امریکا تیل پر قبضہ اورایران کو تقسیم کرنا چاہتا ہے، ایرانی وزارت خارجہ

ہمسایہ ممالک کے فضائی حدود کے استعمال پر احتجاج ،ایرانی سالمیت پر سمجھوتہ نہیں ہوگا، ترجمان وزارتِ خارجہ

               
فوٹو سوشل میڈیا

فوٹو سوشل میڈیا

تہران : ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ان حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کارروائیوں کا اصل مقصد ایران کو تقسیم کرنا اور ملک کے تیل کے ذخائر پر غیر قانونی قبضہ جمانا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایرانی قوم اپنی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔

 اسماعیل بقائی نے علاقائی ممالک پر ایران کے حملوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان ممالک کے رہائشی علاقوں سے ایران پر میزائل داغے گئے ہیں۔

ایکس نیٹ پر اپنی پوسٹ میں اسماعیل بقائی نے ان لوگوں کو مخاطب کیا جو ’خطے میں امریکی فوجی اڈوں/اثاثوں پر (ایران کے) دفاعی حملوں کی منطق کو نظر انداز کرتے رہتے ہیں۔‘ انھوں نے اپنے دعوے کے ثبوت کے طور پر ایکس نیٹ پر ایک ویڈیو بھی پوسٹ کی۔

اس ویڈیو میں ایک عمارت کے پیچھے ایک کھلے علاقے سے دو پراجیکٹائل کو فائر ہوتے دیکھا جا سکتا ہے، لیکن ویڈیو ریکارڈنگ کا صحیح مقام اور وقت معلوم نہیں ہے اور نہ ہی اسماعیل بقائی نے کوئی وضاحت فراہم کی ہے۔

اسماعیل بقائی نے ایکس نیٹ ورک پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ’ایران پر ہمسایہ ممالک کے رہائشی علاقوں سے میزائل داغے جاتے ہیں، اور امریکی لڑاکا طیارے ایران پر حملہ کرنے کے لیے پڑوسی ممالک کی فضائی حدود کا استعمال کرتے ہیں، اور یہ سب علاقائی سلامتی کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔‘

ایران کے ساتھ اسرائیل اور امریکہ کی جنگ شروع ہونے سے پہلے خلیج فارس کے ممالک نے مسلسل اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین اور فضائی حدود کو کسی حملے کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔

دوسری جانب، اس تنازع میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق ایک اور امریکی فوجی کی ہلاکت کی تصدیق ہو گئی ہے، جس کے بعد اس جنگ میں جان سے ہاتھ دھونے والے امریکی اہلکاروں کی تعداد آٹھ تک پہنچ گئی ہے۔ یہ خبر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ہلاک شدگان کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کی تقریب کے محض ایک دن بعد سامنے آئی ہے۔