر سے پہلے ایران کی جنگ ختم ہو جائے گی۔

کویت کے حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایرانی ڈرونز اور ان کے حمایت یافتہ مسلح گروپوں بڑا حملہ کیا ہے جس سے آگ بھڑک اٹھی ہے۔
ان حملوں کا ہدف ایئرپورٹ کے فیول ٹینکس تھے، جس کے نتیجے میں مقام پر خوفناک آگ لگ گئی ہے۔
جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن کے ترجمان عبداللہ الراجی نے بتایا ہے کہ ایمرجنسی ٹیمیں موقع پر موجود ہیں اور حکام کے مطابق نقصان مالی ہے، انسانی جانوں کا کوئی نقصان نہیں ہوا۔

ایران نے خبردار کیا ہے کہ اسپیس ایکس کے سیٹلائٹ انٹرنیٹ سسٹم اسٹارلنک کو خطے میں اب اپنے “جائز اہداف” میں شامل کر لیا گیا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق خطے میں موجود اس نظام کو ممکنہ طور پر نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق اسٹارلنک کی سروس بحرین، کویت اور متحدہ عرب امارات سمیت مختلف ممالک میں فعال ہے۔
واضح رہے کہ حالیہ کشیدگی کے دوران اسٹارلنک کو کئی علاقوں میں متبادل انٹرنیٹ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ ایران اس سروس کو سیکیورٹی خدشات کے تناظر میں دیکھتا رہا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ اپنے اختتامی مرحلے کے قریب پہنچ رہی ہے کیونکہ یہ تنازع اپنے پانچویں ہفتے میں داخل ہو چکا ہے۔
انہوں نے ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم انجام کو دیکھ سکتے ہیں، یہ آج یا کل نہیں مگر جلد سامنے آ جائے گا۔
مارکو روبیو کا مزید کہنا تھا کہ کسی مرحلے پر ایرانی حکام کے ساتھ براہِ راست ملاقات بھی ممکن ہو سکتی ہے۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ آئندہ دو سے تین ہفتوں میں ایران کے خلاف اپنی فوجی کارروائی مکمل کر سکتا ہے۔
بحرین کی وزارتِ داخلہ نے خبردار کیا ہے کہ ایک گھنٹے کے دوران دوسری مرتبہ خطرے کے سائرن بجنے پر شہری پُرسکون رہیں اور فوری طور پر قریبی محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہو جائیں۔
حکام کے مطابق سائرن دوبارہ بجنے کے باعث شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔

پاسدارانِ انقلاب ایران نے سعودی عرب میں امریکی پائلٹوں اور لڑاکا طیاروں کے عملے پر بڑے حملے کا دعویٰ کیا ہے۔
بریگیڈئیر جنرل سید ماجد موسوی کا کہنا ہے کہ الخرج علاقے میں مقیم 2 سو امریکی پائلٹوں اور عملے کی رہائش گاہیں میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنائی گئی ہیں۔
اسی علاقے میں امریکا کا ایواکس طیارہ بھی تباہ کیا گیا تھا، حملے میں کئی دیگر امریکی طیاروں کو بھی نقصان پہنچا تھا۔
پاسداران انقلاب کی بحریہ نے علاقے میں بحری جہازوں، فوجی میٹنگز، ریڈار اور ڈرونز ڈیفنس نظام پر بھی چار بڑے حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔
متحدہ عرب امارات کے ساحلی علاقے میں امریکی مرینز کی میٹنگ کو ڈرونز سے ہدف بنایا گیا جوکہ فوجی اڈے سے باہر کی جارہی تھی۔
بحرین کے مناما ایئرپورٹ کے قریب فوجی اڈے کے باہر موجود امریکی ففتھ فلیٹ کے ہاک اینٹی ڈرون نظام کو بھی ڈورنز سے تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
کویت کے احمد الجبر امریکی فوجی اڈے میں دو ارلی وارننگ ریڈار نظام بھی ڈرونز ہی سے تباہ کیے گئے جبکہ وعدہ صادق چہارم آپریشن کی اٹھاسی ویں لہر میں اسرائیل کا ایکسپریس ہاف اونگ کنٹینر جہاز میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔
پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اب امریکا کی اعلی ترین اٹھارہ ٹیک کمپنیوں کے خطے میں دفاتر نشانہ بنائے جائیں گے کیونکہ ان ٹیک کمپنیز کی آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور انٹرنیٹ ٹیکنالوجیز سے ایران میں قتل مہم کے اہداف کا تعین ہوا تھا۔
سعودی عرب کی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران مزید دو ڈرونز کو فضا میں ہی روک کر تباہ کر دیا گیا۔
حکام کے مطابق یہ کارروائی فضائی دفاعی نظام کے تحت کی گئی، جس کے ذریعے ممکنہ خطرات کو بروقت ناکام بنایا گیا۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے آغاز کے بعد سعودی عرب کو مسلسل میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا ہے، جنہیں زیادہ تر ناکام بنایا جا رہا ہے۔
اسرائیل کی فوج نے اعلان کیا کہ جنوبی لبنان میں مزید چار اسرائیلی فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق ان میں سے تین فوجیوں کی الگ الگ جنازے سدیروت، بات یام اور لہاویم میں ادا کیے گئے، جبکہ ایک اور فوجی جو پیر کے روز ہلاک ہوا تھا، اسے آج سپردِ خاک کیا جائے گا۔
ہلاک ہونے والے تمام فوجی نحال بریگیڈ سے تعلق رکھتے تھے، جس پر غزہ میں جاری جنگ کے دوران متعدد انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے جا چکے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے لبنان کے جنوبی علاقے پر فضائی حملے کردیے جس کے نتیجے میں 8 افراد شہید ہوگئے، جان سے جانے والوں میں حاملہ خاتون بھی شامل تھیں۔
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان میں راکٹ لانچنگ سائٹس کو نشانہ بنایا ہے، جہاں سے حالیہ دنوں میں اسرائیل کی جانب راکٹ فائر کیے گئے تھے۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فورسز مزید لانچنگ سائٹس کی نگرانی کر رہی ہیں اور ضرورت پڑنے پر انہیں بھی نشانہ بنایا جائے گا۔

ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے کہا ہے کہ ایران کے پاس جنگ کو ختم کرنے کے لیے ’ضروری ارادہ‘ موجود ہے، بشرطیکہ کچھ شرائط پوری کی جائیں۔
صدر پیزشکیان کا کہنا ہے کہ ایران امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کا خاتمہ چاہتا ہے، لیکن اس کے لیے کچھ تقاضے پورے ہونا ضروری ہیں۔
یہ بیان پیزشکیان اور یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوستا کے درمیان ایک ٹیلیفونک گفتگو کے دوران سامنے آیا، جس کی تفصیلات ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی آئی آر این اے نے جاری کیں۔
پیزشکیان کے مطابق ان شرائط میں ’لازمی ضمانتیں‘ شامل ہیں تاکہ مستقبل میں کسی بھی قسم کی جارحیت کو روکا جا سکے۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم نے کبھی بھی کشیدگی یا جنگ کی خواہش نہیں کی‘، اور مزید کہا کہ ’صورتحال کو معمول پر لانے کا حل ان کے جارحانہ حملوں کا خاتمہ ہے۔‘

شام کے صدر احمد الشراع نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ میں شام غیر جانبدار رہنے کے لیے پرعزم ہے، جب تک کہ اسے خود نشانہ نہ بنایا جائے۔
لندن کے چیتھم ہاؤس تھنک ٹینک میں خطاب کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ شام میں ایران کی مداخلت نے سابقہ اسد حکومت کو شامیوں کو بے گھر کرنے میں مدد دی۔
انھوں نے کہا، ہمیں تہران میں ایران سے کوئی مسئلہ نہیں، لیکن دمشق میں ایران سے مسئلہ ہے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ جنگ کے آغاز کے بعد سے ایران کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہوا اور دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات بھی موجود نہیں ہیں۔
الشراع نے کہا کہ شام ایران کے ساتھ جاری تنازع کے بجائے ایک مذاکراتی حل کو ترجیح دیتا ہے اور خود کو اس تنازع میں گھسیٹے جانے سے بچائے گا۔
انھوں نے تسلیم کیا کہ خطے کی صورتحال اس قدر غیر یقینی ہے کہ شام کو نشانہ بنائے جانے کا امکان موجود ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم ایک اور جنگ کے لیے تیار نہیں ہیں‘ اور مزید بتایا کہ ان کی حکومت کی ترجیحات شام کی تعمیر نو، تبدیلی اور شامی مہاجرین کی واپسی ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے صدارتی دفتر اوول آفس میں مختلف موضوعات پر گفتگو کرتے ہوئے، پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں اور انہیں کم کرنے کے منصوبے سے متعلق سوال پر کہاکہ مجھے بس ایران کو چھوڑنا ہے اور ہم بہت جلد ایسا کرنے جا رہے ہیں۔ ہم بہت جلد وہاں سے نکل جائیں گے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران میں حکومت تبدیل ہو چکی ہے اور ایرانی رہنماؤں کی نئی پود بہت کم انتہا پسند اور زیادہ با شعور ہے۔
ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ امریکہ دو یا تین ہفتوں میں ایران کو چھوڑ دے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کا ایک ہی مقصد تھا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہوں، اور یہ مقصد حاصل کر لیا گیا ہے۔
امریکی صدر نے کہاکہ ہم کام مکمل کر رہے ہیں، اور مزید کہا کہ امریکہ شاید دو ہفتوں میں، یا کام مکمل کرنے کے لیے اس سے چند دن زیادہ میں وہاں سے نکل جائے گا۔
ہم ان کی ہر ایک چیز کو ختم کرنا چاہتے ہیں—اب یہ ممکن ہے کہ اس سے پہلے ہمارا کوئی معاہدہ ہو جائے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ شاید ان کا کوئی معاہدہ ہو جائے، لیکن اگر وہ مذاکرات کی میز پر آتے ہیں تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
امریکی صدر نے ایک اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران جنگ زیادہ عرصہ نہیں چلے گی، جب ہم چلے جائیں گے تو آبنائے ہرمز خود بخود کُھل جائے گی۔
ٹرمپ نے کہا کہ ہم اس وقت ایران کو پوری طرح تباہ کر رہے ہیں، ایران کی باقی رہ جانے والے جارحانہ صلاحیتوں کے خاتمے کے لیے ابھی مزید کام کرنا ہے۔
دریں اثنا، خطے میں جنگ بندی سے متعلق قیاس آرائیاں تیز ہونے لگیں۔ اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ معاہدےکے بغیرایران جنگ روکنےکا فیصلہ کرسکتے ہیں۔
وسطی ایران کے شہر اصفہان میں بنکر بسٹر بموں سے اسلحہ کے ذخائر پر امریکہ نے بم باری کر دی۔
ایک ویڈیو، جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی شیئر کیا، میں ایک بڑے دھماکے کے بعد آگ اور دھواں اٹھتا دکھائی دیتا ہے، جس کے بعد مزید کئی ثانوی دھماکے ہوتے ہیں۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے پینٹاگون میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ایک اسلحہ گودام کو امریکی بمبار طیاروں نے نشانہ بنایا۔ادھر امریکی افواج کے سربراہ ،جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین، جنرل ڈین کین نے کہا ہے کہ ہم نے ایران میں زمین کے اوپر، بی 52 مشن سے 2ہزار پاؤنڈ وزنی بنکر بسٹر گولہ بارود گرانے کی کارروائیاں شروع کردی ہیں۔
عراق کے دارالحکومت بغداد میں غیر ملکی خاتون صحافی کو اغوا کرلیا گیا۔
عراقی وزارت داخلہ نے ایک بیان میں بتایا کہ سیکیورٹی فورسز نے اغوا کاروں کا تعاقب کرنے کے بعد ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا اور اغوا میں استعمال ہونے والی ایک گاڑی ضبط کر لی۔
عراقی پولیس کا کہنا ہے کہ اغوا ہونے والی خاتون صحافی کے پاس امریکی پاسپورٹ ہے تاہم عراقی وزارت داخلہ نے صحافی کی شہریت نہیں بتائی۔
اس میں مزید کہا گیا کہ اغوا میں ملوث افراد کو تلاش کرنے اور صحافی کی رہائی کو یقینی بنانے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
تہران: ایران نے ترکیہ پر میزائل داغنے کی تردید کرتے ہوئے معاملے کی مشترکہ تحقیقات کی پیشکش کر دی۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ترک ہم منصب حکان فیدان کو فون کرکے دشمن کے فالس فلیگ آپریشنز سے خبردار کیا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے ترکیہ پر میزائل داغنے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایران ترکیہ پر میزائل حملے کی جانچ پڑتال کے لیے مکمل تکنیکی تعاون کرنے پر تیار ہے۔ایک اور بیان میں ایرانی وزیرخارجہ نے کہا کہ ایران کی کارروائیاں دشمن جارح قوتوں کے خلاف ہیں، امریکی فورسز کے خطے سے نکلنے کا وقت آ چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ جارح دشمن نہ عربوں کا احترام کرتے ہیں، نہ ایرانیوں کا، نہ وہ سکیورٹی دے سکتے ہیں، ایران سعودی عرب کا احترام کرتا ہے اور اسے برادر ملک سمجھتا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ جنگی مجرموں کے ارادے واضح ہیں، وہ دھڑلے اور بے شرمی سے دوا ساز کمپنیوں پر حملے کر رہے ہیں، ان قوتوں نے ایران کو دفاعی صلاحیتوں سے محروم فلسطین سمجھنے کی غلطی کی، اب ایران کی طاقتور مسلح افواج جارحیت کرنے والوں کو سزا دے رہی ہے۔