کاکروچ تحریک میں شامل طلبا وطالبات کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن۔مددگاراورحامی بھارتی مسلمان خصوصاََزیر عتاب

سی جے پی نے مودی حکومت پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگا دیا

July 28, 2026 · امت خاص

 

کاکروچ جنتا پارٹی نے  بھارتی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ وہ مظاہرین کے خلاف درج ایف آئی آرز واپس لے ورنہ انہیں دوبارہ احتجاج شروع کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔

 

سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل کے ساتھ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، سی جے پی کے ترجمان سورو داس نے کہا کہ جب 25 تاریخ کو تحریک کو ختم کیا گیا تھا، تو انہیں خدشہ تھا کہ جیسے ہی تحریک ختم ہوتی ہے حکومت مظاہرین کو نشانہ بنانا شروع کر سکتی ہے۔

سورو داس نے کہا،کہ یہ خدشہ انتہائی سنگین اور حقیقت پر مبنی ہے۔

سی جے پی کے ترجمان آشوتوش رانکا نے کہا کہ اگر حکومت نے مظاہرین کے خلاف درج مقدمات واپس نہیں لیے تو وہ دوبارہ احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے۔ پریس کانفرنس میں، سی جے پی لیڈر رتنا سنگھ نے بتایا کہ آسام، بہار اور مغربی بنگال میں مظاہروں میں ملوث بہت سے لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے اور ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔

 

سی جے پی نے مظاہرین کے خلاف پولیس کی بربریت سے متعلق شکایات درج کرنے کے لیے ‘ساکشی’ پلیٹ فارم کا آغاز کیا ہے۔

راجیہ سبھا ایم پی اور سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل نے کہا کہ مظاہرین کے خلاف قانونی کارروائی نہیں کی جانی چاہئے۔ کپل سبل نے طلباء کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ایک کروڑ کے ذاتی تعاون کے ساتھ ‘قانونی دفاعی فنڈ’ بنانے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے وکلاء سے اپیل کی کہ وہ طلبہ کے خلاف درج جھوٹے مقدمات کے خلاف لڑنے میں تعاون کریں۔

 

کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے چیف ترجمان سورو داس نے آسام، مغربی بنگال اور بہار میں طلباء اور دیگر مظاہرین کی گرفتاری سے متعلق رپورٹوں پر تشویش کا اظہار کیا اور مرکز سے ان کی فوری رہائی اور ایف آئی آر واپس لینے کی اپیل کی۔

 

ایکس پر ایک پوسٹ میں، داس نے کہاکہ نوجوانوں کے لیے اس طرح سے بھروسہ توڑنا ناقابل قبول ہے۔انہوں نے مزید کہا، “پارٹی نے اپنا ملک گیر احتجاج اس وقت ختم کر دیا تھا جب حکومت ہند نے ہمیں یقین دہانی کرائی تھی کہ مظاہرین کے خلاف کوئی تعزیری کارروائی نہیں کی جائے گی۔ ہمیں مختلف ریاستی ایجنسیوں بالخصوص آسام، مغربی بنگال اور بہار میں طلباء اور دیگر مظاہرین کو نشانہ بنائے جانے، حراست میں لیے جانے یا گرفتار کیے جانے کی متعدد رپورٹس پر گہری تشویش ہے۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہند نے ہمیں یقین دلایا کہ بی جے پی کے زیر اقتدار یا این ڈی اے کی حکمرانی والی کسی بھی ریاست میں کسی بھی مظاہرین کے خلاف موجودہ میں یا مستقبل میں کوئی تعزیری کارروائی نہیں کی جائے گی۔

کاکروچ جنتا پارٹی نے پہلے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں اور بعد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، نریندر مودی حکومت پر طلبہ کی تحریک ختم کرنے کے لیے ہونے والے “معاہدے کی خلاف ورزی” کا الزام عائد کیا ہے۔

سی جے پی (CJP) کے ترجمان اشوتوش رانکا نے کہا،کہ ہم مظاہرین کے خلاف کوئی پولیس کارروائی نہ کرنے کے معاہدے کی مکمل خلاف ورزی دیکھ رہے ہیں۔ بہار اور بنگال میں سیکڑوں طلبہ کو گرفتار کیا گیا ہے، دہلی اور دیگر ریاستوں میں سیکڑوں طلبہ کی نگرانی اور انہیں ہراساں کیا جا رہا ہے۔ دہلی میں مظاہرین کو لاجسٹک (امدادی سامان) فراہم کرنے والے رضاکاروں کو حراست میں لیے جانے کی متعدد رپورٹیں سامنے آ رہی ہیں۔

 

سی جے پی کا یہ بیان ان رپورٹوں کے بعد سامنے آیا ہے جن کے مطابق احتجاج میں حصہ لینے والے طلبہ، خاص طور پر دہلی، بہار، آسام اور مغربی بنگال میں، ایف آئی آرز، گرفتاریوں اور دھمکیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

 

رپورٹس ہیں کہ بہار کے مختلف حصوں میں کم از کم 27 ایف آئی آرز درج کی گئی ہیں، جن میں لگ بھگ 2,000 نامعلوم طلبہ کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔

 

پولیس نے بہار کے مختلف اضلاع اور شہروں بشمول پٹنہ، سیوان اور چھپرا سے 90 سے زائد افراد کو گرفتار اور حراست میں بھی لیا ہے۔

 

کولکتہ، مغربی بنگال میں 7 ایف آئی آرز درج کی گئی ہیں اور نیٹ (NEET) پیپر لیک کے خلاف کولکتہ میں منظم کیے گئے احتجاج کے سلسلے میں درج مقدمات میں 14 سے زائد ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔

 

دلچسپ بات یہ ہے کہ بی جے پی کے ایک وزیر کی بیٹی، جنہوں نے احتجاج میں حصہ لیا تھا، کو صاف بچا کر چھوڑ دیا گیا ہے۔ دوسری طرف، بہار، آسام اور مغربی بنگال میں درج ایف آئی آرز اور مقدمات کا خاص نشانہ مسلمانوں کے نام ہیں جنہیں متعدد ایف آئی آرز میں ملزم بنایا گیا ہے۔

 

ایسی رپورٹیں بھی ہیں کہ احتجاج میں حصہ لینے والے کئی طلبہ، خاص طور پر طالبات کو دھمکی آمیز فون کالز موصول ہو رہی ہیں۔ صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے، کاکروچ جنتا پارٹی نے حکومت کو وارننگ بھی دی ہے کہ اگر طلبہ کے خلاف ایف آئی آرز اور مقدمات واپس نہ لیے گئے اور گرفتار و حراست میں لیے گئے طلبہ کو رہا نہ کیا گیا، تو وہ اپنا احتجاج دوبارہ شروع کر دے گی۔

 

اشوتوش رانکا نے مطالبہ کیا ہے کہ مظاہرین کے خلاف تمام ایف آئی آرز فوری طور پر واپس لی جائیں، طلبہ کو رہا کیا جائے اور دہلی پولیس ، مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں ، بی جے پی کی اتحادی ریاستوں کی پولیس کی جانب سے (ہمارے معاہدے کے مطابق) مستقبل میں کوئی ایف آئی آر درج نہ کی جائے، ایسا نہ ہونے کی صورت میں ہم دوبارہ احتجاج پر بیٹھنے پر مجبور ہوں گے۔

 

کاکروچ جنتا پارٹی نے نریندر مودی حکومت سے ہفتے کے روز ہونے والے اس معاہدے کی کاپی تحریری شکل میں فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا جس کی وجہ سے احتجاج ختم ہوا تھا۔

 

اشوتوش رانکا نے کہاکہ ہم یہ مطالبہ بھی کرتے ہیں کہ قانونی مقدمات سے متعلق تحریری معاہدہ حکومتِ ہند کے طے شدہ ٹائم لائنز (وقت کی حد) کے مطابق منگل تک ہمارے ساتھ شیئر کیا جائے۔

 

سی جے پی کی طرف سے نیا احتجاج شروع کرنے کی وارننگ اس ردِعمل کے بعد بھی سامنے آئی ہے کہ جب طلبہ احتجاج میں حصہ لینے کی پاداش میں مشکلات جھیل رہے تھے، تو وہ (سی جے پی) ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں جشن منا رہی تھی۔

 

نئی دہلی میں جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے احتجاج کے دوران 35 دن تک مفت کھانا، پانی اور دیگر سامان مہیا کرنے والے رضاکار محمد جنید نے پارٹی لیڈرز پر سنگین الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ احتجاج ختم ہونے کے بعد انہوں نے مجھ سے رابطہ بھی ترک کر دیا ہے۔

 

ہندوستان لائیو سے بات کرتے ہوئے جنید نے کہا، سی جے پی کے لیڈر مجھے مکمل طور پر نظر انداز کر رہے ہیں۔ وہ مجھ سے رابطے میں نہیں ، اگر کسی جانور کو بھی 24 گھنٹے اپنے پاس رکھیں تو اس سے لگاؤ ہو جاتا ہے، میں 35 دن تک ان کے ساتھ انسان کی طرح رہا اور انہیں کھانا کھلاتا رہا۔

 

احتجاج کے دوران جنید بھائی کی مسلسل خدمت کو سراہا گیا تھا۔ وہ طلبہ اور مظاہرین کے لیے بریانی، سموسے، پکوڑے اور پانی کا بندوبست کرتے رہے۔ احتجاج ختم ہونے اور تعلیم کے وزیر دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے بعد جنید احتجاجی مقام پر موجود نہیں تھے۔ بعد میں ان پر پولیس کی جانب سے فنڈنگ کے ذرائع پوچھے گئے، ان کے اہل خانہ کو حراست میں لیا گیا (جو بعد میں رہا ہو گئے)۔

 

جنید نے مزید کہا کہ رشتہ کبھی نہیں ٹوٹے گا، لیکن کم از کم لیڈرز ان سے ملاقات یا ہاتھ ملانے تو آتے۔ یہ واقعہ احتجاجی تحریکوں میں رضاکاروں کے ساتھ سلوک پر سوالات اٹھا رہا ہے۔

 

سی جے پی کی جانب سے ابھی تک اس حوالے سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔