افغان طالبان نے مذاکرات کی پیشکش کردی

February 27, 2026 · اہم خبریں, بام دنیا
فائل فوٹو

کابل :فغانستان میں پاکستان کی شدید بمباری اور جھڑپوں کے بعد افغان طالبان کی جانب سے پاکستان کے ساتھ جاری کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے مذاکرات کی پیشکش کی گئی ہے۔

امارت اسلامی افغانستان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے جمعہ کی سہ پہر پریس کانفرنس میں کہا کہ افغانستان ہمیشہ سے پرامن حل کے لیے تیار ہے اور اب بھی گفتگو کے ذریعے مسائل حل کرنے کا خواہش مند ہے۔

ذبیح اللہ مجاہد کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر پریس کانفرنس کی تفصیلات اس وقت جاری کی گئیں جب پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ کی پریس کانفرنس ہو رہی تھی۔

افغان طالبان کے ترجمان نے کہا کہ امارت اسلامی نے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ہی پڑوسی ممالک سمیت دنیا بھر کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ افغانستان کی سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی اور داعش کے خلاف جنگ میں افغانستان نے نہ صرف خود کو بلکہ پورے خطے کو محفوظ بنایا ہے۔

پاکستان کے ساتھ جاری تنازع پر بات کرتے ہوئے مجاہد نے کہا کہ پاکستان میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور پاکستانی فوج کے درمیان جنگ ایک پرانی اور داخلی مسئلہ ہے جو 2007 سے جاری ہے جبکہ امارات اسلامی صرف چار برس پہلے افغانستان میں برسر اقتدار آئی۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ پاکستان نے متعدد بار افغانستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی اور شہری علاقوں پر بمباری کی، جس میں بے گناہ شہری، بچے اور خواتین ہلاک ہوئے۔ انہوں نے جلال آباد اور پکتیکا کے حالیہ واقعات کا حوالہ دیا۔

ترجمان نے کہا کہ اس کے باوجود “ہم نے ہمیشہ مسائل کو بات چیت اور تفہیم سے حل کرنے کی کوشش کی ہے۔ سابقہ مذاکرات میں فائر بندی ہوئی تھی لیکن اسے پاکستان کی جانب سے توڑا گیا۔ ہم اب بھی چاہتے ہیں کہ مسئلہ گفتگو سے حل ہو۔”