اسرائیل کیلئے نہیں لڑیں گے، امریکی سینیٹ میں نعرہ لگانے والے میرین کا ہاتھ توڑ دیا گیا

احتجاج کرنیوالے سابق اہلکار کو قابو کرنے کیلئے امریکی سینیٹر خود میدان میں کود پڑا

               

امریکی سینیٹ کمیٹی نے میرین کور کے سابق اہلکار کو نکالنے کا منظر، سینیٹر بھی اسے اٹھانے کیلئے جھکے ہوئے ہیں

امریکی سینیٹ کی ایک سماعت کے دوران میرین کور کے سابق اہلکار برائن میگنس نے اسرائیل کے لیے جنگ سے متعلق نعرہ لگایا، جس کے بعد انہیں زبردستی باہر نکال دیا گیا جبکہ اس دوران ایک سینیٹر نے ان کا ہاتھ توڑ دیا۔

واشنگٹن میں سینیٹ کی کمیٹی ایک سماعت کے دوران اس وقت ہنگامہ کھڑا ہوگیا جب امریکی میرین کے سابق اہلکار Brian McGinnis اچانک کھڑے ہوگئے اور زور سے نعرہ لگایا کہ “کوئی بھی اسرائیل کے لیے لڑنا نہیں چاہتا”۔

عینی شاہدین کے مطابق انہوں نے اسرائیل کے لیے امریکی فوجیوں کی جانیں قربان کرنے کے معاملے پر سوال اٹھایا، جس کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں نے انہیں قابو میں لے کر سماعت سے باہر نکال دیا۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہیں باہر نکالتے وقت ان کا ہاتھ توڑ دیا گیا۔ بعض پوسٹس میں الزام عائد کیا گیا کہ ریپبلکن سینیٹر Tim Sheehy، جو ماضی میں نیوی سیل رہ چکے ہیں، نے مداخلت کرتے ہوئے انہیں قابو کرنے میں حصہ لیا اور اسی دوران میرین اہلکار کا ہاتھ توٹ گیا۔

وائرل ویڈیو میں ہڈی ٹوٹنے کی آواز سنائی دیتی ہے جب کہ ایک شخص زور سے کہہ رہا ایک امریکی سینیٹر نے ایک میرین کا ہاتھ توڑ دیا۔

یاد رہے کہ امریکہ کی میرین کور ایک ممتاز فورس سمجھتی جاتی ہے۔

دوسری جانب کچھ صارفین نے دعویٰ کیا کہ سینیٹر نے کیپیٹل پولیس کی مدد کرتے ہوئے ایک مشتعل شخص کو قابو کیا جو سماعت میں جارحانہ انداز میں مداخلت کر رہا تھا۔

یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور اسرائیل سے متعلق امریکی پالیسی پر ملک کے اندر بحث شدت اختیار کر رہی ہے، جبکہ بعض حلقے سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا سابق فوجیوں کو کھلے عام پالیسی پر تنقید کا حق حاصل ہے یا نہیں۔