افزودہ یورینیم کے ذخائر پر قبضہ کرنے کے لیے امریکی فوج ایران بھیج سکتے ہیں ، ٹرمپ کا نیا بیان

جو بھی آیت اللہ علی خامنہ ای کی جگہ لے گا وہ زیادہ دیر تک نہیں رہے گا، اے بی سی نیوز سے بات

               
فائل فوٹو

فائل فوٹو

واشنگٹن: امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر پر قبضہ کرنے کے لیے امریکی فوج بھیجنے کے امکان کو رد نہیں کر سکتے۔

افزودہ یورینیم نہ صرف نیوکلیئر ری ایکٹر میں بطور ایندھن بلکہ جوہری ہتھیار بنانے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے اے بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ تمام آپشنز زیرِ غور ہیں، سب کچھ۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کے نئے رہبرِ اعلیٰ کو ہم سے منظوری لینا پڑے گی۔

صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا جو بھی آیت اللہ علی خامنہ ای کی جگہ لے گا وہ زیادہ دیر تک نہیں رہے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ہمیں ہر 10 سال بعد واپس نہ جانا پڑے، جب آپ کے پاس مجھ جیسا صدر نہیں ہو، ایسے نہیں چلے گا۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وہ پرانی ایرانی حکومت سے تعلق رکھنے والے کسی شخص کو منظور کرنے کے لیے تیار ہیں۔

امریکی فوج کا ایرانیوں کو گھروں سے نہ نکلنے کا مشورہ

امریکی فوج کے سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایرانیوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ’اپنے گھر میں ہی رہیں‘۔

سینٹ کام کا دعویٰ ہے کہ ایرانی حکومت گنجان آبادی والے شہری علاقوں سے فوجی کارروائیاں کر رہی ہے۔

سینٹ کام نے ایکس پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ ایران نے ’دزفول، اصفہان اور شیراز جیسے شہروں میں شہریوں سے گھرے ہوئے بھیڑ بھاڑ والے علاقوں کو ڈرون اور بیلسٹک میزائل داغنے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔‘

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران کا یہ رویہ عام شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالتا ہے ’کیونکہ فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے مقامات اپنی محفوظ حیثیت کھو دیتے ہیں‘ اور یہ جائز اہداف سمجھے جا سکتے ہیں۔

سینٹ کام کے کمانڈر ایڈم بریڈ کوپر کا کہنا ہے کہ ’ایران کی دہشت گرد حکومت‘ شہریوں کی جانوں کی پرواہ کیے بغیر خلیجی ممالک پر حملہ کر رہی ہے اور دوسری جانب اپنے ہی لوگوں کی حفاظت پر سمجھوتہ کر رہی ہے۔

28 فروری کو حملے کے بعد سے ایران بھی امریکہ پر شہری آبادی کو نشانہ بنانے کا الزام لگاتا آیا ہے۔