ایران کیخلاف امریکہ اور اسرائیل جنگ 18 سے 27 مارچ تک
ایران کیخلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ پر اپ ڈیٹس
اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے شام کے جنوبی حصے میں فوجی کمپاؤنڈز کے اندر موجود بنیادی ڈھانچے،ایک کمانڈ سینٹر اور اسلحہ ڈپو کو نشانہ بنایا ہے۔
فوج کے مطابق یہ حملے جمعرات کے روز السویداء کے علاقے میں شامی حکام کی جانب سے شہریوں پر مبینہ حملوں کے ردعمل میں کیے گئے۔
شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سانا اور شامی حکومت نے تاحال اسرائیلی حملے کی تصدیق نہیں کی ہے۔

ایرانی حکام نے قومی خواتین فٹبال ٹیم کا آسٹریلیا سے واپسی پر ہیروز جیسا شاندار استقبال کیا، جہاں کچھ کھلاڑیوں نے پناہ کی درخواستیں دی تھیں اور بعد میں واپس لے لی تھیں۔ اس دوران یہ الزامات بھی سامنے آئے کہ ایران نے ان کے خاندانوں پر دباؤ ڈالا تھا۔
چھ کھلاڑیوں اور ایک معاون عملے کے رکن نے، جو ویمنز ایشین کپ کے لیے آسٹریلیا گئے تھے، اس ماہ کے اوائل میں پناہ کی درخواست دی تھی۔ اس سے قبل ایران میں سخت گیر حلقوں کی جانب سے ان پر تنقید کی گئی تھی کیونکہ انہوں نے اپنے پہلے میچ سے قبل قومی ترانہ نہیں گایا تھا۔
قطر کے وزیرِ توانائی کا کہنا ہے کہ راس لفان تنصیب پر حملے کے نتیجے میں قطر کی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی برآمدی صلاحیت اگلے پانچ سالوں میں 17 فیصد کم ہو جائے گی، جس سے ملک کو سالانہ آمدنی میں 20 ارب ڈالر کا نقصان ہو گا۔
صنعتی پروسیسنگ یونٹ ٹرین کا استعمال کرتے ہوئے قدرتی گیس کو بہت کم درجہ حرارت پر ٹھنڈا کر کے ایل این جی تیار کی جاتی ہے۔ قطری وزیر کا کہنا ہے کہ ایرانی حملوں سے پلانٹ کی 14 ٹرینوں میں سے دو کو نقصان پہنچا ہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب گارڈ کا کہنا ہے میزائلوں کی تیاری کا عمل جاری ہے، ذخائر میں کسی قسم کی کمی نہیں ہے۔

تہران میں آدھی رات کے وقت سے حملے جاری ہیں، اسی دوران مغرب میں کرج، جنوب میں کرمان، اور ہرمزگان صوبے کے لنگہ بندرگاہ پر بھی حملے کیے گئے۔
یہ ملک بھر میں حملوں کی ایک سیریز تھی جو آدھی رات سے شروع ہو کر چند گھنٹے قبل تک جاری رہی۔
تاہم اب تک حملوں کے اثرات یا نشانہ بننے والے مقامات کی کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
امریکی اخبار کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے یو اے ای کو ہتھیاروں کی فروخت کی منظوری بھی دے دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ہتھیاروں میں تقریباً 5.6 ارب ڈالر کے پیٹریاٹ میزائل اور 1.3 ارب ڈالرکے جدید جنگی ہیلی کاپٹر شامل ہیں۔
امریکہ پہلے ہی 3 خلیجی ملکوں کو 16.5 ارب ڈالرکے ہتھیارفروخت کرنے کا اعلان کر چکا ہے۔
کویت کے سرکاری میڈیا کے مطابق کویت پٹرولیم کارپوریشن کی منا الأحمدی ریفائنری کو صبح کے وقت کئی ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔
کویت نیوز ایجنسی نے جمعہ کو بتایا کہ کچھ یونٹس میں آگ بھڑک اٹھی اور کئی بند کر دیے گئے، لیکن کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
فائر اور ایمرجنسی سروسز کو فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچا دیا گیا۔
جرمن وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ جرمنی اب اسرائیل کی مدد کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا کہ وہ جنوبی افریقہ کی جانب سے عالمی عدالت انصاف (ICJ) میں دائر کیے گئے غزہ میں نسل کشی کے الزامات کا جواب دے۔
جرمن وزارت خارجہ کے نائب ترجمان یوزف ہنٹر سیہر نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، جیسا کہ یہودی نیوز سروس (JNS) نے رپورٹ کیا، “عالمی عدالت انصاف میں کوئی مداخلت نہیں ہوگی۔”
ہنٹر سیہر کے مطابق برلن کا فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب جرمنی خود نکاراگووا کے الزام کا دفاع کر رہا ہے کہ اس نے اسرائیل کی نسل کشی کی حمایت کی، جو ICJ میں ایک الگ کیس میں زیر سماعت ہے۔

امریکہ میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ نیوز ایجنسی نے ایران میں ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں ایک اپ ڈیٹ جاری کی ہے۔ ایجنسی کے مطابق 28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک 3,186 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں کم از کم 210 بچوں سمیت 1,394 عام شہری شامل ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں 1,153 فوجی جبکہ 639 اموات کا تعین نہیں ہو سکا ہے۔

امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق امریکی فوجی فورسز ایران کے خلاف لڑائی میں اپنے دستوں کو مضبوط کرنے کے لیے کئی جنگی جہازوں کے ساتھ 4,000 میرینز اور بحری اہلکار بھیجنے کی تیاری کر رہی ہیں، جس کا حوالہ چار نامعلوم حکام سے دیا گیا ہے۔
بوکسر ایمفیبیئس ریڈی گروپ، جو امریکہ کے مغربی ساحل سے روانہ کیا جا رہا ہے، میں F-35 لڑاکا طیارے، میزائل اور ایمفیبیئس گاڑیاں بھی شامل ہیں جو زمینی حملوں کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں۔
انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی او ایم) کا تین روزہ اجلاس ختم ہوگیا ہے۔
آئی او ایم کے سربراہ وکٹر جمنیز فرنانڈیز نے برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ انھیں یقین ہے کہ ان کی تنظیم اگلے ہفتے ایران اور علاقائی طاقتوں کے ساتھ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور محفوظ گزر گاہ کے لیے ایک فریم ورک تلاش کرنے کے لیے مذاکرات شروع کرے گی۔
فرنانڈیز کا کہنا ہے کہ خطے کا کوئی بھی ملک ان مذاکرات سے باہر نہیں ہو گا۔
ان کا کہنا ہے کہ پورے خطے کو ایک ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے کوئی حل تلاش کیا جا سکے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے جنگ کو شطرنج سے تشبیہہ دے دی، ایرانیوں کو ہوشیار اور ذہین قرار دے دیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ایران سے جنگ شطرنج کا ایک بڑا کھیل ہے اور ہم بہت ہوشیار لوگوں سے یہ شطرنج کھیل رہے ہیں۔
ان کاکہنا تھا کہ ہم انتہائی ذہین اور اونچے پیمانے کا آئی کیو رکھنے والے لوگوں سے نمٹ رہے ہیں۔
قبل ازیں ایک بیان میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جب تک ایران قطر پر دوبارہ حملہ نہیں کرتا، اسرائیل ایران کے اہم ساؤتھ پارس گیس فیلڈ پر مزید حملے نہیں کرے گا۔
صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسرائیل نے مشرقِ وسطیٰ کی جنگی صورتحال پر غصے کے باعث ایران کے گیس فیلڈ پر حملہ کیا۔
کویتی فوج نے کہا ہے کہ اس وقت “دشمن کے میزائل اور ڈرون حملوں” کا مقابلہ کیا جا رہا ہے اور عوام سے کہا گیا ہے کہ وہ سرکاری حفاظتی ہدایات پر عمل کریں۔
فوج کے مطابق دھماکوں کی آوازیں کویت کے فضائی دفاعی نظام کی جانب سے دشمن حملوں کو روکنے کی کارروائی کا نتیجہ ہیں۔
کویت کی فوج نے پہلے کے میزائل اور ڈرون حملے کا بھی سامنا کرنے کی اطلاع دی تھی۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران نے اپنی غیر فوجی تنصیبات پر اسرائیلی حملے کے جواب میں طاقت کا چھوٹا سا مظاہرہ کیا ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ تحمل کا مظاہرہ کشیدگی میں کمی کی درخواستوں پر کیا گیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران کے بنیادی ڈھانچے پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو تحمل کا مظاہرہ نہیں کریں گے۔ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ جنگ کا خاتمہ کسی بھی انداز سے ہو، شہری علاقوں میں ہوئے نقصانات کا ازالہ لازمی شرط ہوگی۔
مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر خام تیل اور گیس کی قیمتوں میں پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے
برینٹ کی قیمت 119 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ یورپ اور برطانیہ میں بھی گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، برطانیہ میں گیس 35فیصد مہنگی ہوگئی
سعودی عرب کی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ملک کے شمال میں واقع الجوف صوبے کے اوپر ایک اور ڈرون کو روک کر تباہ کر دیا ہے۔
یہ کارروائی چند گھنٹوں کے دوران جاری رہنے والے ڈرون حملوں کے سلسلے کے دوران کی گئی ہے۔
بحرین کی وزارتِ داخلہ کے مطابق ایک کمپنی کے گودام میں آگ ایرانی حملے کے نتیجے میں گرنے والے میکانیکی ٹکڑوں کی وجہ سے بھڑک اٹھی۔
وزارت نے کہا کہ سول ڈیفنس کے اہلکاروں نے آگ پر قابو پا لیا ہے اور اس دوران کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔
وزارتِ داخلہ نے یہ نہیں بتایا کہ آیا یہ حملہ ایرانی ڈرونز یا میزائلز کے ذریعے کیا گیا تھا یا نہیں۔
برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، ہالینڈ اور جاپان نے کہا ہے کہ وہ ہرمز کی تنگی میں محاصرے کو ختم کرنے میں مدد کے لیے ایک مشن تیار کرنے پر غور کریں گے۔
اب تک کوئی ٹائم لائن مقرر نہیں کی گئی، اور جرمنی اور نیدرلینڈز کا کہنا ہے کہ حصہ لینے کے لیے جنگ بندی یا کم از کم دشمنی کا خاتمہ شرط ہے۔
سعودی عرب کی وزارتِ دفاع نے بتایا ہے کہ گزشتہ ایک گھنٹے کے دوران ملک کے مشرقی علاقے میں تین ڈرونز کو روک کر تباہ کر دیا گیا۔
وزارت کے ترجمان کے مطابق اس سے قبل بھی گزشتہ کئی گھنٹوں میں مختلف مواقع پر 10 ڈرونز کو تباہ کیا گیا تھا۔
تمام ڈرونز کو ملک کے مشرقی خطے میں ہی ناکارہ بنایا گیا۔
کویت کی فوج نے کہا ہے کہ اس کا فضائی دفاعی نظام اس وقت “دشمن کے میزائل اور ڈرون حملوں” کا مقابلہ کر رہا ہے۔
فوج کے مطابق اگر دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں تو وہ “فضائی دفاعی نظام کی جانب سے دشمن حملوں کو روکنے کی کارروائی” کا نتیجہ ہیں۔
عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ حکام کی جانب سے جاری کردہ سکیورٹی اور حفاظتی ہدایات پر عمل کریں۔
متحدہ عرب امارات کی نیشنل ایمرجنسی، کرائسز اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ محفوظ مقامات پر رہیں کیونکہ فضائی دفاعی نظام اس وقت ممکنہ میزائل حملے کے خطرے کا جواب دے رہا ہے۔
عوام سے کہا گیا ہے کہ وہ انتباہات اور تازہ معلومات کے لیے “سرکاری ذرائع” پر نظر رکھیں۔
اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایران کے دارالحکومت تہران پر “بڑے پیمانے” پر حملوں کی ایک لہر شروع کر دی ہے۔
اپنے فارسی زبان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر جاری بیان میں اسرائیلی فوج نے کہا کہ یہ حملے تہران میں “انفراسٹرکچر” کو نشانہ بنا رہے ہیں، تاہم اس دعوے کے حق میں کوئی تفصیلات یا شواہد فراہم نہیں کیے گئے۔
عراق کے مسلح گروہ سرایا اولیاء الدم نے اپنے چینل پر جاری بیان میں کہا ہے کہ اس نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں امریکی اڈوں پر تین حملے کیے ہیں۔
تہران میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جبکہ فضائی دفاعی نظام نے امریکہ اور اسرائیل کے آنے والے ڈرونز کو نشانہ بناتے ہوئے کارروائی کی۔
رپورٹس کے مطابق تہران میں فضائی دفاعی نظام دشمن اہداف کو روکنے کے لیے متحرک ہو گیا، جس کے دوران مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکی جارحیت اور شہید رہنما کے قتل میں جو کچھ ہوا وہ بین الاقوامی تنازعات کے لیے ایک نیا طریقہ ہے جو دنیا کے قانونی نظام کو تباہ کر دے گا۔
صدر پزشکیان نے خبردار کیا کہ اگر عالمی برادری اس بحران کے خلاف مضبوطی سے کھڑی نہ ہوئی تو اس شعلے کی آگ بہت سے لوگوں کو جلا دے گی۔
وزارتِ داخلہ کے مطابق بحرین میں خطرے کے سائرن بج رہے ہیں اور شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ قریبی محفوظ مقام پر منتقل ہو جائیں اور پرسکون رہیں۔
اسرائیلی میڈیا کت مطابق ایران کے میزائل حملوں کے باعث شمالی اسرائیل میں فضائی حملے کے سائرن بج اٹھے۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں پیش آئی ہے جب اسرائیلی فوج نے ایک بار پھر ایران کی جانب سے آنے والے میزائل حملوں کی اطلاع دی ہے۔
ایران نے جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب اسرائیل پر حملے کیے۔ تل ابیب کی یہ ویڈیوز سوشل میڈیا پر پوسٹ ہوئی ہیں۔ پہلی ویڈیو میں تل ابیب میں ایک اسلحہ فیکٹری کی تباہی کے مناظر ہیں۔
JUST IN Claims say Iranian missiles struck a major Israeli weapons facility in central Tel Aviv but there is no confirmed evidence yet and details remain unclear
Strikes in central Israel are real and ongoing but this specific claim about a direct hit on a major arms… pic.twitter.com/s0Nsj8DpWT
— EuroPost Agency (@EuroPostAgency) March 20, 2026
#BREAKING
🇮🇷 Oran’s Another Successful Attack on Israel’s City of Tel Aviv 🇮🇱🔥🔥Your one like and one repost makes America, Israel, and their supported people scream. Don’t consider it trivial.
Therefore, like and repost this post.
Follow this account for the latest news. pic.twitter.com/DUNoqouVHG— Mr. Hass 💛 (@Lassegaf_1) March 19, 2026
جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب اسرائیل میں میزائل سرگرمی کا غیر معمولی طور پر شدید سلسلہ دیکھنے میں آیا، جس کے دوران متعدد علاقوں میں فضائی حملے کے سائرن بجتے رہے اور مختلف مقامات پر دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔
الجزیرہ ٹی وی کے مطابق یروشلم کے نواحی علاقے میں زمین پر دو دھماکوں کی رپورٹس سامنے آئی ہیں، جن کے بارے میں خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ براہ راست میزائل گرنے یا مار گرائے گئے میزائلوں کے ملبے کے باعث ہوئے۔ فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یروشلم کو ایک گھنٹے کے اندر چار مرتبہ آنے والے ہتھیاروں کی لہروں کا سامنا کرنا پڑا، جس کے باعث چار بار فضائی حملے کے سائرن بجائے گئے۔ ایک ہی گھنٹے میں اتنی بار وارننگ جاری ہونا غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے۔
اس دوران وسطی اسرائیل، وادی اردن اور مقبوضہ مغربی کنارے کے وسیع علاقوں میں بھی سائرن بجنے کی اطلاعات ہیں، جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں شمالی شہر حیفہ میں فضا میں دھماکوں اور زمین پر گرتے ملبے کے مناظر دکھائی دے رہے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہاں میزائلوں کو فضا میں تباہ کیا گیا، تاہم ان کے ٹکڑے زمین پر گرے۔ اسی طرح شمالی اسرائیل کے ایک گاؤں میں بھی میزائل یا اس کے حصے کے گرنے کی اطلاعات ہیں۔
ادھر اردن کے دارالحکومت عمان میں بھی رات کے وقت وقفے وقفے سے سائرن بجنے کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق تقریباً ہر 20 سے 30 منٹ بعد سائرن بجتے رہے، جب کہ فضا میں دور سے دھماکوں کی آوازیں بھی سنائی دیتی رہیں، جو غالباً فضائی دفاعی نظام کی جانب سے میزائلوں کو نشانہ بنانے کے نتیجے میں تھیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق جمعہ کی صبح کے قریب صورتحال نسبتاً پرسکون ہو گئی، تاہم حکام کی جانب سے شہریوں کو چوکنا رہنے کی ہدایات جاری رکھی گئی ہیں۔