ایران کی امریکی سی آئی اے کو مذاکرات کی پیشکش، نیویاک ٹائمز کا دعویٰ

وائٹ ہاؤس اور سی آئی اے کی جانب سے فی الحال اس رپورٹ پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔

               
فائل فوٹو

فائل فوٹو

نیویارک : ایران کی وزارتِ انٹیلی جنس کے حکام نے جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی مرکزی انٹیلی جنس ادارے (سی آئی اے) کے ساتھ مذاکرات کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے بدھ کے روز دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے ایک تیسرے ملک کی انٹیلی جنس ایجنسی کے ذریعے امریکہ کو بات چیت کی پیشکش پہنچائی ہے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق، مشرقِ وسطیٰ اور مغربی ممالک کے حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ پیغام ایک گمنام ملک کی جاسوسی ایجنسی کے ذریعے واشنگٹن تک پہنچایا گیا ہے۔وائٹ ہاؤس اور سی آئی اے کی جانب سے فی الحال اس رپورٹ پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔ تاہم، واشنگٹن میں حکام اس حوالے سے تذبذب کا شکار ہیں کہ آیا تہران یا ٹرمپ انتظامیہ واقعی فوری طور پر کشیدگی کم کرنے کے لیے تیار ہیں۔

جنیوا میں اقوامِ متحدہ کے لیے ایران کے سفیر نے امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کو مسترد کر دیا ہے۔ یہ بیان امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حالیہ مشترکہ حملوں کے بعد سامنے آیا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز اپنے ایک بیان میں کہا کہ تہران بات چیت کا خواہشمند ہے، لیکن اب “بہت دیر ہو چکی ہے”۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے خلاف امریکہ کی فوجی کارروائی فی الحال جاری رہے گی۔