جنگ کے دوران پہلی بار آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزر گیا،کیا چالاکی دکھائی

بھارت کے قریب پہنچ کر نمودار ہوا، اہم گزرگاہ بند کرنے والے ایران کی اپنی تیل برآمدات جاری

               
March 10, 2026 · بام دنیا

ایران اور امریکا۔اسرائیل جنگ کے دوران بحری جہاز رانی شدید متاثر ہونے کے باوجود ایک بڑا آئل ٹینکر خاموشی سے آبنائے ہرمز عبور کر کے خلیج فارس سے باہر نکل گیا، جسے حالیہ بحران کے دوران اس راستے سے گزرنے والے پہلے بڑے ٹینکروں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے بلومبرگ کے مطابق یونان کی کمپنی Dynacom Tankers Management Ltd. کے زیر انتظام آئل ٹینکر “Shenlong” تقریباً 10 لاکھ بیرل سعودی خام تیل لے کر خلیج فارس سے روانہ ہوا اور آبنائے ہرمز عبور کر کے محفوظ مقام تک پہنچ گیا۔

جہاز کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے ڈیٹا کے مطابق ٹینکر نے 4 مارچ کو خلیج فارس میں اپنا ٹرانسپونڈر سگنل بند کر دیا تھا اور کئی دن تک اس کی درست پوزیشن معلوم نہیں ہو سکی۔ بعد ازاں پیر کی صبح بھارت کے ساحل کے قریب اس کا سگنل دوبارہ ظاہر ہوا۔

جنگ کے بعد جہاز رانی تقریباً رک گئی

امریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران کے خلاف کارروائیوں کے بعد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی تقریباً رک گئی تھی۔ ایران نے جوابی کارروائی میں اس اہم سمندری گزرگاہ میں متعدد جہازوں کو نشانہ بنایا، جس کے بعد بیشتر شپنگ کمپنیاں اس راستے سے گزرنے سے گریز کر رہی ہیں۔

بحری ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں اس علاقے میں کئی تجارتی جہازوں پر حملے بھی ہوئے، جس سے عالمی توانائی کی ترسیل کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

ایران کی تیل برآمدات جاری

جہازوں کی نگرانی کرنے والے ادارے TankerTrackers.com کے مطابق جنگ کے باوجود ایران نے آبنائے ہرمز کے ذریعے اپنی تیل کی برآمدات جاری رکھی ہیں۔ اندازوں کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایک کروڑ 10 لاکھ سے ایک کروڑ 20 لاکھ بیرل ایرانی تیل اس راستے سے گزر چکا ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں جہاز رانی کے خطرات کے باعث ضرورت پڑنے پر بحری جہازوں کو فوجی تحفظ اور انشورنس سہولت فراہم کی جا سکتی ہے۔ تاہم امریکہ کی اس پیشکش پر کسی کو اعتبار نہیں۔ ماہرین کے مطابق مجموعی طور پر سیکیورٹی صورتحال میں کوئی بڑی بہتری نظر نہیں آ رہی اور زیادہ تر شپنگ کمپنیاں اب بھی آبنائے ہرمز سے گزرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔