جنگ کے دوران مسجد اقصیٰ پر میزائل مارنے کا اسرائیلی منصوبہ

امریکی صحافی ٹکر کارلسن کا انکشاف، مقصد مسجد الاقصیٰ کی جگہ نئے ہیکل کی تعمیر ہے

               

بیت المقدس میں حرم الشریف کا منظر جس میں گنبد صخرہ (ڈوم آف دی راک) اور مسجد الاقصیٰ کا گنبد (بائیں) دونوں ہی دکھائی دے رہے ہیں۔

امریکی صحافی اور تجزیہ کار ٹکر کارلسن نے اپنے حالیہ پروگرام میں انکشاف کیا ہے کہ ایران کے جنگ کے دوران اسرائیل مسجد الاقصیٰ میں ڈوم آف دی راک (ہیکل سلیمانی) پر میزائل مار سکتا ہے اور الزام ایران پر عائد کیا جائے گا۔ اس کا مقصد یہودیوں کا تیسرا ہیکل تعمیر کرنا ہے۔

یاد رہے کہ یہودی پہلے ہی نئے ہیکل یا ٹیمپل ماؤنٹ کی تعمیر کیلئے کوششیں کر رہے ہیں۔ یروشلم میں ٹیمپل ماؤنٹ اس سے پہلے دو مرتبہ تباہ کیا جا چکا ہے اور مسجد الاقصیٰ اسی احاطے میں بنائی گئی تھی جسے مسلمان الحرام الشریف کہتے ہیں۔ اسی علاقے میں سنہری گنبد والا گنبدصخرہ ہے جو مسلمان کیلئے بھی مقدس ہے اور مسلمانوں نے ہی تعمیر کیا تھا۔ انگریزی میں اسے Dome of the Rock کہتے ہیں۔

کارلسن نے اپنی تازہ پوڈ کاسٹ میں 2024 کے اگست میں ایک اسرائیلی ربی یوسف مزراچ کے بیان کا حوالہ دیا، جس میں ربی نے تجویز کی تھی کہ اسرائیل ایران کے ساتھ تنازع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے الاقصیٰ پر میزائل حملہ کرے اور الزام ایران پر ڈال دے۔کارلسن کا کہنا ہے کہ اس طرح کا اقدام نہ صرف مسلمانوں اور دیگر گروہوں میں تقسیم پیدا کرے گا بلکہ یورپ، کینیڈا، آسٹریلیا، امریکہ اور روس جیسے ممالک میں بھی شدید ہنگامے اور خونریزی کا باعث بن سکتا ہے، جہاں مسلمان آبادی موجود ہے۔ انہوں نے اسے “دشمنوں کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرنے” کی حکمت عملی قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ ایسا نہ ہو۔

چند روز قبل ٹکر کارلسن نے ہی انکشاف کیا تھا کہ خلیجی ممالک میں حملے ایران نے نہیں بلکہ موساد کے ایجنٹوں نے کیے ہیں تاکہ عرب ممالک کو جنگ میں گھسیٹا جا سکے۔ یہی بات بعد میں ایرانی حکام نے کہی۔

اپنی تازہ پوڈ کاسٹ  میں ٹکر کارلسن نے ان رپورٹوں کا بھی حوالہ دیا جن میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکی فوجیوں کو یہ کہہ کر ایران جنگ کے لیے تیار کیا گیا کہ یہ قرب قیامت کی آخری جنگ ہے۔ اس سے پہلے امریکی وزیر جنگ کہہ چکے ہیں کہ اسلام پسند ممالک کو ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں۔