ابرار احمد کی دی ہنڈرڈ لیگ میں شمولیت پر بھارت میں ہنگامہ،آخر پورا معاملہ کیا ہے؟

سوشل میڈیا پر بعض بھارتی صارفین اور تجزیہ کار اس فیصلے پر شدید تنقید کر رہے ہیں،

               
March 17, 2026 · اسپورٹس

برطانوی کرکٹ لیگ دی ہنڈرڈ کی حالیہ نیلامی میں پاکستانی لیگ سپنر ابرار احمد کی ایک بھارتی ملکیت والی فرنچائز میں شمولیت کے بعد بھارت میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر بعض بھارتی صارفین اور تجزیہ کار اس فیصلے پر شدید تنقید کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب کرکٹ حلقوں میں اسے محض کھیل کا معاملہ قرار دیا جا رہا ہے۔

نیلامی کے دوران سن رائزرز لیڈز نے 27 سالہ پاکستانی اسپنر ابرار احمد کو تقریباً ایک لاکھ نوے ہزار برطانوی پاؤنڈز میں اپنی ٹیم کا حصہ بنایا۔ یہ فرنچائز سن گروپ کی ملکیت ہے جو انڈین پریمیئر لیگ کی ٹیم سن رائزرز حیدرآباد کا بھی مالک ہے۔ اسی وجہ سے ایک بھارتی کاروباری گروپ کی ٹیم کی جانب سے پاکستانی کھلاڑی کو منتخب کیے جانے پر بھارت میں ردعمل سامنے آیا۔

بھارت کے بعض صارفین کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان موجود سیاسی کشیدگی کے باعث بھارتی ملکیت والی ٹیموں کو پاکستانی کھلاڑیوں سے دور رہنا چاہیے۔ اس تناظر میں سوشل میڈیا پر فرنچائز کی مالک کاویہ مارن کو بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور بعض صارفین نے فرنچائز کے بائیکاٹ کی بات بھی کی ہے۔

اس بحث میں بھارت کے سابق کپتان سنیل گواسکر بھی شامل ہو گئے ہیں۔ ایک بھارتی اخبار کے لیے لکھے گئے اپنے کالم میں انہوں نے کہا کہ پاکستانی کھلاڑیوں کو دی جانے والی فیس بالآخر ان کی حکومت کو ٹیکس کی صورت میں جاتی ہے، اور ان کے مطابق یہی رقم دفاعی اخراجات میں استعمال ہو سکتی ہے۔ اسی بنیاد پر انہوں نے بھارتی فرنچائز کی جانب سے پاکستانی کھلاڑی کو منتخب کرنے پر اعتراض کیا۔

دوسری جانب سن رائزرز لیڈز کے ہیڈ کوچ ڈینیئل ویٹوری نے اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ابرار احمد کو خالصتاً کرکٹ کی بنیاد پر منتخب کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق ٹیم کو ایک منفرد اسپنر کی ضرورت تھی اور ابرار احمد اس معیار پر پورا اترتے تھے۔ ویٹوری نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستانی کھلاڑیوں کو منتخب نہ کرنے کے حوالے سے انہیں کسی قسم کی ہدایت نہیں دی گئی۔

دی ہنڈرڈ لیگ کی اس نیلامی میں پاکستان کے کئی نمایاں کھلاڑیوں نے خود کو رجسٹر کروایا تھا، جن میں شاہین شاہ آفریدی، حارث رؤف، شاداب خان اور صائم ایوب بھی شامل تھے۔ تاہم نیلامی کے اختتام تک صرف دو پاکستانی کھلاڑی ابرار احمد اور عثمان طارق ہی ٹیموں کی توجہ حاصل کر سکے۔ عثمان طارق کو برمنگھم فینکس نے تقریباً ایک لاکھ چالیس ہزار پاؤنڈز میں اپنی ٹیم میں شامل کیا۔

کرکٹ مبصرین کے مطابق یہ تنازع دراصل کھیل سے زیادہ سیاسی اور جذباتی ردعمل کا نتیجہ ہے، کیونکہ بین الاقوامی لیگز میں مختلف ممالک کے کھلاڑیوں کا ایک ہی ٹیم میں کھیلنا ایک عام بات ہے۔ تاہم بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات کے باعث اس طرح کے فیصلے اکثر سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بن جاتے ہیں۔