لائیو جنگ کا 19 واں دن: علی لاریجانی کی شہادت کے بعد ایران کے شدید حملے
ایران کیخلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ پر اپ ڈیٹس
اہم نکات
- ایران کے سیکورٹی چیف علی لاریجانی اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے۔
- تہران نے اسرائیل پر میزائلوں کی بارش کردی جس میں کم ازکم دو افراد مارے گئے
- خطے کے ممالک پر بھی ایران کے میزائل گرے ہیں۔
- بدھ 18 مارچ کو جنگ 19ویں روز میں داخل ہوگئی۔
اقوام متحدہ کے بحری ادارے انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (IMO) نے خلیج میں امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے تناظر میں جہاز رانی اور ملاحوں پر پڑنے والے اثرات پر غور کے لیے ایک غیر معمولی اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق عالمی بحری سلامتی کو منظم کرنے والا یہ ادارہ دو روزہ اجلاس کے دوران کئی ممکنہ قراردادوں پر غور کرے گا۔
برطانیہ، فرانس، جرمنی اور دیگر کئی ممالک بشمول خلیجی ریاستیں آئی ایم او کی 40 رکنی کونسل سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ وہ ایران کی جانب سے اپنے ہمسایہ ممالک پر کیے گئے “سنگین حملوں” اور تہران کی طرف سے آبنائے ہرمز کو مبینہ طور پر بند کرنے کے اقدام کی سخت مذمت پر مبنی اعلامیہ منظور کرے۔
بیروت میں رات کے دوران اسرائیل کی جانب سے چار حملے کیے گئے۔ مرکزی بیروت میں واقع 15 منزلہ رہائشی عمارت مسمار کر دی۔
اسرائیلی فوج نے عمارت کے تہہ خانے کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ وہاں حزب اللہ نقد رقم ذخیرہ کر رہی تھی۔ صبح کے ابتدائی اوقات میں پوری عمارت کو مسمار کر دیا گیا۔
یہ حملہ پہلے سے وارننگ کے ساتھ کیا گیا تھا، جس میں اسرائیلی فوج نے پیشگی دھمکی جاری کی تھی۔ حملے کے باعث پورے محلے میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیل گئی۔
اسرائیل نے بیروت کے زقاق البلاط ضلع میں ایک اور فضائی حملہ کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ دوسرا حملہ تھا جس میں ایک رہائشی اپارٹمنٹ کو نشانہ بنایا گیا۔
ایران نے بھارت کے سامنے مطالبہ رکھتے ہوئے کہا کہ بھارتی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنا ہے تو ایران کے تین جہاز واپس بھیجے تاہم بھارت نے ایران کی جانب سے یہ مطالبہ کیے جانے کی تردید کی ہے۔
سعودی عرب کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ ایک اور ڈرون کو اس وقت مار گرایا گیا جب وہ ایمبیسیز ڈسٹرکٹ کی جانب بڑھنے کی کوشش کر رہا تھا۔
وزارتِ دفاع کے مطابق سعودی فورسز نے گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران متعدد ڈرونز کو تباہ کیا ہے، جبکہ ایک بیلسٹک میزائل کو بھی مار گرایا گیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ میزائل کے ملبے کے کچھ حصے پرنس سلطان ایئر بیس کے قریب گرے، تاہم اس سے کسی قسم کا نقصان نہیں ہوا۔
موساد کے افسران کو ملک کے حساس مقامات کی تصاویر اور معلومات فراہم کرنے پر پھانسی دی گئی ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق قانونی کارروائی مکمل ہونے اور سپریم کورٹ کی توثیق کے بعد آج صبح پھانسی دی گئی۔
جاسوس کو پاسدارانِ انقلاب نے جون میں ایران کے شہر ساوجبلاغ میں گرفتار کیا تھا، جب اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ جاری تھی۔