وینزویلا اور ایران کے بعد ٹرمپ نے اگلا ہدف چن لیا
اس کی قیادت معاہدے کے لیے مذاکرات کر رہی ہے۔امریکی صدر
امریکی صدرنے عندیہ دیاہے کہ وینزویلااور ایران کے بعد اگلانمبر کیوبا کا ہے۔انٹر میامی فٹ بال ٹیم کے اسٹار کھلاڑیوں لیونل میسی اور لوئس سواریز کی موجودگی میں ٹرمپ نے ٹیم کے مالک اور کیوبن نژاد ارب پتی جارج ماس کے ساتھ گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ اب کسی بھی وقت جزیرے پر تبدیلی آسکتی ہے، وہ جلد ہی کیوبا کا جشن منائیں گے انہوں نے مزید کہا کہ کیوبا کے حکام معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔
سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہاکہ کیوبا بہت جلد گرنے والا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس کی قیادت معاہدے کے لیے مذاکرات کر رہی ہے اور وہ مارکو روبیو کو وہاں بھیجنے والے ہیں تاکہ دیکھیں کہ کیا بنتا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق اس وقت ساری توجہ ایران پر ہے، لیکن ہمارے پاس کافی وقت ہے، کیوبا 50 سال بعد اب (تبدیلی کے لیے) تیار ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ،اگرچہ اس کے لیے کسی حتمی وقت کا تعین نہیں کیا گیا، لیکن ٹرمپ کے بیانات سے واضح ہے کہ وہ خطے میں اپنے منصوبوں کے تحت کیوبا پر دباؤ برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ کو وہاں بھیجنے کا ذکر آمنے سامنے مذاکرات کے لیے ممکنہ دورے کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے۔ اگرچہ یہ شروع میں بعید از قیاس لگتا ہے، لیکن رواں سال براعظم امریکہ میں کئی غیر متوقع واقعات ہوئے ہیں، جن کا آغاز 3 جنوری کو وینزویلا میں نکولس مادورو کی اقتدار سے زبردستی بے دخلی سے ہوا تھا۔
وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی کے بعد، کیوبا اپنے سب سے قریبی اتحادی اور خام تیل کے اہم ذریعے سے محروم ہو گیا۔ ٹرمپ انتظامیہ کے دباؤ کے باعث کیوبا کا کوئی دوسرا توانائی پارٹنر، خاص طور پر میکسیکو، تیل کی فراہمی میں اس کمی کو پورا کرنے کے لیے سامنے نہیں آ سکا۔
ایندھن کے بحران کے اثرات پورے کیوبا پر واضح ہیں۔ کچرا اٹھانے والے ٹرکوں کی کمی کی وجہ سے سڑکوں پر گندگی کے ڈھیر لگے ہیں۔ عوامی صحت کے بحران کے خوف سے شہریوں نے کچرے کو جلانا شروع کر دیا ہے، جس سے فضا میں دھواں بھر گیا ہے۔ یہاں تک کہ دارالحکومت ہوانا کے خوشحال علاقوں میں بھی لوگ بلیک آؤٹ کے دوران لکڑیوں پر کھانا پکانے پر مجبور ہیں۔
ایندھن کی کمی کا مطلب صرف گاڑیوں کا بند ہونا نہیں بلکہ جنریٹرز کا رک جانا بھی ہے۔ زیادہ تر شہریوں کے پاس سولر پینل کی سہولت نہیں اور وہ ملک کے پرانے سوویت دور کے بجلی گرڈ پر انحصار کرتے ہیں۔ تیل کی کمی سے بجلی گھر ملکی ضرورت کے مطابق بجلی پیدا کرنے سے قاصر ہیں۔
اس صورتحال میں ٹرمپ اور روبیو نے بارہا اشارہ دیا ہے کہ یہ کیوبا پر دباؤ کم کرنے کا وقت نہیں ۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس پالیسی سے قیادت کے بجائے عام کیوبن
شہری متاثر ہو رہے ہیں، اور یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا یہ حکمت عملی جزیرے پر کسی اندرونی بغاوت کو بھڑکانے کے لیے ہے؟دوسری طرف، کیوبا کی حکومت نے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ مبینہ مذاکرات کی تردید نہیں کی۔ اطلاعات کے مطابق، ہوانا میں رابطے کا مرکزی نقطہ رائول کاسترو کے پوتے،روڈریگز کاسترو ہیں۔
عوامی مشکلات کو دیکھتے ہوئے، حکومت نے نجی شعبے کو محدود پیمانے پر ایندھن درآمد کرنے کی اجازت دی ہے، لیکن کیوبن عوام کو شک ہے کہ اس سے کوئی بڑا فرق پڑے گا۔ اس دوران سیاحت، جو کیوبا کی معیشت کا انجن ہے، بری طرح متاثر ہوئی ہے کیونکہ ہوانا میں طیاروں کے لیے ایندھن دستیاب نہیں، جس کے باعث ایئر فرانس جیسی عالمی ایئر لائنز نے پروازیں معطل کر دی ہیں۔ فی الحال موسم سرد ہونے کی وجہ سے لوگ بغیر بجلی کے گزارا کر رہے ہیں، لیکن شدید گرمی کے موسم میں اے سی اور پنکھوں کے بغیر زندگی گزارنے کا تصور لوگوں کو پریشان کر رہا ہے۔