ٹرمپ وزیرِ دفاع کو سیاسی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں،دی ٹیلی گراف

دونوں رہنماؤں کے بیانات میں یہ فرق کسی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے۔

               
March 14, 2026 · بام دنیا

برطانوی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا میں جنگ سے متعلق بیانیے میں صدر اور وزیرِ دفاع کے مؤقف میں نمایاں فرق دیکھا جا رہا ہے۔

برطانوی میڈیا رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے بیانات میں واضح تضاد نظر آتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنگ کے معاملے پر ہیگسیتھ کا مؤقف خاصا سخت اور جارحانہ ہے، وہ دشمن کو شکست دینے اور طویل جنگ جاری رکھنے جیسے بیانات دیتے رہے ہیں، جبکہ صدر ٹرمپ نسبتاً محتاط یا مختلف انداز میں بات کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

رپورٹ میں اس امکان کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں کے بیانات میں یہ فرق کسی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے۔ برطانوی اخبار کے مطابق اگر جنگی صورتحال پیچیدہ ہو جائے تو صدر ٹرمپ ذمہ داری سے بچنے کے لیے وزیرِ دفاع کو آگے کر سکتے ہیں۔

میڈیا رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ صدر ٹرمپ نے ایران سے متعلق جنگی فیصلوں کے بارے میں صحافیوں سے براہِ راست ٹیلیفونک گفتگو میں وضاحتیں دیں، جبکہ ان کے بعض غیر واضح بیانات کے بعد وزیرِ دفاع نے سامنے آ کر حکومتی مؤقف کو واضح کرنے کی کوشش کی۔

رپورٹ کے مطابق مہنگی اور طویل جنگ کے خدشات کے باعث پیٹ ہیگسیتھ کو سیاسی دباؤ کا بھی سامنا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے انہیں میڈیا پروگرامز میں جنگی پالیسی کا نمایاں چہرہ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔

برطانوی اخبار نے بعض سابق امریکی حکام کے حوالے سے یہ بھی لکھا کہ ممکن ہے صدر ٹرمپ وزیرِ دفاع کو سیاسی دباؤ سے بچاؤ کے لیے بطور ڈھال استعمال کر رہے ہوں۔ دوسری جانب پینٹاگون کی بریفنگز میں دیگر حکام نسبتاً محتاط اور پرسکون انداز اختیار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔