پاک افغان سرحدی کشیدگی برقرار: روس، ترکی اور چین کی ثالثی کی پیشکش
افغانستان کے صوبوں ننگرہار، پکتیا، قندھار اور زابل میں درۂ خیبر لائن کے قریب طالبان اور پاکستانی افواج کے درمیان شدید لڑائی
فائل فوٹو
اسلام آباد/کابل : پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی جھڑپوں کا سلسلہ ایک ہفتے سے جاری ہے، جس کے باعث دونوں جانب جانی و مالی نقصان کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ کشیدگی میں اضافے کے بعد عالمی برادری متحرک ہوگئی ہے اور روس، ترکی سمیت چین نے دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان ثالثی کی پیشکش کر دی ہے۔
رپورٹس کے مطابق گزشتہ شب بھی مشرقی اور جنوب مشرقی افغانستان کے صوبوں ننگرہار، پکتیا، قندھار اور زابل میں درۂ خیبر لائن کے قریب طالبان اور پاکستانی افواج کے درمیان شدید لڑائی ہوئی۔
واضح رہے کہ یہ کشیدگی گزشتہ ہفتے اس وقت عروج پر پہنچی جب پاکستان نے کابل، قندھار اور پکتیا میں فضائی حملے کیے۔ پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ حملے دفاعی نوعیت کے تھے اور مخصوص اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ پہلی بار کابل اور قندھار جیسے بڑے شہروں تک ان کارروائیوں کا دائرہ پھیلنے سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔
افغان وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ ان جھڑپوں اور فضائی حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت متعدد شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ دوسری جانب پاکستان نے ان دعوؤں کی سختی سے تردید کی ہے۔
وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ پاکستان انتہائی محتاط طریقے سے صرف دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہا ہے اور شہری آبادی کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا گیا۔طالبان حکومت نے ان کارروائیوں کو جارحیت قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے جوابی کارروائی میں ڈیورنڈ لائن پر پاکستانی چوکیوں کو نشانہ بنایا ہے۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔
روس اور ترکی نے باضابطہ طور پر فریقین کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی ہے۔
ماسکو میں افغان سفارتخانے کے مطابق روس کے خصوصی نمائندے برائے افغانستان ضمیر کابلوف نے طالبان حکومت کے سفیر گل حسن سے ملاقات میں کہا کہ روس افغانستان اور پاکستان کے درمیان مسائل حل کرنے کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
روس نے ایک بار پھر زور دیا ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان جاری تنازع کو بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
ملاقات میں طالبان سفیر نے الزام عائد کیا کہ ’جھوٹی میڈیا رپورٹس افغانستان کی حقیقت سکے برعکس معلومات پھیلا رہی ہیں‘ تاہم انھوں نے اس بارے میں مزید وضاحت نہیں کی۔
چینی سفیر نے افغان وزیرِ خارجہ سے ملاقات کی ہے جس میں سرحدی صورتحال اور استحکام پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
طالبان حکومت کی وزارتِ خارجہ کے مطابق کابل میں چین کے سفیر ژاؤ شِنگ نے افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی سے ملاقات کی ہے جس میں افغانستان اور پاکستان کے درمیان جاری تنازع پر اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے۔
بیان کے مطابق امیر خان متقی نے زور دیا کہ افغانستان ایسے تعلقات چاہتا ہے جو باہمی احترام، داخلی معاملات میں عدم مداخلت اور اچھے ہمسایہ تعلقات پر مبنی ہوں۔
چینی سفیر نے موجودہ صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ کچھ بیرونی عناصر خطے کے استحکام اور ترقی کے خلاف کام کر رہے ہیں تاہم انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ عناصر کون ہیں یا ان کا مقصد کیا ہے۔
انھوں نے امید ظاہر کی کہ خطے کے ممالک زیادہ ہم آہنگی اور تعاون کے ذریعے ان منفی اثرات کو روک سکتے ہیں۔