خلیج میں بیشتر ہوائی اڈے بند، صرف ریاض ایئرپورٹ کھلا رہ گیا

امیر افراد ریاض پہنچ کر وہاں سے مغربی ممالک کا رخ کرنے لگے، پاکستان سے خلیج کی مزید پروازیں منسوخ

               

ریاض کا کنگ فہد ایئرپورٹ

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث سعودی دارالحکومت ریاض خلیجی ممالک سے انخلا کے خواہشمند امیر افراد اور اعلیٰ عہدیداروں کے لیے اہم مرکز بن گیا ہے، جبکہ خطے کی صورتحال کے اثرات پاکستان تک بھی پہنچ گئے ہیں اور فلائٹ آپریشن شدید متاثر ہوا ہے۔

اطلاعات کے مطابق سعودی عرب کا کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ خطے کے ان چند بڑے ہوائی اڈوں میں شامل ہے جو معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں، جبکہ حالیہ ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد دبئی، ابوظبی، قطر اور بحرین سمیت مختلف مقامات پر فضائی حدود متاثر ہوئیں۔

فضائی راستوں کی بندش کے باعث کئی اعلیٰ عہدیداران اور زیادہ اثاثوں کے حامل افراد زمینی راستے سے ریاض پہنچ رہے ہیں۔ بعض افراد دبئی سے تقریباً دس گھنٹے کا سفر طے کر کے سعودی دارالحکومت پہنچے تاکہ وہاں سے نجی یا کمرشل پروازوں کے ذریعے خطے سے باہر جا سکیں۔ نجی سیکیورٹی کمپنیاں اپنے کلائنٹس کو ریاض منتقل کرنے کے لیے ایس یو ویز کے بیڑے کرائے پر لے رہی ہیں اور بعد ازاں چارٹر طیاروں کا انتظام کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق عالمی مالیاتی اداروں کے سینئر عہدیداران اور کاروباری یا تفریحی مقاصد کے لیے خلیج میں موجود خوشحال افراد تیزی سے انخلا کر رہے ہیں۔ طلب میں اضافے کے باعث اخراجات بھی بڑھ گئے ہیں اور ریاض سے یورپ کے لیے نجی طیارے کا کرایہ ساڑھے تین لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔

دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے پیش نظر گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پاکستان کے مختلف ایئرپورٹس سے مزید 106 پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔ حکام کے مطابق کراچی سے دبئی، ابو ظہبی، قطر، شارجہ، کویت اور بحرین جانے والی متعدد پروازیں منسوخ ہوئیں۔

کراچی ایئرپورٹ پر مشرقِ وسطیٰ جانے والی 32 پروازیں منسوخ کی گئیں، پشاور ایئرپورٹ پر ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل مجموعی طور پر 22 پروازیں منسوخ ہوئیں، جبکہ لاہور ایئرپورٹ سے دبئی، ابو ظہبی، شارجہ اور بحرین کی 22 پروازیں منسوخ کی گئیں۔

اسی طرح فیصل آباد سے 4، کوئٹہ سے 2 اور ملتان سے 4 پروازیں منسوخ کی گئیں۔ حکام کے مطابق مجموعی طور پر گزشتہ تین روز کے دوران مشرقِ وسطیٰ کے لیے 300 سے زائد پروازیں منسوخ کی جا چکی ہیں، جس سے ہزاروں مسافروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

اگرچہ ریاض میں روزمرہ زندگی بڑی حد تک معمول کے مطابق جاری ہے اور سعودی عرب نے اپنی فضائی حدود کھلی رکھی ہوئی ہیں، تاہم خطے میں جاری کشیدگی نے سفری نظام اور کاروباری سرگرمیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔