ایران کے ایٹمی ہتھیار پروگرام کے شواہد نہیں ملے۔عالمی جوہری ادارہ
سربراہ آئی اے ای اے نے ایران سے مکمل تعاون کا بھی مطالبہ کیا
اسرائیل اس سے قبل بھی خطے میں جوہری تنصیبات کے خلاف آپریشن کر چکا ہے، فائل فوٹو
اقوامِ متحدہ کے جوہری نگران ادارے آئی اے ای اے کے سربراہ رفال گروسی کا کہنا ہے کہ ایران میں ایٹمی ہتھیار بنانے کے کسی منظم اور مربوط پروگرام کے شواہد نہیں ملے۔ تاہم انہوں نے تصدیق کی کہ ایران 60 فیصد تک یورینیم افزودہ کر چکا ہے، جو عام توانائی ضروریات سے کہیں زیادہ ہے اور اس پر عالمی برادری کو تشویش ہے۔
الجزیرہ کے مطابق بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ گروسی نے کہا ہے کہ ادارے کے معائنہ کاروں کو ایران میں جوہری ہتھیار بنانے کے کسی منظم اور مربوط پروگرام کے شواہد نہیں ملے۔
ان کا کہنا تھا کہ افزودہ یورینیم کے بڑے ذخیرے پر تشویش ہے۔ انہوں نے ایران سے مکمل تعاون کا مطالبہ کیا۔