بریکنگ سعودی عرب میں امریکی سفارتخانے پر ایران کا حملہ۔جلد جواب دیں گے۔ ٹرمپ
امریکہ نے اپنے مختلف مشنز پر قونصلر خدمات عارضی طور پر معطل کر دیں
ریاض میں امریکی سفارتخانے پر حملے کے بعد دھواں اٹھ رہا ہے
سعودی عرب کے دارلحکومت ریاض میں منگل کی صبح زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق دھماکے کے بعد ریاض میں دو ڈرون ٹکرانے کے بعد امریکی سفارت خانے کی عمارت میں آگ لگ گئی۔عمارت خالی تھی جس سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ حملے کا جلد جوان دیں گے۔ادھر سعودی عرب میں امریکی سفارت خانے پر حملہ، قونصلر خدمات معطل کر دی ہیں
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی نے چار عینی شاہدین کے حوالے سے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ منگل کی صبح زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور ریاض کے سفارتی کوارٹر، سعودی دارالحکومت میں غیر ملکی سفارت خانے اور غیر ملکی سفارت کاروں کی رہائش گاہوں میں سیاہ دھوئیں کے بادل دیکھے گئے۔
سعودی فوج کے ترجمان کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے کو دو ڈرون حملوں نے نشانہ بنایا گیا ہے۔
امریکی سفارتخانے نے ایکس (X) پر جاری بیان میں کہا ہے کہ اس واقعے کے نتیجے میں ’عمارت میں محدود آگ اور معمولی مادی نقصان‘ ہوا ہے۔
ریاض میں امریکی سفارت خانے پر حملے کے بعد امریکہ نے اپنے مختلف مشنز پر قونصلر خدمات عارضی طور پر معطل کر دی ہیں۔ریاض میں امریکی سفارت خانے کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سعودی عرب میں قائم امریکی مشنز میں منگل کے روز تمام معمول اور ہنگامی قونصلر اپائنٹمنٹس منسوخ کر دی گئی ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ریاض، جدہ اور ظہران سمیت مختلف مقامات پر موجود امریکی مشنز میں فی الحال “شیلٹر اِن پلیس” کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
بیان میں سعودی عرب میں موجود امریکی شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی ذاتی سلامتی کے لیے حفاظتی منصوبہ تیار رکھیں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
دوسری جانب ریاض میں امریکی سفارتخانے پر حملے کے بعد اپنے فوری رد عمل میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ریاض میں امریکی سفارت خانے پر حملے کا جلد جواب دیا جائے گا۔امریکی صحافی کیلی میئر نے ایکس پر لکھا کہ ٹرمپ نے انھیں یہ بھی کہا ہے کہ ’وہ نہیں سمجھتے کہ ایران کے اندر فوجیں اتارنے کی ضرورت پیش آئے گی۔