کابل میں ہسپتال کو نشانہ بنائے جانے کادعویٰ بے بنیاد ہے،دہشت گرد ٹھکانہ تباہ کیا گیا،پاکستان
افغان طالبان کے اسلحہ ذخائر اور دہشت گردی کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا
وزارت اطلاعات ونشریات نے کہا ہے کہ جس امید ہسپتال (Omid Hospital) کو پاکستانی فوج کی طرف سے نشانہ بنائے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، وہ دراصل کیمپ فینکس (Camp Phoenix) سے کئی کلومیٹر دور واقع ہے۔ اصل ہدف ایک عسکری مقام تھا جہاں دہشت گردوں کے اسلحہ اور بارود کا ذخیرہ موجود تھا، جسے گزشتہ رات درست نشانہ بنایا گیا۔
تصاویر سے بھی واضح ہے کہ اصل ہسپتال ایک کثیر المنزلہ عمارت ہے اور نشانہ بنائی گئی جگہ کنٹینرز پر مشتمل عسکری اوردہشت گرد انفراسٹرکچر تھا۔ یہ فرق خود ہی حقیقت کو واضح کرتا ہے۔
وزارت اطلاعت کے مطابق ،ایک اور اہم سوال یہ بھی ہے کہ اگر یہ واقعی منشیات کے عادی افراد کے علاج کا مرکز تھا تو پھر اسے ایک ایسے فوجی کیمپ میں کیوں قائم کیا گیا جہاں مہلک اسلحہ اور بارود ذخیرہ کیا جاتا ہو؟ یہ تضاد خود اس دعوے کی حقیقت پر سوال اٹھاتا ہے۔
کابل اور قندھار میں پاکستان نے پیر کی شب دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے تھے جن میں افغان طالبان کے اسلحہ کے ذخائر اور دہشت گردی کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ تاہم افغان طالبان نے دعوی کیا کہ کابل پر حملے میں 400 افراد مارے گئے۔
افغان حکومت کے ترجمانوں ذبیح اللہ مجاہد اور حمد اللہ فطرت نے دعویٰ کیا کہ حملہ منشیات کے عادی افراد کیلئے قائم مرکز پر ہوا۔ ان کا دعوی تھا کہ عمر اسپتال نامی یہ مرکز 2000 بیڈز پر مشتمل تھا اور حملے میں ڈھائی سو افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔تاہم وزیراعظم شہباز شریف کے ترجمان مشرف زیدی کا کہنا تھا کہ کابل میں کسی اسپتال کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔