اسرائیل نے بیروت کے ہوٹل پر حملے میں چار سفارتکاروں کو ہلاک کیا۔ ایران

جان بوجھ کر اس وقت نشانہ بنایا گیا جب سرکاری رہائش گاہوں سے ہوٹل منتقل ہوئے

               
March 11, 2026 · بام دنیا

ایران کے اقوامِ متحدہ میں سفیر امیر سعید ایراوانی نے اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے اتوار کو بیروت کے رمادا ہوٹل پر حملے میں چار ایرانی سفارتکاروں کو ہلاک کیا۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کو لکھے گئے خط میں امیر ایراوانی نے کہا کہ یہ حملے ’جان بوجھ کر‘ اور ’ہدف بنا کر‘ کیے گئے، جب سفارتکار اپنی سرکاری رہائش گاہوں سے ہوٹل منتقل ہوئے تھے۔

خط میں کہا گیا ’چار ایرانی سفارتکاروں کو اس وقت نشانہ بنا کر قتل کرنا جب وہ ایک خودمختار رکن ریاست کے سرکاری نمائندے کی حیثیت سے کسی دوسری خودمختار ریاست کی سرزمین پر خدمات انجام دے رہے تھے، ایک سنگین دہشت گردانہ کارروائی اور بین الاقوامی قانون کی شدید خلاف ورزی ہے۔‘

یہ حملہ بیروت کے مرکزی علاقے میں واقع ہوٹل کی چوتھی منزل پر ہوا۔ اسرائیلی فوج نے کہا کہ اندر ایرانی اہلکاروں کی ایک خفیہ میٹنگ جاری تھی۔

اسرائیل ڈیفنس فورسز کے مطابق حملے میں ہلاک ہونے والے پانچ افراد ایران کی ایلیٹ قدس فورس سے تعلق رکھتے تھے، جو پاسدارانِ انقلاب کی بیرونِ ملک کارروائیوں کا شعبہ ہے۔

لبنانی وزارتِ صحت کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق اس حملے میں چار افراد ہلاک اور دس زخمی ہوئے، تاہم ان کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔