چکوال : پولیس فائرنگ سے جاں بحق آسٹریلوی لڑکی کے والد کا انصاف کا مطالبہ

سی سی ڈی کی مبینہ اندھا دھند فائرنگ سے 9 سالہ آسٹریلوی بچی ہانیہ احمد جاں بحق ہو گئی تھی۔

June 16, 2026 · قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

چکوال : پنجاب کے ضلع چکوال میں ڈکیتی کی ایک واردات کے دوران پولیس کے نئے قائم کردہ ونگ ‘کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ’  کی مبینہ اندھا دھند فائرنگ سے 9 سالہ آسٹریلوی بچی ہانیہ احمد جاں بحق ہو گئی۔ مقتولہ کے والد نے واقعے کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے انصاف اور پولیس ونگ کے طریقہ کار کو درست کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

برطانوی اخبار ‘دی گارڈین’ کی رپورٹ کے مطابق، آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والی نو سالہ ہانیہ احمد اپنے والدین اور 11 سالہ بھائی عفان کے ساتھ چکوال میں اپنے ہم زلف علی اعجاز کے گھر چھٹیاں گزارنے آئی ہوئی تھی۔ بدھ کی رات گئے نامعلوم ڈاکوؤں نے گھر کے باہر فیملی کو گھیر لیا اور نقدی، زیورات اور دیگر قیمتی سامان چھیننے لگے۔

عینی شاہدین اور فیملی کے مطابق ہانیہ کے والد عدیل احمد نے ڈاکوؤں کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے التجا کی کہ میرے خاندان کو نقصان نہ پہنچائیں اور وہ اپنا تمام سامان دینے پر راضی ہو گئے۔ لیکن ابھی اس گفتگو کو 30 سیکنڈ ہی گزرے تھے کہ قریب ہی موجود سی سی ڈی پولیس ونگ کے اہلکار مشین گنوں کے ساتھ وہاں پہنچے اور انہوں نے ڈاکوؤں اور کار میں فرار ہونے کی کوشش کرنے والے فیملی ممبران پر سیدھی فائرنگ کر دی۔

ایک عینی شاہد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا میں نے تقریباً 20 میٹر کے فاصلے سے دیکھا کہ فیملی کی گاڑی تیز رفتاری سے جا رہی تھی اور پولیس اہلکار سیدھا گاڑی پر گولیاں برسا رہے تھے۔ اس کے بعد سی سی ڈی کے دو اہلکاروں نے ایک راہگیر سے موٹر سائیکل چھینی، اس پر سوار ہوئے اور دیگر پولیس اہلکاروں کی گاڑی کے ساتھ فیملی کار کا پیچھا کرنا شروع کر دیا۔

مقتولہ کے والد عدیل احمد نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے انصاف کی اپیل کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ پولیس کے اس نئے متنازع ونگ کے جارحانہ طریقہ کار کو لگام دی جائے تاکہ آئندہ کسی اور کا بچہ اس طرح کی لاپرواہی کا شکار نہ ہو۔ پولیس حکام کی جانب سے واقعے کی تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔