خامنہ ای کی رہائش گاہ پرایرانی کالعدم تنظیم کے حملے کا دعویٰ

February 25, 2026 · اہم خبریں, بام دنیا

ایران میں مجاہدینِ خلق نامی تنظیم (ایم ای کے) کا دعویٰ ہے کہ اس کے تقریباً ’250 اہلکاروں‘ نے تہران کے وسط میں اسلامی جمہوریہ کے رہبرِ اعلیٰ سید علی خامنہ ای کے دفتر اور رہائش گاہ پر حملہ کیا ہے۔

تاہم ایرانی حکام اور سرکاری میڈیا نے اس واقعے کی تردید کی ہے۔ اس مبینہ حملے کے کوئی شواہد یا تصاویر سامنے نہیں آئیں جبکہ پاستور کے علاقے میں سخت سکیورٹی انتظامات برقرار ہیں۔

ایم ای کے نے گذشتہ شب جاری بیان میں کہا کہ اس کے اہلکاروں نے پیر کی صبح اس مقام پر حملہ کیا اور کچھ نقصان پہنچایا، تاہم ان کے ’100‘ ہلاک یا گرفتار ہو گئے۔

ایران کی مہر نیوز ایجنسی نے اس دعوے کو ’ایک مزاحیہ اور ڈرامائی ردِعمل‘ قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ایم ای کے کے چار افراد نے ’پلاسٹک کے پائپ سے بچوں کے کھلونے جیسی چیز بنا کر‘ وسطی تہران میں آواز پیدا کرنے کی کوشش کی، لیکن انھیں گشت کے دوران گرفتار کر لیا گیا۔

ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کے رکن احمد بخشایش اردستانی نے منگل کو خبر رساں ادارے اِلنا سے گفتگو میں کہا: ’میرا خیال ہے کہ ان کے لیے ایسی کارروائی کرنا بعید از قیاس ہے، تاہم میں اس خبر کی تفصیلات سے آگاہ نہیں اور نہ ہی مجھے معلوم ہے کہ ایسا کوئی واقعہ پیش آیا ہے۔‘

مجاہدینِ خلق نامی تنظیم (ایم ای کے) کا دعویٰ ہے کہ اس کی کارروائی صبح کی اذان کے وقت شروع ہوئی اور پیر 25 مارچ کی دوپہر تک جاری رہی۔ بیان کے مطابق حملہ رہبرِ اعلیٰ کی رہائش گاہ کے اندر واقع ’مطہری کمپلیکس‘ پر کیا گیا اور ’250 میں سے 150 اہلکار بحفاظت اپنے ٹھکانوں پر واپس پہنچ گئے۔‘

تنظیم کا مزید دعویٰ ہے کہ اس کے اہلکاروں نے کمپلیکس کی حفاظت پر مامور سکیورٹی اہلکاروں کو ’بھاری جانی نقصان‘ پہنچایا۔ پاستور سٹریٹ اور اس کے اطراف رہبر کی رہائش گاہ، صدارتی عمارت، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل، عدلیہ سیکریٹریٹ، گارڈین کونسل اور مجلسِ خبرگان کے دفاتر واقع ہیں۔

اگرچہ احمد بخشایش نے حملے کے ماخذ سے لاعلمی ظاہر کی، تاہم انھوں نے اِلنا سے کہا: ’ان کا اندازہ یہ ہے کہ ملک کمزور ہو چکا ہے اور سکیورٹی اور انٹیلی جنس ادارے دیگر امور میں مصروف ہیں، اس لیے وہ دہشت گردانہ کارروائیوں کے ذریعے ملک کو کمزور ظاہر کرنا چاہتے ہیں۔‘

پاسدارانِ انقلاب سے قریبی سمجھی جانے والی ویب سائٹ ’بولتن نیوز‘ نے لکھا کہ ’گذشتہ شب پاستور سٹریٹ کے علاقے، جو دارالحکومت کا سب سے محفوظ علاقہ سمجھا جاتا ہے، میں پے در پے دھماکوں کی آوازوں نے حکام اور حامیوں کے لیے سنجیدہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ آخر ایسا کیا ہوا کہ دشمن نے تہران کے قلب تک رسائی کی جرات کی؟‘

گذشتہ روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کچھ دیر کے لیے ’پاستور‘ ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرتا رہا، تاہم دھماکوں اور فائرنگ کی اطلاعات کے علاوہ تاحال کوئی تصاویر یا ٹھوس شواہد سامنے نہیں آئے۔ ایرانی خبر رساں اداروں نے ان رپورٹس کی تردید کی ہے۔

روزنامہ ہمشہری کے مطابق پاستور سٹریٹ، جنوبی فلسطین سٹریٹ، آذربائیجان، کشور دوست سٹریٹ اور امام خمینی سٹریٹ کے اطراف سخت سکیورٹی انتظامات نافذ ہیں۔ اس علاقے میں داخلے کے لیے کارڈ لازمی ہے جبکہ صرف سکیورٹی یونٹس اور مسلح افواج کی سبز نمبر پلیٹ والی گاڑیوں یا مجاز حکام اور سفارت کاروں کی خصوصی اجازت یافتہ گاڑیوں کو ہی اندر جانے کی اجازت ہے۔

ویب سائٹ جنت 24 نے رپورٹ کیا کہ پاستور سکوائر اور جمہوری سٹریٹ کے اطراف بعض سکولوں سے طلبہ کو واپس بھیجنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جبکہ علاقے میں خصوصی پولیس کی نمایاں موجودگی سے والدین میں تشویش پائی جاتی ہے۔

تاہم ایونٹ 24 نے وزارتِ تعلیم کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل حسین صادقی سے رابطہ کیا تو انھوں نے سکولوں کی بندش یا طلبہ کو واپس بھیجے جانے کی خبروں کی تردید کی۔