بریکنگ ایران کی نئی قیادت امریکہ سے مذاکرات پر آمادہ ہوگئی، ٹرمپ کا دعویٰ
کوئی یقین نہیں کر سکتا کہ ہمیں کتنی کامیابی حاصل ہو رہی ہے،فوکس نیوز اور سی این این کو انٹرویو
فائل فوٹو
واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی نئی قیادت نے مذاکرات کی خواہش ظاہر کی ہے اور وہ اس پر آمادہ ہو گئے ہیں، تاہم بات چیت کی تاریخ نہیں بتائی گئی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی جریدے دی اٹلانٹک کو دیے گئے بیان میں کہا کہ ایران کی نئی قیادت ان کی انتظامیہ سے بات کرنا چاہتی ہے اور وہ اس پر رضامند ہو چکے ہیں۔
ان کے بقول، “وہ بات کرنا چاہتے ہیں اور میں نے بات کرنے پر اتفاق کر لیا ہے، اس لیے میں ان سے گفتگو کروں گا۔”
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایرانی قیادت کو یہ قدم پہلے اٹھانا چاہیے تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ “انہیں پہلے ہی وہ بات مان لینی چاہیے تھی جو نہایت عملی اور آسان تھی، لیکن انہوں نے بہت دیر کر دی۔ تاہم امریکی صدر نے یہ واضح نہیں کیا کہ ممکنہ مذاکرات کب ہوں گے۔
ایک ہی کارروائی میں ایران کے 48 رہنما ہلاک ہوگئے، ٹرمپ کا دعویٰ
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران پر جاری امریکی اسرائیلی حملوں میں 48 ایرانی رہنما ہلاک ہو چکے ہیں۔
فوکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ کے حوالے سے کہا گیا کہ، کوئی یقین نہیں کر سکتا کہ ہمیں کتنی کامیابی حاصل ہو رہی ہے، ایک ہی کارروائی میں 48 رہنما ختم ہو گئے۔ اور یہ عمل تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔”
امریکی میڈیا ادارے ‘فوکس نیوز’ کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے آپریشن کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہاکہ کوئی اس بات پر یقین نہیں کر سکتا کہ ہمیں میدانِ جنگ میں کتنی بڑی کامیابی حاصل ہو رہی ہے۔ صرف ایک ہی بڑی کارروائی میں ایران کے 48 اہم رہنما ختم کر دیے گئے ہیں۔ یہ عمل اب رکنے والا نہیں بلکہ مزید تیزی سے آگے بڑھے گا۔”
دوسری جانب ‘سی این بی سی’ سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے واضح کیا کہ ایران میں جاری امریکی آپریشن اپنے طے شدہ شیڈول سے بہت آگے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عسکری اہداف کو جس رفتار سے نشانہ بنایا جا رہا ہے وہ امریکی فوجی حکمت عملی کی بڑی جیت ہے۔