ایران کی فوجی صلاحیت تقریبا تباہ کردی، جنگ جلد ختم ہوگی، ٹرمپ

میزائل اور ڈرون تیار کرنے والی تنصیبات کو نشانہ بنایا، کچھ ممالک امریکہ کی مدد کو تیار ہیں، وائٹ ہاؤس میں گفتگو

               
March 17, 2026 · اہم خبریں, بام دنیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب کے دوران ایران کے خلاف جاری جنگ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی عسکری صلاحیت کو بڑے پیمانے پر تباہ کر دیا گیا ہے اور امریکا ہزاروں اہداف کو نشانہ بنا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ جلد ختم ہوگی

وائٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اب تک ایران میں تقریباً 7 ہزار اہداف کو نشانہ بنا چکا ہے جبکہ کارروائیوں کے دوران 100 سے زیادہ بحری جہازوں کو تباہ کیا گیا ہے۔

ان کے مطابق ایرانی فوجی ڈھانچے کو “عملی طور پر ختم” کر دیا گیا ہے۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کی فضائیہ، بحریہ اور عسکری قیادت شدید نقصان کا شکار ہو چکی ہے جبکہ اس کے اینٹی ایئر کرافٹ دفاعی نظام کو بھی بری طرح تباہ کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل اس وقت وہ اقدامات کر رہے ہیں جو برسوں پہلے ہو جانے چاہیے تھے۔

امریکی صدر نے بتایا کہ پیر کے روز امریکا نے ایران میں تین ایسی تنصیبات کو نشانہ بنایا جہاں مبینہ طور پر میزائل اور ڈرون تیار کیے جا رہے تھے۔

ان کے مطابق ان حملوں کا مقصد ایران کی جنگی صلاحیت کو مزید کمزور کرنا تھا تاکہ وہ خطے میں خطرہ نہ بن سکے۔

آبنائے ہرمز

ٹرمپ نے کہا کہ امریکا آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو خطرے میں ڈالنے کی ایرانی صلاحیت کو بھی شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔

ان کے مطابق انہیں یقین سے معلوم نہیں کہ آیا ایران نے سمندر میں بارودی سرنگیں بچھائی ہیں یا نہیں، تاہم امریکی کارروائیوں کے دوران ایران کے 30 جہاز تباہ کیے جا چکے ہیں جنہیں اس مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا تھا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ “ہم ایران کو ٹھکانے لگا چکے ہیں” اور اب وقت آ گیا ہے کہ دیگر ممالک بھی آگے آئیں اور آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے میں کردار ادا کریں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ کئی ممالک امریکا کی مدد کے لیے تیار ہیں، تاہم انہوں نے ان ممالک کے نام ظاہر کرنے سے گریز کیا۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ ان ممالک کے نام لینا چاہتے ہیں لیکن انہیں یقین نہیں کہ آیا وہ ایسا چاہیں گے یا نہیں کیونکہ ممکن ہے وہ اس جنگ میں براہ راست نشانہ نہیں بننا چاہتے۔

جنگ کے خاتمے کا امکان

امریکی صدر نے اپنی گفتگو میں اس بات کا بھی اشارہ دیا کہ ایران کے خلاف جاری کارروائیوں کے بعد جنگ کے خاتمے کا امکان پیدا ہو رہا ہے۔

ان کے مطابق اگر صورتحال اسی طرح آگے بڑھتی رہی تو یہ تنازع زیادہ دیر جاری نہیں رہے گا اور خطے میں جلد استحکام آ سکتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے جب پوچھا گیا کہ کیا ایران کے خلاف جاری جنگ اس ہفتے ختم ہو سکتی ہے، کیونکہ انھوں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ایران کی فوجی طاقت کو ’تباہ‘ کر دیا گیا ہے۔

ٹرمپ نے جواب دیا کہ ’ہاں، بالکل‘۔ لیکن جب پوچھا گیا کہ کیا جنگ واقعی اس ہفتے ختم ہو جائے گی تو انھوں نے کہا کہ ’مجھے نہیں لگتا، لیکن جلد ہی ختم ہو جائے گی۔ زیادہ دیر نہیں لگے گی۔‘