ایران نے بھارتی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے راستہ کیوں دیا؟ خفیہ ڈیل سامنے آگئی

بھارت نے ایران کے 3 ٹینکر روک رکھے تھے جنہیں جانے کی اجازت دی گئی

               

آئل ٹینکر وشنو کی تباہی کا منظر

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایران کی جانب سے بھارتی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دینے کے معاملے پر ایک ممکنہ خفیہ سمجھوتہ سامنے آیا ہے۔

اسرائیل اور امریکہ کے ایران پر حملوں کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت روک رکھی ہے، تاہم بھارت کے دو جہازوں کو اس اہم سمندری گزرگاہ سے محفوظ طریقے سے گزرنے کی اجازت دی گئی۔ بھارت کے دو ایل پی جی ٹینکرز (Shivalik اور Nanda Devi) اس راستے سے گزر کر ممبئی پہنچے ہیں۔

ایرانی خبر رساں ادارے وانا نیوز ایجنسی نے انکشاف کیا کہ ایران کی جانب سے اجازت دینے کے بعد بھارت نے ایران کے ان تین آئل ٹینکرز کو رہا کیا ہے جنہیں گزشتہ ماہ پکڑا گیا تھا۔

بھارتی کوسٹ گارڈز اور متعلقہ حکام کا موقف تھا کہ ان ٹینکرز کے پاس سمندری حدود میں داخلے اور کارگو کی ترسیل کے لیے ضروری اور مکمل دستاویزات موجود نہیں تھیں۔ کاغذات میں تضاد کی وجہ سے ان جہازوں کو بحیرہ عرب کے قریب روک کر تفتیش کی گئی تھی۔

بظاہر ایرانی ٹینکر عالمی پابندیوں سے بچ کر تیل فروخت کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

بھارت میں ایران کے سفیر محمد فتحلی نے ہفتہ کو کہا کہ ایران اور بھارت کے درمیان قریبی تعلقات موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران اور بھارت ایک دوسرے کے دوست ہیں اور دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات ہیں، اسی لیے بھارتی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی گئی۔

سفیر کے مطابق موجودہ جنگ کے آغاز کے بعد بھارت نے مختلف شعبوں میں ایران کی مدد بھی کی ہے۔

رپورٹس کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان اس معاملے پر ایک باہمی انتظام طے پایا۔ اطلاعات کے مطابق بھارت نے گزشتہ ماہ ضبط کیے گئے ایران کے تین آئل ٹینکرز کو رہا کر دیا۔

اس کے بدلے ایران نے بھارتی بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی۔

اس سے پہلے جب بھارت سے وابستہ ایک بحری جہاز وشنو نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کی تھی تو ایران نے اس پر بارودی کشتی سے حملہ کیا تھا۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔