برطانیہ، جاپان، آسٹریلیا اور فرانس نےآبنائے ہرمز کی سکیورٹی کے لیے ٹرمپ کی اپیل مسترد کر دی
مشرق وسطیٰ میں سولہ روز کی جنگ کے دوران ایران اور لبنان میں ہزاروں افراد جاں بحق اور زخمی ہو چکے ہیں
واشنگٹن/ریاض: امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو اور دیگر اتحادی ممالک سے اپیل کی تھی کہ وہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے درمیان آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کے لیے اپنے جنگی بحری جہاز بھیجیں، تاہم برطانیہ، جاپان، آسٹریلیا اور فرانس نے اس میں حصہ لینے سے صاف انکار کر دیا ہے۔
آسٹریلیا کی وزیر ٹرانسپورٹ کیتھرین کنگ نے کہا کہ ان کا ملک اس مشن میں شامل نہیں ہوگا، جبکہ جاپان نے بھی خطے میں موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے اپنی بحری طاقت بھیجنے سے گریز کیا۔ برطانیہ نے بھی بحری جہاز بھیجنے سے انکار کیا اور فرانس پہلے ہی اس حوالے سے اپنے فیصلے کا اعلان کر چکا ہے۔
دوسری جانب، ایران نے امریکی دعووں کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سعودی عرب یا دیگر ممالک پر حملوں میں ملوث نہیں اور امریکا کے لوکس ڈرون ایرانی ڈرونز کی نقل ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں سولہ روز کی جنگ کے دوران ایران اور لبنان میں ہزاروں افراد جاں بحق اور زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ ایران میں 36 ہزار رہائشی عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔ اسرائیل نے تہران میں ہلال احمر کی تنصیبات اور مہرآباد ایئرپورٹ پر فضائی حملے کیے، جن میں ایک سابق ایرانی سپریم لیڈر کے طیارے کے تباہ ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
چین نے بھی امریکی اپیل پر خاموشی اختیار کی ہے اور کہا کہ وہ متعلقہ فریقین کے ساتھ رابطے اور تعمیری کردار پر کام کرے گا۔ جنوبی کوریا نے صورتحال کا جائزہ لینے کا اعلان کیا ہے۔
یہ اقدامات خطے میں جاری کشیدگی اور عالمی طاقتوں کی محتاط حکمت عملی کی عکاسی کرتے ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز کی سکیورٹی پر بین الاقوامی تعاون ابھی بھی غیر یقینی ہے۔