خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران میں قائد کون ہوگا؟
جون 1989 میں خمینی کے انتقال مجلسِ خبرگانِ رہبری نے خامنہ ای کو منتخب کیا تھا
ایران میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد آئینی طریقہ کار کے تحت ان کے جانشین کے انتخاب کا عمل شروع ہوگا، جس کے لیے مجلسِ خبرگانِ رہبری کلیدی کردار ادا کرے گی۔
آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتقال کے بعد ایران کے آئین کے مطابق نئے سپریم لیڈر کا انتخاب مجلسِ خبرگانِ رہبری کرے گی، وہ بااختیار علما کا ادارہ جس نے خود سابقہ سپریم لیڈر کو منتخب کیا تھا۔ اس 88 رکنی مجلس کے ارکان بذریعہ عوامی ووٹ منتخب ہوتے ہیں، مگر عملی طور پر صرف وہ ہی انتخاب لڑ پاتے ہیں جو اسلامی جمہوری نظام کے سخت حامی سمجھے جاتے ہیں۔
آئین کے تحت مجلسِ خبرگانِ رہبری پر لازم ہے کہ وہ جلد از جلد نئے سپریم لیڈر کا انتخاب کرے، لیکن موجودہ خطرناک سیکیورٹی صورتحال میں تمام ارکان کو جمع کرنا ایک چیلنج ثابت ہو سکتا ہے، خصوصاً جب ملک بیرونی حملوں کے دباؤ میں ہے۔
عبوری طور پر ملک کے صدر، عدلیہ کے سربراہ اور شورائی نگہبان کے ایک روحانی رکن عارضی طور پر سپریم لیڈر کے فرائض انجام دیں گے، جب تک نیا لیڈر منتخب نہیں ہوتا۔
آیت اللہ علی خامنہ ای ایران کے سب سے طویل عرصے تک خدمات انجام دینے والے سپریم لیڈر تھے، جنہوں نے سخت گیر خارجہ اور داخلی پالیسیوں کے لیے خاص شناخت رکھی۔ اب ان کے جانشین کے انتخاب پر ملکی اور بین الاقوامی سطح پر گہری نظر ہے، جبکہ سیاسی حلقوں میں قیاسی بحث بھی جاری ہے کہ کون سا مذہبی اور سیاسی رہنما اس اہم عہدے پر فائز ہو سکتا ہے۔
1939 میں مشہد میں پیدا ہونے والے علی خامنہ ای ایک مذہبی عالم کے بیٹے تھے۔ انہوں نے 1962 میں روح اللہ خمینی کی مذہبی و سیاسی تحریک میں شمولیت اختیار کی۔ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد وہ نائب وزیر دفاع بنے اور پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) کی تنظیم سازی میں کردار ادا کیا۔
جون 1989 میں خمینی کے انتقال کے بعد مجلسِ خبرگان نے علی خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر منتخب کیا، اور اس مقصد کے لیے آئین میں ترمیم بھی کی گئی کیونکہ وہ شیعہ علما کے اس درجے پر فائز نہیں تھے جو اس عہدے کے لیے درکار سمجھا جاتا تھا۔
آیت اللہ خامنہ ای نے اس کے بعد سے ایران کی سیاست اور مسلح افواج پر مضبوط گرفت برقرار رکھی، خارجہ پالیسی کے حوالے سے بھی انہوں نے سخت مؤقف اپنایا، خصوصاً امریکا کے ساتھ کشیدگی اور اسرائیل کے وجود سے متعلق بیانات کے تناظر میں۔ ان کے دور میں ایران کے سات صدور نے خدمات انجام دیں۔