ایران سے زمینی جنگ کاامکان ظاہر۔کس واقعے نے ٹرمپ کاموقف تبدیل کیا؟
میزائل حملوں سے اسرائیل تک یلغار کے بعد ایران کو بمباری کی نئی مہم کی بھی دھمکی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ سے پیدا صورت حال کے تناظر میں کہا ہے کہ وہ ایرانی سرزمین پر امریکی فوج اتارنے کے امکان کو رد نہیں کرتے تاہم اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایرانی میزائل حملوں کی اسرائیل تک یلغار کے بعد ایران کو امریکی بمباری کی نئی مہم کی بھی دھمکی دی ہے۔
یہ تبدیلی ایرانی میزائل حملوں کے علاوہ کئی فوجیوں کی لاشیں امریکہ آنے کے باعث آئی لگ رہی ہے۔ امریکہ میں ہر انتظامیہ اپنے عوام کو امریکی فوجیوں کے تابوتوں کی صورت واپسی کو رات کے وقت امریکہ لانے کی حکمت عملی اپناتی ہے۔ تاکہ عوام دل گرفتہ ہو ہو کر امریکی انتظامیہ کی جنگی حکمت عملی پر اعتراضات نہ کریں۔ ایران کے خلاف امریکی جنگ کے تیسرے روز رات کے اندھیرے میں فوجیوں کی لاشوں کی پہلی کھیپ پہنچی ۔
ان فوجیوں کی ہلاکت کی اطلاع صدر ٹرمپ نے خود دی تھی اور کہا تھا مزید فوجیوں کی ہلاکتوں کا بھی اندیشہ ہے۔ انہوں نے اسی موقع پر یہ بھی کہا میں یہ نہیں کہتا کہ ایران میں فوج زمین پر اتارنا نہیں پڑے گی۔انہوں نے نیویارک پوسٹ کو اپنے ایک مختصر انٹرویو کے دوران یہ بھی کہا شاید فوج زمین پر نہ اتارنا پڑے ۔ مگر ضرورت پڑ بھی سکتی ہے۔
مبصرین کے مطابق امریکی صدور اپنی قوم کو اس بارے میں ذہناً تیار رکھنے لیے شروع میں ہاں اور ناں کی دونوں تراکیب استعمال کرتے ہیں۔
شروع میں امریکی صدر اور ان کی ٹیم ایران میں اس جنگ کو مختصر عرصے کی سمجھتے ہوئے فوج کو ایرانی سرزمین پر اتارنے کی طرف مائل نہ تھے۔ مگر ایرانی مزاحمت کے بعد فوجی زمین پر اتارنے کے امکان سے انکار نہیں کرتے۔
صدر ٹرمپ نےسی این ا ین کے ساتھ بات چیت میں کہا ہے ہم نے ایران کو ابھی مارنا شروع نہیں کیالیکن اب ہم بڑا حملہ کر سکتے ہیں۔ ایک بڑی مہم جس کا ایران کے خلاف ابھی آغاز نہیں کیا اب کیا جا سکتا ہے،یہ بڑا حملہ جلد آ سکتا ہے۔
ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں منعقدہ ایک ایوارڈ تقریب سے خطاب کے دوران ایران کے خلاف لمبے عرصے تک لڑنے کی بات پراپنے مخصوص انداز میں کہاکہ یہ جنگ ایک مہینے سے زیادہ بھی جا سکتی ہے۔ تاہم انہوں نے اپنے لوگوں کو اطمینان دلانے کے انداز میں کہا امریکہ اس سے بھی لمبے عرصے تک جنگ لڑ سکتا ہے۔صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا ہم پہلے ہی بتائے گئے وقت سے آگے جا سکتے ہیں۔ کیونکہ شروع میں ہمارا اندازہ تھا کہ یہ جنگ چار سے پانچ ہفتوں تک چلے گی۔ لیکن اس سے زیادہ آگے بھی جانا پڑا تو ہم ایسا کر سکتے ہیں۔
ٹروتھ سوشل پرٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کے پاس جنگی ہتھیاروں کا بڑا ذخیرہ موجود ہے جسے استعمال کرتے ہوئے ’ہمیشہ جاری رہنے والی جنگیں لڑی جا سکتی ہیں۔انہوں نے لکھا کہ ہمارے پاس ان ہتھیاروں کا عملی طور پر لامحدود ذخیرہ ہے۔ امریکہ کے پاس ہتھیار ہیں اور وہ (جنگ) جیتنے کے لیے تیار ہے۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اشارہ دیا ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف اپنی فوج کو ضرورت پڑنے پر ایرانی سرزمین پر اتار سکتا ہے۔انہوں نے ایران کے خلاف جنگ کو چار ہفتوں، چھ ہفتوں سے کم یا زیادہ دونوں طرح کے اشارے دیے۔
امریکہ کے 79 سالہ صدر نے پچھلے سال صدارتی انتخاب جیتا تو وہ دنیا سے جنگیں ختم کرنے کے انتخابی دعوے اور وعدوں کے ساتھ تھے۔ مگر ایک سال گزرنے کے بعد صدر ٹرمپ بھی ایک روائتی امریکی صدر کی صورت سامنے آگئے ہیں۔ انہوں نے اسرائیل کے ساتھ امریکہ کو ملاتے ہوئے ہفتے کے روز ایران کے خلاف اپنی ایک مشترکہ جنگ شروع کی ہے۔
یہ جنگ شروع میں ایرانی عوام کی حمایت کے نام پر بتائی جاتی رہی جو ایرانی حکومت کے خلاف مظاہرے کر رہے تھے، پھر اسے ایرانی جوہری پروگرام کے خلاف باور کرانے کی کوشش کی اور اس کے بعد ایرانی رجیم کی تبدیلی اس کا مقصد ٹھہرا۔
واضح رہےکہ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ میں اب تک مجموعی طور پر 6 امریکی فوجی مارے جا چکے ہیں۔