ایران اور لبنان پر اسرائیلی حملے، تہران میں تباہی

18 فوجی اور پانچ شہری شہید ہونے کی تصدیق، اسکول پر حملے میں شہید طالبات کی اجتماعی نماز جنازہ

               

ایران کے علاقوں بوشہر اور اصفہان میں اسرائیلی حملوں کے بعد دھواں اٹھ رہا ہے۔۔۔

اسرائیل اور امریکہ نے منگل کے روز ایران کے مختلف شہروں اور لبنان میں بمباری کی ہے۔

تہران کے وسطی علاقے میں ایران کی قدیم پارلیمنٹ کی عمارت کے قریب فضائی حملے کیے گئے ہیں۔ یہ علاقہ عجائب گھروں اور ثقافتی مراکز کے لیے مشہور ہے، جہاں حملے سے عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
تہران کے مشرقی حصے سے دھوئیں کے سیاہ بادل اٹھتے دیکھے گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کے کئی ہیڈ کوارٹرز اور ریاستی ٹیلی ویژن (IRIB) کے دفاتر کو نشانہ بنایا گیا

مہر نیوز ایجنسی کے مطابق، ہمدان کے رہائشی علاقوں پر ہونے والے حملوں میں کم از کم 5 شہری جاں بحق اور 25 زخمی ہوئے ہیں۔

ایرانی فوج نے تصدیق کی ہے کہ کرمان میں ایک فوجی ایئر بیس پر حملے کے نتیجے میں 13 اہلکار جاں بحق ہوئے ہیں۔ اسنا (ISNA) نیوز ایجنسی کے مطابق بوشہر کے شہروں ’جام‘ اور ’دیر‘ میں پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کی فضائی اور بحری قوت کے 5 اہلکار جاں بحق ہوئے ہیں۔

جنوبی شہر میناب میں ایک لڑکیوں کے اسکول پر ہونے والے ہولناک حملے میں شہید ہونے والے طالبات اور عملے کی تعداد 165 تک پہنچ گئی ہے۔ آج تہران اور دیگر شہروں میں ان معصوم بچیوں کی اجتماعی نمازِ جنازہ ادا کی گئی، جہاں “امریکہ اور اسرائیل مردہ باد” کے نعرے گونجتے رہے۔

:
ادھر بیروت کے جنوبی مضافات میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر درجنوں میزائل داغے گئے ہیں، جس سے کثیر المنزلہ عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئی ہیں۔
اسرائیلی وزیرِ دفاع نے لبنانی سرحد پر مزید فوج بھیجنے اور نئی تزویراتی پوزیشنز پر کنٹرول حاصل کرنے کا حکم دیا ہے، جس سے زمینی جنگ کے پھیلاؤ کا خطرہ یقینی ہو گیا ہے۔