مجتبیٰ خامنہ ای : نئے ایرانی سپریم لیڈر جو آیت اللہ نہیں

قانون میں ترمیم کرنا پڑے گی، مغربی ممالک نے ان پر پہلے ہی پابندیاں لگا رکھی ہیں

               
March 9, 2026 · |

مجتبی خامنہ ای کے انتخابات کے موقع پر تہران میں لگائی گئی ان کی ایک تصویر

آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب کیا گیا ہے، جو برسوں سے ایرانی اسٹیبلشمنٹ کے اندر ایک بااثر مگر کم نظر آنے والی شخصیت سمجھے جاتے رہے ہیں۔تاہم وہ آیت اللہ نہیں اور اس اعتبار سے ان کا شمار مذہبی رتبے کے لحاظ سے سب سے بڑی شخصیات میں نہیں ہوتا۔

ایرانی مسلح افواج کے کمانڈروں سمیت ملک کی اہم شخصیات نے انتخاب کے فوری بعد ان سے وفاداری کا عہد کرلیا۔

56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے دوسرے بیٹے ہیں۔ انہوں نے کبھی کوئی عوامی انتخاب نہیں لڑا اور نہ ہی کسی سرکاری عہدے کے لیے عوامی ووٹ حاصل کیا، تاہم کئی دہائیوں سے انہیں ایرانی نظامِ حکومت کے طاقتور حلقوں میں ایک اہم اور اثرورسوخ رکھنے والی شخصیت سمجھا جاتا رہا ہے۔

وہ طویل عرصے تک اپنے والد کے قریبی حلقے میں شامل رہے اور ایرانی سیاسی و مذہبی اسٹیبلشمنٹ کے اندر مضبوط روابط قائم کرتے رہے۔ خاص طور پر پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے ساتھ ان کے گہرے تعلقات کا ذکر کیا جاتا ہے، جو ایران کی طاقتور ترین عسکری اور سیاسی قوتوں میں سے ایک سمجھی جاتی ہے۔

آٹھ ستمبر 1969 کو شمال مشرقی شہر مشہد میں پیدا ہونے والے مجتبیٰ، علی خامنہ ای کے چھ بچوں میں دوسرے نمبر پر ہیں۔ انھوں نے اپنی ثانوی تعلیم تہران کے مذہبی علوی سکول سے حاصل کی۔

مجتبیٰ خامنہ ای نے نوجوانی میں ایران عراق جنگ کے دوران پاسدارانِ انقلاب کی حبیب بٹالین میں خدمات انجام دیں۔ اس وقت وہ صرف 17 برس کے تھے۔ اس دوران ان کے کئی ساتھی بعد میں ایران کے سکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں میں اہم عہدوں تک پہنچے، جس سے ان کے اثرورسوخ کے نیٹ ورک کو مزید تقویت ملی۔

اگرچہ انہیں برسوں سے ایرانی قیادت کے اندر ایک اہم شخصیت سمجھا جاتا رہا، مگر انہوں نے ہمیشہ کم پروفائل برقرار رکھا۔ وہ شاذ و نادر ہی عوامی تقریبات میں خطاب کرتے ہیں اور نہ ہی جمعہ کے خطبات یا بڑے سیاسی اجتماعات میں نظر آتے ہیں۔ یہاں تک کہ ایران میں بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جنہوں نے ان کی آواز کبھی نہیں سنی، حالانکہ طویل عرصے سے انہیں مستقبل کی قیادت کے ممکنہ امیدوار کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔

لیکن پھر بھی تاثر یہ تھا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای تک پہنچنے کا راستہ وہی تھے۔

حالیہ برسوں میں انہیں اپنے والد کے ممکنہ جانشین کے طور پر زیادہ سنجیدگی سے دیکھا جانے لگا تھا۔ آیت اللہ علی خامنہ ای تقریباً آٹھ سال ایران کے صدر رہنے کے بعد 1989 میں سپریم لیڈر بنے اور 36 برس تک ملک کے سب سے طاقتور منصب پر فائز رہے۔

مجتبیٰ خامنہ ای کا نام گزشتہ دو دہائیوں میں کئی سیاسی تنازعات میں بھی سامنے آتا رہا ہے۔ حکومت مخالف حلقوں نے خاص طور پر 2009 کی گرین موومنٹ کے دوران ہونے والے احتجاج کے خلاف کارروائیوں میں ان کے کردار کے الزامات عائد کیے۔ یہ احتجاج اس وقت شروع ہوا جب محمود احمدی نژاد کی متنازع دوبارہ کامیابی کے بعد انتخابی نتائج کو چیلنج کیا گیا اور اصلاح پسند رہنماؤں اور ان کے حامیوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کیا گیا۔

اس کے بعد بھی ایران میں مختلف اوقات میں ہونے والے ملک گیر مظاہروں کے دوران نیم فوجی بسیج فورس اور سکیورٹی اداروں کی کارروائیوں میں ان کا نام تنقید کا نشانہ بنتا رہا ہے۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں اور اقوام متحدہ کے مطابق حالیہ مظاہروں کے دوران بھی سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں بڑی تعداد میں لوگ مارے گئے۔

مغربی ممالک نے مجتبیٰ خامنہ ای پر پابندیاں بھی عائد کر رکھی ہیں۔ بعض مغربی میڈیا رپورٹس کے مطابق ان کا نام ایک وسیع معاشی نیٹ ورک سے بھی جوڑا جاتا ہے جس کے ذریعے اربوں ڈالر کے اثاثے مختلف ممالک میں منتقل کیے گئے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کے نام پر براہ راست اثاثے نہیں ہیں، مگر قریبی ساتھیوں اور اندرونی نیٹ ورکس کے ذریعے سرمایہ کاری اور مالی لین دین کیا جاتا رہا ہے۔

بلومبرگ کی ایک رپورٹ میں ان کا نام ایرانی تاجر علی انصاری کے ساتھ بھی جوڑا گیا، جو گزشتہ سال اس وقت خبروں میں آئے جب ان کا بینک “آیندہ بینک” دیوالیہ ہونے کے بعد ریاست کی جانب سے تحلیل کر دیا گیا۔ اس بینک نے مبینہ طور پر اندرونی حلقوں کو بڑے قرضے دیے تھے جس کے نتیجے میں ایران کی معیشت اور مہنگائی پر بھی اثر پڑا۔

مجتبیٰ خامنہ ای کی مذہبی حیثیت بھی بحث کا موضوع رہی ہے۔ وہ “حجت الاسلام” کے درجے کے عالم دین ہیں، جو آیت اللہ کے درجے سے کم سمجھا جاتا ہے۔ تاہم ان کے والد بھی 1989 میں سپریم لیڈر بننے کے وقت آیت اللہ نہیں تھے اور بعد میں قانون میں تبدیلی کر کے ان کے لیے راستہ ہموار کیا گیا تھا۔ مبصرین کے مطابق اسی طرح کی قانونی یا مذہبی گنجائش مجتبیٰ خامنہ ای کے لیے بھی پیدا کی جا سکتی ہے۔

ان کی ممکنہ قیادت کو بعض مبصرین ایران میں ایک طرح کی خاندانی جانشینی سے بھی تشبیہ دیتے ہیں، جسے کچھ ناقدین 1979 کے اسلامی انقلاب سے پہلے کی پہلوی بادشاہت کی طرز کی سیاسی روایت قرار دیتے ہیں۔ تاہم مجتبیٰ خامنہ ای نے کبھی عوامی طور پر جانشینی کے سوال پر بات نہیں کی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ان کا اقتدار سنبھالنا اس بات کی نشاندہی کر سکتا ہے کہ ایران کے طاقتور اداروں میں سخت گیر حلقے بدستور مضبوط ہیں اور مستقبل میں ملک کی پالیسیوں، خصوصاً خارجہ اور سکیورٹی امور پر ان کا اثر برقرار رہ سکتا ہے۔