ایران کیخلاف جنگ میں شرکت سے سعودی عرب کے انکار پر امریکہ مشتعل
جنگ شروع کرانے والے سینیٹر لنڈسے گراہم نے زہر اگلنا شروع کردیا
واشنگٹن: ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے سعودی عرب پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ریاض ایران کے خلاف جنگ میں براہِ راست شریک ہونے کے لیے تیار نہیں تو امریکہ کو اس کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیوں کرنا چاہیے۔
متنازع بیانات کے لیے مشہور لنڈسے گراہم نے کہا کہ امریکہ خطے میں ایران کے خلاف کارروائیوں پر اربوں ڈالر خرچ کر رہا ہے اور امریکی شہری بھی اس تنازع کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں، مگر سعودی عرب براہِ راست فوجی کارروائی سے گریز کر رہا ہے۔
ان کے مطابق سعودی عرب اپنی مضبوط فوجی صلاحیتیں استعمال کرنے سے انکار کر رہا ہے تاکہ ایران کی دہشت گردانہ کارروائیوں کا خاتمہ کیا جا سکے، جو خطے میں خطرہ بنی ہوئی ہے۔ گراہم نے کہا کہ اگر خلیج تعاون کونسل کے ممالک زیادہ فعال کردار نہ ادا کریں تو اس کے نتائج بھگتنے پڑیں گے۔
سینیٹر کے بیان پر ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر بھی بحث چھڑ گئی، جہاں امریکی اور عرب صارفین نے اس پر شدید ردعمل ظاہر کیا۔ سعودی عرب کی وزارت دفاع نے واضح کیا کہ وہ اپنے علاقے کا دفاع کرے گا، مگر بیرونِ ملک جارحانہ کارروائیوں میں حصہ نہیں لے گا اور نہ ہی ایران کے خلاف وسیع جنگ کا آغاز کرے گا۔
ایران کی جانب سے خلیجی ہمسایہ ممالک پر حالیہ حملوں کے بعد ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے متاثرہ ممالک سے معافی مانگی اور کہا کہ تہران صرف اس صورت میں حملے روک دے گا جب ان کی سرزمین ایران پر حملے کے لیے استعمال نہ ہو۔
یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ خطے میں کشیدگی جاری ہے اور امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ تنازع میں سعودی عرب کی محتاط حکمت عملی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔