تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے قریب شدید بمباری، سفیر سمیت تمام عملہ محفوظ

حملوں میں اب تک سفارتخانے کی عمارت یا عملے کو کوئی نقصان پہنچنے کی اطلاع نہیں ملی ، پریس اتاشی

               
March 6, 2026 · اہم خبریں, قومی
فوٹوسوشل میڈیا

فوٹوسوشل میڈیا

اسلام آباد/تہران : ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور فضائی حملوں کے نتیجے میں تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے قریبی علاقے میں شدید بمباری کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

پاکستانی سفارتخانے کے پریس اتاشی نے تصدیق کی ہے کہ آج صبح سفارتخانے کے نواح میں زوردار دھماکے ہوئے، تاہم تمام پاکستانی سفارتکار اور عملہ مکمل طور پر محفوظ ہے۔

پاکستانی سفارتخانہ تہران کے ایک حساس علاقے میں واقع ہے جہاں قریب ہی ایرانی فوجی تنصیبات، بشمول ایک فوجی تربیتی مرکز، موجود ہیں۔ سفارتخانے کی عمارت کے بالکل سامنے ایک ہسپتال بھی واقع ہے۔ حکام کے مطابق سفیرِ پاکستان مدثر ٹیپو سمیت سفارتی مشن کے تقریباً 50 ارکان اس وقت تہران میں موجود ہیں۔

خوش قسمتی سے حملوں میں اب تک سفارتخانے کی عمارت یا عملے کو کوئی نقصان پہنچنے کی اطلاع نہیں ملی۔

امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے آغاز کے بعد سے پاکستانی شہریوں کی وطن واپسی کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق:

 اب تک 2,000 سے زائد پاکستانی شہری اور 37 سفارتی خاندان ایران سے بحفاظت نکالے جا چکے ہیں۔

زیادہ تر افراد کو بلوچستان کے راستے زمینی طور پر پاکستان منتقل کیا گیا ہے، جبکہ کچھ خاندانوں نے آذربائیجان کے ذریعے فضائی راستہ اختیار کیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ تفتان کے مقام پر پاکستان-ایران سرحد پر آمد و رفت کا سلسلہ جاری ہے، جہاں سے پاکستانی شہریوں سمیت غیر ملکیوں کا انخلاء بھی جاری ہے۔