مشرقِ وسطیٰ بحران کے سائے ،بھارت میں ایل پی جی کی قلت، ہوٹلوں کی تالا بندی
مینیو سے پکوان غائب ،تقریباً 90 فیصد ریستوران اگلے دو روز میں بند ہو سکتے ہیں ، تلنگانہ ٹوڈے
فائل فوٹو
نئی دہلی: مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگی صورتحال اور ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائیوں کے اثرات اب بھارت کی روزمرہ زندگی اور غذائی صنعت پر گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ کشمیر سے کنیا کماری اور گجرات سے ناگالینڈ تک، ملک بھر میں ایندھن بالخصوص کمرشل ایل پی جی (LPG) کی شدید قلت کے باعث ریستورانوں کی رونقیں مانند پڑنے لگی ہیں۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی جانب سے سپلائی متاثر ہونے کے خدشات ظاہر کیے جانے کے بعد ہوٹل انڈسٹری میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ حیدرآباد اور تلنگانہ سے موصول ہونے والی اطلاعات سب سے زیادہ تشویشناک ہیں، جہاں ‘تلنگانہ ٹوڈے’ کی رپورٹ کے مطابق تقریباً 90 فیصد ریستوران اگلے دو روز میں بند ہو سکتے ہیں۔
کئی شہروں میں صورتحال یہ ہے کہ مقبولِ عام پکوان جیسے ڈوسہ اور بریانی کی دستیابی محدود ہو گئی ہے۔
ریستورانوں نے اپنے مینیو کارڈز مختصر کر دیے ہیں اور کھانے کے اوقات میں بھی کمی کا اعلان کیا جا رہا ہے۔
چھوٹے ڈھابے اور کھانے پینے کی دکانیں ایندھن کے محدود ذخائر کی وجہ سے سب سے پہلے متاثر ہو رہی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان ممکنہ تصادم نے عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ چونکہ بھارت اپنی گیس اور تیل کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، اس لیے بین الاقوامی مارکیٹ میں پیدا ہونے والا معمولی سا ارتعاش بھی مقامی سطح پر بڑی قلت کا سبب بن رہا ہے۔
صنعتی اداروں نے حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ اگر ایل پی جی کی سپلائی بحال کرنے کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو لاکھوں افراد کا روزگار وابستہ ہونے کے باعث یہ بحران معاشی صورت اختیار کر سکتا ہے۔