عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی کا تاریخی بحران: 1973 سے بھی سنگین صورتحال کا خدشہ

عالمی توانائی ایجنسی نے وارننگ جاری کردی

               
March 12, 2026 · اہم خبریں, بام دنیا

تہران میں 8 مارچ کو ایندھن کے ذخائرے پر امریکی اور اسرائیلی حملے کے بعد آگ لگی ہے اور دھواں بلند ہو رہا ہے

بین الاقوامی توانائی ایجنسی (IEA) نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری حالیہ جنگ عالمی تیل کی منڈی کی تاریخ میں سپلائی کے “سب سے بڑے تعطل” کا باعث بن رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ صورتحال 1970 کی دہائی کے اس مشہور تیل کے بحران کی یاد تازہ کر رہی ہے جس نے دنیا کی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا تھا، بلکہ موجودہ اعداد و شمار اس سے بھی زیادہ خطرناک تصویر پیش کر رہے ہیں۔

سپلائی میں ریکارڈ کمی

IEA کی مارکیٹ رپورٹ کے مطابق، خام تیل کی پیداوار میں اس وقت یومیہ کم از کم 80 لاکھ بیرل کی کمی واقع ہو چکی ہے۔ مزید برآں، پیٹرولیم مصنوعات سے متعلق مزید 20 لاکھ بیرل کی سپلائی بھی بند ہو گئی ہے، کیونکہ ایران کی جانب سے علاقائی سپلائی پر سخت گرفت نے خلیجی ممالک کو پیداوار میں نمایاں کٹوتی پر مجبور کر دیا ہے۔

آبنائے ہرمز: معیشت کی شہ رگ پر ضرب

عالمی سطح پر خام تیل کی کل نقل و حمل کا پانچواں حصہ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) سے گزرتا ہے۔ ایرانی حملوں اور جہاز رانی کو لاحق خطرات کے باعث اس اہم ترین بحری راستے سے ٹریفک تقریباً معطل ہو کر رہ گئی ہے۔

  • موجودہ بہاؤ بحران سے پہلے کی سطح کے 10 فیصد سے بھی کم رہ گیا ہے۔
  • IEA کا کہنا ہے کہ کشیدگی میں کمی یا سپلائی کی بحالی کا فی الحال کوئی واضح ٹائم لائن موجود نہیں ہے۔

 

1970 کا بحران کیا تھا

تاریخی طور پر، 1973 کا تیل کا بحران اس وقت شروع ہوا تھا جب عرب ممالک نے ‘اوپیک’ (OPEC) کے ذریعے مغرب کو تیل کی سپلائی روک دی تھی۔ اس وقت قیمتیں راتوں رات چار گنا بڑھ گئی تھیں اور پیٹرول پمپوں پر میلوں لمبی قطاریں لگ گئی تھیں۔

خصوصیات 1973 کا بحران موجودہ بحران (2026)
بنیادی وجہ عرب اسرائیل جنگ / تیل کا بائیکاٹ براہ راست جنگ / آبنائے ہرمز کی بندش
سپلائی میں کمی تقریباً 50 لاکھ بیرل یومیہ 1 کروڑ بیرل یومیہ (مجموعی)
اثرات عالمی مہنگائی اور کساد بازاری سپلائی چین کا مکمل خاتمہ اور توانائی کا عالمی بحران

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ 1970 کی دہائی میں دنیا تیل پر زیادہ منحصر تھی، لیکن آج کی باہم مربوط عالمی معیشت میں 10 ملین بیرل کا تعطل زیادہ تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ آئی ای اے نے واضح کیا ہے کہ جب تک آبنائے ہرمز میں جہاز رانی محفوظ نہیں ہوتی، عالمی توانائی کی حفاظت داؤ پر لگی رہے گی۔