وزیراعظم شہباز شریف کا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان

پاکستان خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے اور ممکنہ تباہ کن جنگ کو روکنے کے لیے دن رات متحرک ہے ، قوم سے خطاب

               
March 27, 2026 · اہم خبریں, قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پٹرول کی قیمت میں 95 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 203 روپے فی لیٹر اضافے کی تجویز کو مسترد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیٹرول کی قیمت 544ڈیزل 790 روپے لیٹرہونا چاہیے لیکن حکومت نے بوجھ خود اٹھا لیا۔ پاکستان قومی مفادات کے تحفظ،عوام کو عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں قیامت خیز اضافے سے بچانے اور سفارتی محاذ پر امن کے قیام کے لیے دن رات متحرک ہے اور جنگ کو رکوانے کے لیے ثالثی کی بھرپور اور پرخلوص کوششیں کر رہا ہے، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ کر کے اس ہفتے مزید 56 ارب روپے کا اضافی بوجھ وفاقی حکومت خود برداشت کرے گی،کفایت شعاری اب اختیاری نہیں بلکہ ہماری مشترکہ ذمہ داری بن گئی ہے،حکومت نے انتہائی محدود وسائل کے باوجود بروقت اور موثر اقدامات سے مہنگائی کے طوفان کو عوام تک پہنچنے سے روک رکھا ہے،مشکل وقت کا مقابلہ کرنے کے لیے جامع منصوبہ بنا رہے ہیں جس کا اعلان چند دنوں میں کر دیا جائے گا،

قوم کے باہمی اتحاد اور تعاون سے مشکل حالات سے سرخرو ہو کر نکلیں گے۔جمعہ کو قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ وہ قوم سے ایسے وقت پر مخاطب ہیں جب پاکستان دو محاذوں پر انتہائی ذمہ داری کے ساتھ اہم ترین کردار ادا کر رہا ہے، ایک طرف ہم اپنے قومی مفادات کے تحفظ اور عوام کو عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں قیامت خیز اضافے سے بچانے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں تو دوسری جانب سفارتی محاذ پر امن کے قیام کے لیے دن رات متحرک ہیں،جنگ کو رکوانے کے لیے پاکستان سفارتی سطح پر ثالثی کی بھرپور اور پرخلوص کوششیں کر رہا ہے تاکہ خطہ اور برادر اسلامی ممالک تباہ کن جنگ اور اس کے منفی اثرات سے نجات پائیں اور اجتماعی مشاورت اور دانشمندی سے پائیدار امن کی راہ ہموار ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سفارتی کوششیں محض ایک بین الاقوامی سفارتی ذمہ داری نہیں بلکہ خالصتا ًاللہ تعالی کی رضا اور امت مسلمہ کے بہترین مفاد کے لیے ہیں، ہم سب ایک خدا ،ایک رسول اور ایک قرآن پر ایمان رکھتے ہیں ،اس لیے کوئی کسی بھی مکتبہ فکر یا مسلک سے تعلق رکھتا ہو بطور مسلمان سب کے دل میں امن کی تمنا یکساں ہے، اسی تناظر میں ،میں نے متعدد مرتبہ ایران اور خلیجی ممالک کے سربراہان کے ساتھ تفصیلی گفتگو کی، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار پوری محنت اور خلوص کے ساتھ ان کاوشوں میں مصروف عمل ہیں،چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اس مفاہمتی عمل کی کامیابی کے لیے نہایت فعال اور کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں،

عوام سے درخواست ہے کہ ان کاوشوں کی کامیابی کے لیے اللہ تعالی کے حضور دعا فرمائیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ دنیا اس وقت ایک غیر معمولی اور مشکل ترین صورتحال سے نبرد آزما ہے جہاں بڑی بڑی معیشتیں بے بسی کی خاموش تصویر بنی ہوئی ہیں، ترقی یافتہ ممالک جن کے پاس وسائل کے انبار ہیں آج وہ بھی شدید معاشی بحران کا سامنا کر رہے ہیں ،ایسے حالات میں اس بات کا اندازہ لگانا کوئی مشکل کام نہیں کہ پاکستان پر اس معاشی بوجھ کے کیا اثرات مرتب ہو سکتے تھے لیکن اللہ تعالی کے فضل و کرم سے ہم نے اس طوفان کا مقابلہ کرنے کے لیے پہلے ہی سے تیاری شروع کر رکھی تھی لہذا ہم نے فوری طور پر وہ فیصلے کیے جو ہرگز آسان نہیں تھے، ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص بجٹ میں 100 ارب روپے کی کٹوتی اور سادگی اور کفایت شعاری کی مہم سے ایک ایک پیسہ بچا کر اربوں روپے عام آدمی پر معاشی دباؤ کم کرنے کے لیے وقف کر دیے ہیں تاکہ تاریخ کی اس مشکل گھڑی میں جہاں تک ممکن ہو سکے حکومت عوام کو ان مشکلات سے بچانے کے لیے حتی المقدور وسائل عوام کے قدموں میں نچھاور کرے ۔وزیراعظم نے کہا کہ عوام پر یہ حقیقت اچھی طرح آشکار ہو چکی ہوگی کہ آج جب آپ اپنی گاڑی یا موٹر سائیکل میں پٹرول دلواتے ہیں تو ہر ایک لیٹر کے پیچھے حکومت کی بچت کی پالیسیاں اور احساس ذمہ داری کی جھلک موجود ہوتی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ یہ ہفتہ جو آج سے شروع ہو رہا ہے اس میں بھی مجھے پٹرول کی قیمت فی لیٹر 95 روپے اور ڈیزل کی قیمت فی لیٹر 203 روپے اضافہ کرنے کی تجویز دی گئی ہے جسے عوام کی مشکلات کے پیش نظر ایک بار پھر مسترد کر دیا ہے اور یہ بوجھ وفاقی حکومت نے ایک مرتبہ پھر خود اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے جس کا حجم 56 ارب روپے بنتا ہے، اس ہفتے مزید 56 ارب روپے کا اضافی بوجھ وفاقی حکومت خود برداشت کرے گی اور عوام کو یہ بوجھ نہیں اٹھانا پڑے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ عالمی منڈی میں قیمتوں کے حساب سے آج کے دن پاکستان میں پٹرول کی قیمت 544 روپے فی لیٹر ہونی چاہیئے تھی لیکن پاکستان کے عوام اسے صرف 322 روپے میں حاصل کر رہے ہیں ،اسی طرح ڈیزل کی قیمت بھی آج کے دن پاکستان میں 790 روپے فی لیٹر ہونی چاہیئے تھی لیکن حکومت ڈیزل صرف 335 روپے فی لیٹر فراہم کر رہی ہے تاکہ عوام پر مزید بوجھ نہ پڑے اور عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ نہ ہو۔

وزیراعظم نے کہا کہ قیمتوں کے یہ اعداد و شمار شاید گنتی لگتے ہوں لیکن حقیقت میں متواتر تین ہفتوں کے اندر 125 ارب روپے کا تاریخی بوجھ حکومت نے اپنے کاندھوں پر اٹھایا ہے تاکہ عوام کے کندھے اس بوجھ سے نہ جھکنے پائیں ۔انہوں نے کہا کہ یہ خطیر رقم عوام کی فلاح کے کئی بڑے منصوبوں کی تعمیر کے لیے استعمال ہو سکتی تھی لیکن اس لمحے مجھے عوام کے معاشی تحفظ سے زیادہ اور کچھ عزیز نہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ وہ لمحہ آ چکا ہے کہ ہم اپنی روزمرہ زندگی میں انقلابی تبدیلیاں لے کر آئیں، سفر کرنے سے پہلے سوچیں کہ کیا یہ سفر ضروری ہے، کیا ہر بار گاڑی یا موٹر بائیک نکالنا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ کفایت شعاری اب اختیاری نہیں بلکہ ہماری مشترکہ ذمہ داری بن گئی ہے،

دنیا بھر کے ممالک میں قیمتیں دو گنا ہو چکی ہیں اور وہاں پر پٹرول پمپس پر عوام کی لمبی لائنیں لگی ہوئی ہیں اور قیمتیں عوام کے بس سے باہر ہیں اور وہ حکومتیں بے بس ہو چکی ہیں لیکن آپ کی حکومت نے اپنے انتہائی محدود وسائل کے باوجود بروقت اور موثر اقدامات سے مہنگائی کے اس طوفان کو اب تک عوام تک پہنچنے سے روک رکھا ہے لیکن یہ جدوجہد حکومت اکیلی نہیں کر سکتی، میں اکیلا نہیں کر سکتا لہذا میری عوام سے ایک ہمدرد کے طور پر پرخلوص درخواست ہے کہ اس مشکل وقت کا مقابلہ کرنے کے لیے جو جامع منصوبہ ہم بنا رہے ہیں،اس میں بھرپور تعاون کریں جس کا اعلان چند دنوں میں کیا جائے گا۔وزیراعظم نے کہا کہ اللہ تعالی کے بے پایاں فضل و کرم اور قوم کے باہمی اتحاد اور تعاون سے ہم اس طوفان بلاخیز سے سرخرو ہو کر نکلیں گے انشاءاللہ۔ اللہ تعالی ہمارے وطن کو تا قیامت عزت اور وقار کے ساتھ سلامت رکھے اور امن کی کوششوں میں پاکستان کو کامیابی عطا فرمائے ،آمین ثم آمین۔
جب اپنا قافلہ عزم و یقین سے نکلے گا
جہاں سے چاہیں گے راستہ وہیں سے نکلے گا
وطن کی مٹی مجھے ایڑیاں رگڑنے دے
مجھے یقین ہے چشمہ یہیں سے نکلے گا۔