خامنہ ای کو کیسے شہید کیا گیا، نیویارک ٹائمز نے بتادیا
سی آئی اے نے لوکیشن حاصل کی، اہم معلومات 12 روزہ جنگ میں جمع کی گئیں، ایرانی انٹیلی جنس افسر بچ نکلے
آیت اللہ خامنی کا دفتر حملے میں نشانہ بنا
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو کیسے شہید کیا گیا، امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے تفصیل بتا دی۔ اخبار کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے قریبی انٹیلی جنس تعاون کے بعد تہران میں ایرانی قیادت کے کمپاؤنڈ پر حملہ کیا گیا۔
نیویارک ٹائمز کی تفصیلی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکا کی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے کئی ماہ تک ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نقل و حرکت اور قیام گاہوں پر نظر رکھی اور ان کی موجودگی سے متعلق انتہائی درست معلومات حاصل کیں۔ رپورٹ کے مطابق ہفتہ کی صبح تہران کے وسط میں واقع قیادت کے ایک کمپاؤنڈ میں اعلیٰ ایرانی حکام کا اہم اجلاس طے تھا، جہاں سپریم لیڈر کی موجودگی کی بھی تصدیق ہوگئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق اسی نئی انٹیلی جنس کی بنیاد پر امریکا اور اسرائیل نے اپنے مجوزہ حملے کے وقت میں تبدیلی کی۔ ابتدائی منصوبہ یہ تھا کہ حملہ رات کے اندھیرے میں کیا جائے، تاہم ہفتہ کی صبح ہونے والے اجتماع کی اطلاع ملنے کے بعد اسے دن کے وقت انجام دینے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ زیادہ سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا جا سکے۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق یہ کارروائی امریکا اور اسرائیل کے درمیان قریبی رابطے اور انٹیلی جنس شیئرنگ کا نتیجہ تھی، جو گزشتہ برس ہونے والی 12 روزہ جنگ کے بعد مزید گہری ہو چکی تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس جنگ کے دوران امریکا نے یہ بھی سیکھا کہ دباؤ کی صورتحال میں ایرانی قیادت اور اسلامی انقلابی گارڈ کور کس طرح رابطہ اور نقل و حرکت کرتے ہیں، جس کی بنیاد پر آیت اللہ خامنہ ای کی نگرانی اور ان کی ممکنہ نقل و حرکت کی پیش گوئی مزید مؤثر بنائی گئی۔
رپورٹ کے مطابق سی آئی اے نے آیت اللہ خامنہ ای کی پوزیشن سے متعلق “ہائی فیڈیلٹی” یعنی انتہائی درست معلومات اسرائیل کو فراہم کیں۔ حساس نوعیت کی انٹیلی جنس اور عسکری منصوبہ بندی پر بات کرنے والے ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تفصیلات شیئر کیں۔
اسرائیل نے امریکی اور اپنی انٹیلی جنس کو استعمال کرتے ہوئے اس آپریشن کو عملی شکل دی، جس کی منصوبہ بندی کئی ماہ سے جاری تھی۔ یہ حملہ تہران میں اس مقام پر کیا گیا جہاں ایرانی صدر، سپریم لیڈر اور ایران کی نیشنل سیکیورٹی کونسل کے دفاتر واقع ہیں۔
اسرائیلی اندازوں کے مطابق اس اجلاس میں اسلامی انقلابی گارڈ کور کے کمانڈر ان چیف محمد پاکپور، وزیر دفاع عزیز نصیرزادہ، ملٹری کونسل کے سربراہ ایڈمرل علی شمخانی، اسلامی انقلابی گارڈ کور کی ایرو اسپیس فورس کے کمانڈر سید مجید موسوی، نائب وزیر انٹیلی جنس محمد شیرازی اور دیگر اعلیٰ دفاعی حکام شریک تھے۔
رپورٹ کے مطابق آپریشن کا آغاز اسرائیل میں صبح تقریباً 6 بجے ہوا جب لڑاکا طیارے اپنے اڈوں سے روانہ ہوئے۔ اگرچہ طیاروں کی تعداد کم تھی، تاہم وہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے اور انتہائی درست ہتھیاروں سے لیس تھے۔ تقریباً دو گھنٹے اور پانچ منٹ بعد، تہران کے وقت کے مطابق صبح 9 بج کر 40 منٹ پر میزائل قیادت کے کمپاؤنڈ پر گرے۔ اس وقت سینئر قومی سلامتی حکام ایک عمارت میں موجود تھے جبکہ آیت اللہ خامنہ ای قریبی دوسری عمارت میں تھے۔
ایک اسرائیلی دفاعی عہدیدار نے نیویارک ٹائمز کو بھیجے گئے پیغام میں کہا کہ حملہ تہران کے متعدد مقامات پر بیک وقت کیا گیا، جن میں سے ایک مقام پر ایران کی سیاسی و سیکیورٹی قیادت کی اعلیٰ شخصیات جمع تھیں۔ عہدیدار کے مطابق ایران کی جنگی تیاریوں کے باوجود اسرائیل اس کارروائی میں “سرپرائز” پیدا کرنے میں کامیاب رہا۔
اتوار کو ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے دو اعلیٰ فوجی رہنماؤں ایڈمرل علی شمخانی اور جنرل محمد پاکپور کی ہلاکت کی تصدیق کی، جن کے بارے میں اسرائیل نے ایک روز قبل دعویٰ کیا تھا کہ وہ مارے گئے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ جون میں جب ایران کے جوہری اہداف پر حملے کی منصوبہ بندی جاری تھی تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکا کو معلوم ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کہاں موجود ہیں اور انہیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ایک سابق امریکی عہدیدار کے مطابق وہ معلومات اسی انٹیلی جنس نیٹ ورک پر مبنی تھیں جس پر حالیہ کارروائی میں بھی انحصار کیا گیا۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق حملے کے بعد کیے گئے اضافی فضائی حملوں میں ان مقامات کو بھی نشانہ بنایا گیا جہاں اہم ایرانی انٹیلی جنس افسران مقیم تھے۔ اگرچہ ایران کا اعلیٰ ترین انٹیلی جنس افسر حملے میں بچ نکلا، تاہم ذرائع کے مطابق ایرانی انٹیلی جنس اداروں کی اعلیٰ قیادت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
وائٹ ہاؤس اور سی آئی اے نے اس رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس کارروائی کو مؤثر انٹیلی جنس اور مہینوں کی منصوبہ بندی کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔