برطانیہ، جاپان، آسٹریلیا،فرانس اور جرمنی نے آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی کے لیے ٹرمپ کی اپیل مسترد کر دی
مشرق وسطیٰ میں سولہ روز کی جنگ کے دوران ایران اور لبنان میں ہزاروں افراد جاں بحق اور زخمی ہو چکے ہیں
واشنگٹن/ریاض: امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو اور دیگر اتحادی ممالک سے اپیل کی تھی کہ وہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے درمیان آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کے لیے اپنے جنگی بحری جہاز بھیجیں، تاہم برطانیہ، جاپان، آسٹریلیا, فرانس جرمنی نے بھی اس میں حصہ لینے سے صاف انکار کر دیا ہے۔
آسٹریلیا کی وزیر ٹرانسپورٹ کیتھرین کنگ نے کہا کہ ان کا ملک اس مشن میں شامل نہیں ہوگا، جبکہ جاپان نے بھی خطے میں موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے اپنی بحری طاقت بھیجنے سے گریز کیا۔ برطانیہ نے بھی بحری جہاز بھیجنے سے انکار کیا اور فرانس پہلے ہی اس حوالے سے اپنے فیصلے کا اعلان کر چکا ہے۔
امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی تعاون کی درخواست جرمنی نے مسترد کردی۔
غیرملکی خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق جرمنی کے وزیر دفاع نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف فوجی تعاون کی درخواست مسترد کر دی۔
جرمن وزیر دفاع فورس پستوریئس نے کہا کہ صدر ٹرمپ کیا توقع رکھتے ہیں؟ ایک یا دو یورپی جنگی جہاز آبنائے ہرمز میں کیا کرلیں گے جو طاقتور امریکی بحریہ نہیں کرسکتی؟
انہوں نے کہا کہ یہ ہماری جنگ نہیں، نہ ہی ہم نے یہ جنگ شروع کی ہے۔ ایران پر امریکی اسرائیلی حملوں سے شروع کی گئی مشرق وسطیٰ جنگ کا نیٹو سے کوئی تعلق نہیں۔
دوسری جانب، ایران نے امریکی دعووں کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سعودی عرب یا دیگر ممالک پر حملوں میں ملوث نہیں اور امریکا کے لوکس ڈرون ایرانی ڈرونز کی نقل ہیں۔
ادھر ترجمان جرمن چانسلر اسیفن کونیلیوس کا کہنا ہے کہ نیٹو علاقائی دفاع کا اتحاد ہے، نیٹو کی تعیناتی کے لیے مینڈیٹ کی کمی ہے۔
ترجمان جرمن چانسلر کا کہنا تھا کہ لبنان میں اسرائیلی فوج کی زمینی کارروائیاں انسانی صورتحال کو مزید بدتر کردیں گی۔ اسرائیل اور لبنان کے درمیان بات چیت شروع ہونے کا خیرمقدم کریں گے۔
مشرق وسطیٰ میں سولہ روز کی جنگ کے دوران ایران اور لبنان میں ہزاروں افراد جاں بحق اور زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ ایران میں 36 ہزار رہائشی عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔ اسرائیل نے تہران میں ہلال احمر کی تنصیبات اور مہرآباد ایئرپورٹ پر فضائی حملے کیے، جن میں ایک سابق ایرانی سپریم لیڈر کے طیارے کے تباہ ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
چین نے بھی امریکی اپیل پر خاموشی اختیار کی ہے اور کہا کہ وہ متعلقہ فریقین کے ساتھ رابطے اور تعمیری کردار پر کام کرے گا۔ جنوبی کوریا نے صورتحال کا جائزہ لینے کا اعلان کیا ہے۔
یہ اقدامات خطے میں جاری کشیدگی اور عالمی طاقتوں کی محتاط حکمت عملی کی عکاسی کرتے ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز کی سکیورٹی پر بین الاقوامی تعاون ابھی بھی غیر یقینی ہے۔