ایران کاآبنائے ہرمز سے صرف چینی جہازوں کوگزرنے کی اجازت دینے کاعندیہ
اگر کوئی جہاز پابندیوں کے باوجود گزرنے کی کوشش کرے گا تو اسے نشانہ بنایا جا سکتا ہے
آبنائے ہرمز سے متعلق نئی صورتحال سامنے آئی ہے جہاں ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران ممکنہ طور پر صرف چین کے جہازوں کو اس راستے سے گزرنے کی اجازت دینے پر غور کر رہا ہے۔
آبنائے ہرمز خلیج فارس کی بندرگاہوں کو کھلے سمندر سے جوڑنے والا نہایت اہم سمندری راستہ ہے۔ ماہرین کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی سپلائی اسی گزرگاہ سے گزرتی ہے اور اس راستے میں کسی بھی رکاوٹ سے عالمی توانائی کی منڈی اور سپلائی چین شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق خطے میں کشیدگی بڑھنے کے بعد ایران نے اس اہم آبی گزرگاہ پر نگرانی سخت کر دی ہے۔ ایرانی فورسز نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی جہاز پابندیوں کے باوجود گزرنے کی کوشش کرے گا تو اسے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ اس وقت آبنائے پر مکمل کنٹرول موجود ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کے مطابق آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند نہیں کی گئی، تاہم امریکی یا اسرائیلی جہازوں کو اس راستے سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور ضرورت پڑنے پر انہیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ادھر چین نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی اور سمندری راستوں کے تحفظ پر زور دیا ہے۔ چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ نِنگ نے کہا کہ تمام فریقین کو فوجی کارروائیاں روک کر کشیدگی کم کرنی چاہیے تاکہ عالمی معیشت کو بڑے نقصان سے بچایا جا سکے۔
چین ایرانی تیل کا ایک بڑا خریدار ہے اور اس کی توانائی کی بڑی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے، اس لیے آبنائے ہرمز میں کسی طویل رکاوٹ سے چینی معیشت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکی بحریہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکرز کو سیکیورٹی فراہم کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا عالمی سطح پر توانائی کی آزادانہ ترسیل کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرے گا۔
ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار رہی یا جہازوں کی آمد و رفت محدود ہوئی تو اس کے اثرات عالمی تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر نمایاں طور پر پڑ سکتے ہیں۔