ایران میں کتنے مقامات پر اور کہاں حملے ہوئے؟
تہران سمیت 13 شہر نشانہ بنے، خامنہ ای کے دفتر اور احمدی نژاد کے گھر پر بھی حملے
ایران پر اسرائیل اور امریکہ کا حملہ شروع ہونے کے بعد تہران سمیت متعدد شہروں میں زور دار دھماکے ہوئے۔
رپورٹس کے مطابق تہران میں رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے دفتر اور صدارتی دفتر کو نشانہ بنایا گیا۔ اسی طرح کرمانشاہ، قم، اصفہان، تبریز، کرج اور جنوبی علاقے کنارک میں ایرانی بحریہ کی تنصیبات سمیت متعدد فوجی مقامات پر حملوں کی اطلاعات ہیں۔
کرد علاقے کے ایک چھوٹے شہر کامیاران سے موصولہ ویڈیو میں مبینہ طور پر پاسدارانِ انقلاب کے ایک اڈے کو بمباری کا نشانہ بنتے دکھایا گیا ہے۔ اسرائیلی دفاعی افواج نے ایرانی شہریوں کو خبردار کیا کہ وہ فوجی تنصیبات اور مقامات کے قریب سے فوری انخلاء کرلیں۔
تہران کے نرماک علاقے سے سامنے آنے والی تصاویر میں سابق صدر محمود احمدی نژاد کی رہائش گاہ کو بھی نشانہ بنائے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ وہ زخمی ہوئے ہیں یا نہیں۔
عرب ٹی وی الجزیرہ کے مطابق ایران کے درج ذیل 13 اہم شہروں اور صوبوں میں بمباری کی گئی ہے:
مرکزی علاقے: تہران (دارالحکومت)، کرج، دماوند، قم اور اصفہان۔
شمالی اور مغربی علاقے: تبریز، ارمیہ، زنجان، کرمانشاہ، ایلام اور صوبہ لرستان۔
جنوبی ساحلی علاقے: بوشہر، شیراز اور میناب۔
ایرانی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز صورتحال پر قابو پانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور ملک بھر کے کئی ہسپتالوں میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے اسرائیلی میڈیا کی ان خبروں کی تردید کی ہے جن میں ایرانی آرمی چیف میجر جنرل امیر حاتمی کی شہادت کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ حکام کے مطابق میجر جنرل امیر حاتمی محفوظ ہیں اور اپنی آپریشنل ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔