ایران کیخلاف امریکہ اور اسرائیل جنگ 18 سے 27 مارچ تک
ایران کیخلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ پر اپ ڈیٹس
واشنگٹن: امریکی میڈیا کے مطابق ایرانی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ حالیہ دنوں میں امریکا اور ایران کے درمیان رابطہ ہوا، ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے کی تمام ضروری ضمانتیں دینے کو تیار اور جنگ کے خاتمے کے لیے پائیدار تجاویز سُننے پر آمادہ ہے۔
امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران امریکا رابطہ ابھی مکمل مذاکرات کی سطح تک نہیں پہنچا۔ ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ صرف جنگ بندی تک محدود تجاویز زیر غور نہیں، مختلف ثالثوں کے ذریعے پیغامات موصول ہوئے ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق ایرانی ذرائع نے کہا کہ امریکا، ایران تنازع کے مکمل خاتمے کے لیے ٹھوس معاہدہ ہونے پر غور کیا جا رہا ہے۔ ایران نے امریکا سے براہ راست ملاقات یا بات چیت کا نہیں کہا۔
رپورٹ کے مطابق ایران ایسے مناسب معاہدے پر غور کر سکتا ہے جس میں ایران کے قومی مفادات کا تحفظ ہو، معاہدے میں ایران پر عائد پابندیوں کا خاتمہ لازمی شامل ہونا چاہیے۔
امریکی میڈیا کے مطابق ایرانی ذرائع نے کہا ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے کی تمام ضروری ضمانتیں دینے کو تیار ہے۔ ایران جوہری ٹیکنالوجی کے پُرامن استعمال کا حق دار رہے گا۔
واشنگٹن: ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ کے تنازع پر بات کرتے ہوئے اپنے پہلے کے دعوے دہراتے ہوئے کہا ہے کہ ايران کے پاس اب نہ بحريہ بچی ہے، نہ قيادت اور نہ ہی ريڈار۔انھوں نے امریکی کارروائی کو شاندار کامیابی قرار دیا۔
امن کے حوالے سے بات چيت کے متعلق وہ مزيد کہتے ہیں کہ ہم درست لوگوں سے بات کر رہے ہیں اور وہ معاہدہ کرنے کے ليے بے حد بے چين ہیں۔
بیروت : جنوبی لبنان میں جاری شدید لڑائی کے دوران حزب اللہ نے اسرائیلی فوج کے ٹھکانوں اور گاڑیوں پر نئے حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔
حزب اللہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق جنوبی لبنان: لبنانی قصبوں رابعہ ثلاثین اور العدیسہ میں اسرائیلی فوجیوں اور ان کی فوجی گاڑیوں کو آرٹلری (توپ خانے) سے نشانہ بنایا گیا۔
حزب اللہ نے ڈرون طیاروں کے ذریعے سرحد پار اسرائیلی قصبے مسگاف عام میں اسرائیلی فوج کے اجتماع پر حملہ کیا، جس میں جانی نقصان کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
بیروت: لبنان کی جانب سے ایران کے سفیر کی بے دخلی پر حزب اللہ نے شدید احتجاج کیا اور ایرانی سفیر کی بے دخلی کو گناہ قرار دے دیا۔
بیروت سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق حزب اللہ نے لبنان حکومت سے ایرانی سفیر کی بےدخلی کا فیصلہ فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
حزب اللہ کا کہنا ہے کہ ایرانی سفیر کی بے دخلی کے فیصلے کے سنگین اثرات ہوں گے، لبنانی حکومت ایرانی سفیر کی بےدخلی کا فیصلہ فوری واپس لے۔
واضح رہے کہ لبنان نے ایرانی سفیر کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دیکر ملک چھوڑنے کاحکم دیا تھا۔
منیلا: پیٹرول و گیس کی شدید قلّت کے باعث فلپائن کے صدر فرڈیننڈ مارکوس جونیئر نے ملک میں قومی توانائی ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کر دیا۔
صدارتی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث ایندھن کی فراہمی اور توانائی کے نظام کو سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
فلپائنی صدر کا کہنا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، خصوصاً ایران سے جڑی صورتحال، عالمی تیل کی ترسیل کو متاثر کر سکتی ہے جس کے نتیجے میں فلپائن جیسے درآمدی ممالک کو شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
انرجی ایمرجنسی کے نفاذ کے فیصلے کے بعد توانائی کے شعبے میں ہنگامی اقدامات کیے جائیں گے۔ جن میں ایندھن کے ذخائر میں اضافے اور بجلی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے توانائی کے متبادل ذرائع استعمال کرنے کو فروغ دیا جائے گا۔
علاوہ ازیں غیر ضروری توانائی کے استعمال کو محدود کرنے کے لیے بھی پالیسی اقدامات زیر غور ہیں تاکہ ایندھن ذخائر میں کمی نہ ہو اور تیل و گیس کا استعمال صرف نہایت ضروری کاموں کے لیے مخصوص کیے جائیں۔
دوسری جانب توانائی بحران کے باعث ملک میں مہنگائی بڑھنے، بجلی کی قیمتوں میں اضافے اور صنعتی سرگرمیوں میں سست روی کا خدشہ ہے۔ تاہم حکومت نے عوام کو یقین دہانی کرائی ہے کہ فوری طور پر ایندھن کی قلت کا کوئی خطرہ نہیں اور صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران امریکا جنگ کے خاتمے کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کی پیشکش کے ٹویٹ کو اپنے پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر شیئر کر دیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے مذاکرات کی میزبانی اور سہولت کاری کی پیشکش کا خیرمقدم کرتے ہوئے ان کے ٹویٹ کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹرتھ سوشل‘ (Truth Social) پر شیئر (Re-truth) کر دیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا تھا کہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششوں کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر امریکا اور ایران اتفاق کریں تو پاکستان ایک جامع تصفیے کے لیے بامعنی اور فیصلہ کن مذاکرات کی میزبانی کو اپنے لیے اعزاز سمجھے گا۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے وزیراعظم کے اس پیغام کو ری ٹویٹ کرنا اس بات کا اشارہ ہے کہ واشنگٹن خطے میں تناؤ کم کرنے کے لیے اسلام آباد کے کلیدی کردار کو اہمیت دے رہا ہے۔
تل ابیب: وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کے خلاف مہم کے دوران اسرائیل کے فوجی اہلکار جنوبی لبنان کے بڑے حصوں کا کنٹرول سنبھالیں گے۔
کاٹز کہتے ہیں کہ اسرائیلی فوج دریائے لیطانی تک سکیورٹی زون قائم کرے گی، جو کہ لبنان اسرائیل سرحد سے 30 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
ان کے مطابق بے گھر ہونے والے لبنانی شہریوں کو شمالی اسرائیل کے محفوظ ہو جانے تک ان علاقوں میں واپس نہیں آنے دیا جائے گا۔
اسرائیلی وزیرِ دفاع نے مزید کہا کہ ’دہشتگردوں اور اسلحے کی ترسیل کے لیے حرب اللہ کے زیرِ استعمال‘ پانچ پلوں کو بھی اڑا دیا گیا ہے۔
تہران: ایرانی میڈیا پر نشر ہونے والی اطلاعات کے مطابق محمد باقر ذوالقدر کو ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا نیا سیکریٹری مقرر کر دیا گیا ہے۔
اس سے قبل علی لاریجانی اس عہدے پر فائز تھے۔ وہ 17 مارچ کو تہران پر ایک حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔
محمد باقر ذوالقدر ماضی میں پاسدارانِ انقلاب کے ڈپٹی کمانڈر اور ملک کے نائب وزیرِ داخلہ کے طور پر بھی کام کرتے رہے ہیں۔
ابو ظہبی: متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ ایک ایرانی حملے میں اماراتی فوج کے ساتھ کام کرنے والا سویلین کنٹریکٹر ہلاک ہوا ہے۔
ایک بیان میں وزارتِ دفاع کا کہنا تھا کہ مراکشی شہری بحرین پر کیے گئے ایک ’ایرانی میزائل حملے میں‘ ہلاک ہوا ہے۔
بیان کے مطابق اس حملے میں اماراتی فوج کے بھی پانچ افراد زخمی ہوئے ہیں۔
نئی دہلی/واشنگٹن: بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان مشرقِ وسطیٰ میں تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال اور بالخصوص آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کی سیکیورٹی کے حوالے سے اہم ٹیلیفونک گفتگو ہوئی ہے۔
28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ پہلا باضابطہ رابطہ ہے۔
وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم (X) پر اپنی پوسٹ میں بتایا کہ بھارت خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور جلد از جلد امن کی بحالی کا حامی ہے۔
آبنائے ہرمز کی اہمیت: مودی نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی توانائی کی فراہمی کے لیے آبنائے ہرمز کو محفوظ، کھلا اور قابلِ رسائی رکھنا پوری دنیا کے لیے ناگزیر ہے۔ واضح رہے کہ بھارت کی خام تیل کی درآمدات کا تقریباً 40 فیصد اسی راستے سے آتا ہے۔
پیر کے روز پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے اعتراف کیا کہ اس تنازع سے فضائی سفر، جہاز رانی (Shipping) اور گیس کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔
انہوں نے قوم کو یقین دلایا کہ کسی بھی ممکنہ بحران سے نمٹنے کے لیے بھارت کے پاس پیٹرولیم، کھاد اور کوئلے کے کافی ذخائر موجود ہیں۔
بغداد: امریکی فوج نے عراقی دارالحکومت بغداد میں قائم اپنے ایک فوجی اڈے سے انخلا کی تیاری شروع کردی۔
العربيہ ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی فوج نے بغداد کے وکٹوریا فوجی اڈے سے انخلا کی تیاری کرلی ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق امریکی فوج نے اڈے میں موجود ہتھیاروں اور بھاری سامان کو تباہ کرنا شروع کردیا۔
واضح رہے کہ ایران کی جانب سے بغداد میں موجود مختلف امریکی بیسز کو بھرپور طاقت سے نشانہ بنایا گیا تھا۔
بیروت: لبنان نے ایران سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا۔ بیروت سے عرب میڈیا کے مطابق ایران سے لبنانی سفیر کو موجودہ صورتحال پر مشاورت کے لیے واپس بلایا گیا۔
ادھر خبر ایجنسی کے مطابق لبنان نے اس سے قبل ایرانی سفیر کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دیکر ملک چھوڑنے کاحکم دیا۔ لبنان نے ایران کی جانب سے سفارتی تعلقات کی خلاف ورزی پر سفیروں کی واپسی کے اقدامات کیے۔
لبنانی وزارتِ خارجہ نے منگل کو بتایا کہ حکومت نے ایرانی سفیر کی ملک میں سفارتی منظوری واپس لے لی ہے اور انہیں ناپسندیدہ شخصیت قرار دیتے ہوئے اتوار تک لبنان چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔
لبنانی وزارت خارجہ کے مطابق حکومت نے ایران میں تعینات لبنانی سفیر کو بھی مشاورت کے لیے واپس بلا لیا ہے اور کہا ہے کہ ایران نے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اصولوں اور قائم شدہ روایات کی خلاف ورزی کی ہے۔
برلن : جرمن صدر فرینک والٹر اسٹین مائر نے ایران پر جاری فوجی حملوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قوانین اور انسانی اقدار کی کھلی خلاف ورزی قرار دے دیا ہے۔
صدر اسٹین مائر نےکیا کہ امریا اور اسرائیل کے ایران پر حملے عالمی قوانین کی کھلی خلاف وزرزی ہیں، طاقت کا یہ استعمال عالمی استحکام کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا۔
جرمن صدر نے کہا کہ ایران پر حملے اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانونی ڈھانچے کے منافی ہیں، جس میں کسی بھی ملک کی خودمختاری کے احترام پر زور دیا گیا ہے۔
انہوں نے امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کو “سیاسی طور پر تباہ کن غلطی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس جنگ سے گریز ممکن تھا اگر سفارت کاری کو ترجیح دی جاتی۔
صدر اسٹین مائر نے خبردار کیا کہ طاقتور ممالک اپنے مفادات کے لیے دنیا کو “لٹیروں کا اڈہ” نہ بنائیں جہاں قانون کے بجائے صرف طاقت کی حکمرانی ہو۔
بغداد: عراق کی پاپولر موبلآئزیشن فورسز (پی ایم ایف) کا کہنا ہے کہ ملک کے مغربی علاقے میں ایک امریکی حملے میں 15 جنگجو ہلاک ہو گئے ہیں۔
پی ایم ایف نے اپنی ویب سائٹ پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کے ہلاک ہونے والے کمانڈر سعد البیجی کی بغداد میں آخری رسومات ادا کی جا رہی ہیں۔
پی ایم ایف مسلح گروہوں کا ایک مجموعہ ہے جس میں زیادہ تر ایران کی حمایتی تنظیمیں شامل ہیں۔ اسے اب عراق کی سکیورٹی فورسز کا حصہ بنا لیا گیا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پی ایم ایف کے ہیڈکوارٹر پر حملہ اس وقت ہوا جب وہاں ایک اجلاس چل رہا تھا اور سینیئر کمانڈر بھی موجود تھے۔
دوحپ:قطر کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ ختم کروانے کی کوششوں کا حصہ نہیں ہے۔
ایک پریس بریفنگ کے دوران وزارتِ خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر ماجد الانصاری کا کہنا تھا کہ ’ہماری توجہ اپنے ملک پر حملوں کے خاتمے اور اپنی سرزمین کے دفاع پر ہے۔‘
میں نے ان سے پوچھا کہ کیا خلیجی ممالک پر حملوں کے بعد ایران کے ساتھ نارمل تعلقات اب بھی ممکن ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اپنا محل وقوع تبدیل نہیں کر سکتے۔‘
جب ان سے ایران اور امریکہ کے مذاکرات کے حوالے سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ: ’ان مذاکرات میں جو شامل ہیں یہ سوال آپ ان سے پوچھیں۔ میں پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ ہم ان مذاکرات میں شامل نہیں ہیں۔‘
ڈاکٹر ماجد الانصاری کا مزید کہنا تھا کہ جمعرات کے بعد سے اب تک ایران نے قطر پر کوئی میزائل یا ڈرون حملہ نہیں کیا۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’پچھلی مرتبہ جب میں اس پوڈیم پر کھڑا تھا، اس کے فوراً بعد دو حملے ہو گئے تھے‘ اور اب بھی ایران ’ہمارے خلیجی پڑوسیوں‘ پر حملے کر رہا ہے۔
’ہم نے اپنا دفاع کیا ہے۔ ہم پر اب تک 200 سے زیادہ ڈرون حملے ہو چکے ہیں اور ردِ عمل دینا ہمارا حق ہے۔ تاہم ابھی تک ہم نے اس حوالے سے فیصلہ نہیں کیا ہے۔‘
اسلام آباد:پاکستان کے دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان ’رابطہ کاری اور سفارتی طریقوں‘ سے مشرقِ وسطیٰ اور خلیجِ فارس میں جاری تنازع کو حل کروانے کے لیے کوشاں ہیں۔
دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی میڈیا پر ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات اور پاکستان کے بطور ثالث کردار ادا کرنے کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔
طاہر اندرابی نے ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ بات چیت میں پاکستان کے کردار کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’سفارتکاری اور بات چیت کا تقاضہ ہے کہ اکثر معاملات پر خاموشی سے آگے بڑھا جائے۔‘

بحرین کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ اس کے محکمہ سول ڈیفنس نے ایک کمپنی کے مقام پر لگی آگ پر قابو پا لیا ہے، تاہم اس کمپنی کا نام ظاہر نہیں کیا گیا اور اس واقعے کا ذمہ دار ’ایران‘ کو ٹھہرایا گیا ہے۔
یہ بیان بحرین کی وزارتِ داخلہ کے اُس بیان کے چھ گھنٹے بعد پیش آیا کہ جس میں کہا گیا تھا کہ میزائل حملے کے خدشے کے پیشِ نظر سائرن بجائے گئے اور لوگوں کو محفوظ مقامات پر پناہ لینے کی ہدایت کی گئی تھی۔
حزب اللہ نے کہا ہے کہ اس نے منگل کی صبح اسرائیل کے پانچ اہداف پر حملے کیے۔
گروپ نے مختلف بیانات میں بتایا کہ اس نے اسرائیلی فوجی اجتماع، ایک باراکس، ایک ریڈار سائٹ، اور آرٹلری کے مقامات پر حملہ کیا۔
حزب اللہ کے مطابق راکٹ حملوں کے دوران جنرل فوجیوں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں فاطمہ گیٹ، کفر کیلا (جنوبی لبنان) میں موجود اسرائیلی فوجی شامل تھے۔

ایرانی حکام نے کہا ہے کہ 28 فروری سے شروع ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے دوران 208 بچوں سمیت مجموعی طور پر 1,500 سے زائد شہری شہید ہو چکے ہیں۔ جنگ کے آغاز پر منیب شہر میں لڑکیوں کے اسکول پر حملے میں مارے جانے والی 168 بچیوں کی ہے۔ایرانی ایمرجنسی سروس کے سربراہ نے بتایا کہ شہید ہونے والے بچوں میں 13 بچے پانچ سال سے کم عمر کے تھے اور سب سے کم عمر صرف تین دن کا تھا۔
ایرانی حکومت کے مطابق ملک بھر میں اب تک 1,500 سے زیادہ عام شہری حملوں میں شہید ہو چکے ہیں۔

فلپائن کی وزیر توانائی نے کہا ہے کہ ملک بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے نمٹنے کے لیے کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس کی پیداوار بڑھانے کی کوشش کرے گا، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے اثرات کی وجہ سے گیس کی ترسیل میں شید مُشکلات کا سامنا ہے۔
فلپائن کی آبادی 11 کروڑ 60 لاکھ ہے یہاں توانائی کی قیمتیں خطے میں سب سے زیادہ ہیں اور یہ مُلک اپنی بجلی کی تقریباً 60 فیصد پیداوار کوئلے سے حاصل کرتا ہے۔
وزیر توانائی شارون گارن نے منگل کو صحافیوں سے کہا کہ ایل این جی یعنی مائع قدرتی گیس کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ، ملک ’عارضی طور پر‘ زیادہ ماحول کو آلودہ کرنے والے فوسل فیول پر انحصار کرنے پر مجبور ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم نے بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں اور کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس سے بات کی ہے تاکہ اس بات کا اندازہ لگایا جا سکے کہ وہ اپنی پیداوار کتنی بڑھا سکتے ہیں‘، اور نشاندہی کی کہ یہ ’عارضی اقدام‘ یکم اپریل سے نافذ العمل ہو سکتا ہے۔
وزیرِ توانائی نے کہا کہ ’اگر ہم اسے نافذ کنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو کم از کم ہم مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کی وجہ سے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کو محدود کرنے کے قابل ہوں گے۔
ایرانی شہروں تہران، تبریز، اصفہان اور کرج میں دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ان دھماکوں کے بارے میں ابتدائی رپورٹوں کے مطابق مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر حملے اور بارودی مواد پھٹنے کی آوازیں سنائی دی گئی ہیں۔ اس واقعے کے پس منظر میں خطے میں جاری تنازعات اور ممکنہ عسکری کارروائیوں کے باعث کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
شمالی اسرائیل کے حائفہ علاقے میں گزشتہ شب ایک ایرانی میزائل حملے میں ایک عمارت کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔
اس سے قبل، اسرائیلی فوج نے خبردار کیا تھا کہ ایران کی جانب سے میزائل داغے گئے ہیں۔
اسرائیلی ایمرجنسی سروس کی جانب سے جاری بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ ایران کے اس میزائل حملے کی وجہ سے ایک خاتون زخمی ہوئیں۔

لبنان کی وزارتِ صحت کے تحت ہنگامی آپریشنز سینٹر کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اعلیٰ ضلع کے بشامون قصبے پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں ابتدائی طور پر دو شہری ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ لبنان کے کئی علاقوں میں اسرائیل کی جانب سے ایرانی حمایت یافتہ گروہ کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

وائٹ ہاؤس نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ سے متعلق ممکنہ مذاکرات کے بارے میں قیاس آرائیوں کو کم کرنے کی کوشش کی، جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ دونوں فریق کسی معاہدے کی جانب ’اہم‘ پیش رفت کے قریب ہیں۔
جنگ سے متعلق بیانات کے درمیان گزرنے والے ایک مصروف دن کے میں ٹرمپ کے مذاکرات سے متعلق تبصروں کے بعد ایسی خبریں سامنے آئیں کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس پاکستان میں امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ بات چیت میں انتظامیہ کی نمائندگی کر سکتے ہیں۔
تاہم وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ صورتحال ’تیزی سے بدل رہی ہے‘ اور اس نے خبردار کیا کہ امریکہ اور ایران کے اعلیٰ رہنماؤں کے درمیان کسی باضابطہ ملاقات کا اعلان نہیں کیا گیا۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے برطانوی نشریاتی ادارے کو ایک بیان میں بتایا کہ ’یہ حساس سفارتی مذاکرات ہیں اور امریکہ میڈیا کے ذریعے مذاکرات نہیں کرے گا۔‘

اسرائیلی وزیراعظم کا امریکی صدر سے ٹیلیفونک گفتگو کے بعد میڈیا پر پیغام میں کہنا ہے کہ ڈیل ہونے تک ایران اور حزب اللّٰہ پر حملے جاری رکھیں گے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ امریکا اور ایران امن بات چیت کرتے ہیں تو اسرائیل اپنے مفادات کا تحفظ کرے گا۔
اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ صدر ٹرمپ سمجھتے ہیں جنگ کے تمام مقاصد معاہدے سے حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ ایسا معاہدہ ہمارے مفادات کا تحفظ کرے گا۔
اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ ایران سے نئے آنے والے میزائلوں کا پتہ چلنے کے بعد اس کی فضائی دفاعی نظام کو فعال کر دیا گیا ہے۔ یہ پیغام فوج نے ٹیلیگرام پر جاری کیا۔
فوج کے مطابق گذشتہ چند منٹوں میں، ہوم فرنٹ کمانڈ نے متعلقہ علاقوں میں موبائل فونز پر براہِ راست احتیاطی ہدایت بھیجی ہے۔
فوج نے عوام سے ہدایت کی ہے کہ وہ محفوظ مقام میں داخل ہوں اور مزید ہدایت تک وہاں رہیں۔

حکومت کے حامی مظاہرین ایرانی دارالحکومت تہران کی مرکزی سڑکوں پر جمع ہو گئے ہیں، جہاں وہ اپنے ملک کے خلاف جاری امریکی-اسرائیلی فوجی جنگ کی مذمت کر رہے ہیں، جو اب اپنے 25ویں دن میں داخل ہو چکی ہے۔
نئی بمباری کی دھمکیوں اور شدید بارش کے باوجود، لوگ تہران کی طویل ترین سڑک ولی عصر پر جمع ہوئے، جھنڈے لہراتے رہے اور لاؤڈ اسپیکر پر حب الوطنی کے نعرے بلند کرتے ہوئے حکومت کی حمایت کا اظہار کیا۔
سینکڑوں افراد منگل کی علی الصبح انقلاب اسکوائر، جسے ریولوشن اسکوائر بھی کہا جاتا ہے، میں بھی جمع ہوئے، جہاں ملک کے موجودہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اور ان کے پیش روؤں کی تصاویر نمایاں طور پر آویزاں ہیں۔

کویتی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس کا فضائی دفاعی نظام اس وقت ان حملوں کا ’مقابلہ کر رہا ہے‘ جنھیں اُن کی جانب سے ’دشمن کے میزائل اور ڈرون حملے‘ قرار دیا ہے۔
کویتی انتظامیہ کی جانب سے جاری ایک حالیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ سوموار اور منگل کی درمیانی شب ہونے والا تیسرا حملہ ہے اور اس سے متعلق جاری کیا جانے والا یہ تیسرا اسی نوعیت کا بیان ہے۔
فوج کے مطابق ’اگر دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں تو وہ دراصل فضائی دفاعی نظام کی جانب سے دشمن کے حملوں کو روکنے کا نتیجہ ہیں،‘ کویتی انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ ’متعلقہ حکام کی جانب سے جاری کردہ سکیورٹی اور حفاظتی ہدایات پر عمل کریں۔

غیر یقینی صورتحال کے باعث منگل کے روز برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی۔ جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ وہ ایران کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں، جس کی تہران کے حکام نے تردید کی۔
برینٹ کی قیمت میں 2.9 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 102.84 ڈالر تک پہنچ گئی، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ میں 3.5 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 91.20 ڈالر تک جا پہنچی ہے۔

ایران تیل لے کر پاکستان آنے والے تین بحری جہازوں کو اجازت دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
ذرائع کے مطابق تین بحری جہاز کویت سے تیل لے کر پاکستان پہنچیں گے۔
وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے کرپٹو کونسل بلال بن ثاقب نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کا بحران تیل سے آگے بڑھ کر عالمی سپلائی چین کو متاثر کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تیل کا جھٹکا پہلا مرحلہ ہے، اصل بحران ابھی سامنے آنا ہے

ایرانی فوج نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ آسمان کودیکھو، نیا سرپرائزآنیوالاہے،بہت بڑےنتائج سامنے آئیں گے، ایرانی فوج کے اہلکار نے کہا صدر ٹرمپ ٹیلیفون اورسوشل میڈیا سے اپنا سرہٹائیں اور اپنی آنکھوں کو آسمان، اسٹاک مارکیٹ اور تیل کی قیمتوں پر مرکوز کریں، ایران بڑا سرپرائز دینے والا ہے۔
پاسداران انقلاب کےختم الانبیابریگیڈ کے ترجمان نے ڈونلڈ ٹرمپ کا جملہ طنزا دہرایا کہ ٹرمپ ‘یو آر فائرڈ، تھینک یو فاراٹینشن ٹو دِس میٹر’۔
پاسداران انقلاب نےکہا ہے کہ آپریشن وعدہ صادق 4 کے تحت حملوں کی نئی لہر کا آغاز کردیا، 78ویں لہر کے دوران خطے میں امریکی واسرائیلی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
پاسداران انقلاب کاکہنا ہےکہ اس کارروائی میں ایلات، دیمونا اور شمالی تل ابیب سمیت مختلف اہداف پر ملٹی وارہیڈ میزائل اور ڈرونز کے ذریعے حملے کیے گئے۔
اسلامی پاسداران انقلاب کے مطابق ان کارروائیوں میں جدید عماد اور قدر میزائل استعمال کیے گئے جبکہ خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اب تک پاسداران انقلاب کی زیادہ تر جنگی یونٹس اور بسیج فورسز کو مکمل طور پر میدان میں نہیں اتارا گیا، تاہم ضرورت پڑنے پر انہیں بھی شامل کیا جائے گا۔

پاسدارنِ انقلاب سے وابستہ نیوز ایجنسی نے امریکہ اور اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ انھوں نے وسطی اصفہان میں ایک ہی سڑک پر واقع گیس کی ایک انتظامی عمارت اور گیس پریشر کم کرنے والے سٹیشن پر حملہ کیا ہے۔
خبر رساں ادارے کے مطابق اس حملے سے ان تنصیبات کے کچھ حصوں کے ساتھ ساتھ قریبی گھروں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’رپورٹس سامنے آئیں کہ مغربی ایران میں واقع خرمشہر پاور پلانٹ کو گیس فراہم کرنے والی پائپ لائن کو بھی نشانہ بنایا گیا۔‘
تاہم فارس نیوز کے مطابق خرمشہر کے گورنر کا کہنا ہے کہ ایک میزائل گیس پائپ لائن اسٹیشن کے باہر ایک علاقے میں گرا مگر اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

تہران کی ایک سائنسی یونیورسٹی کے معروف اسکالر اور پروفیسر کو ایرانی دارالحکومت کے شمال میں واقع ان کی رہائش گاہ پر امریکی-اسرائیلی حملے میں ان کے دو بچوں سمیت شہید کر دیا گیا۔
ایران کے پریس ٹی وی کے مطابق شہید ہونے والے پروفیسر کی شناخت سعید شماغداری کے نام سے ہوئی ہے، جو ایران یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبہ انجینئرنگ میں تدریس کے فرائض انجام دے رہے تھے۔
پریس ٹی وی کے مطابق ان کے بیٹے محمد اور بیٹی ریحانہ بھی اس حملے میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
یونیورسٹی کے حوالے سے بتایا گیا کہ اس نے شماغداری اور ان کے دو بچوں کی موت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور اس سانحے کو “انتہائی المناک” قرار دیا ہے۔
اسرائیل اس سے قبل بھی متعدد ایرانی ماہرینِ تعلیم کو نشانہ بنا چکا ہے، جن پر اس نے ایرانی ہتھیاروں کی تیاری سے تعلق رکھنے کا الزام عائد کیا تھا۔

جاپان کے وزیرِاعظم سَنائے تاکائیچی نے اعلان کیا ہے کہ جاپان مارچ کے اختتام تک ملک میں موجود مشترکہ تیل کے ذخائر سے تیل جاری کرنا شروع کرے گا۔
جاپانی وزیراعظم نے بتایا کہ حکومت 26 مارچ سے قومی تیل کے ذخائر بھی جاری کرنا شروع کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ان اقدامات سے یہ یقینی بنانے میں مدد ملے گی کہ “پیٹرولیم مصنوعات جیسے پٹرول کی فراہمی میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے۔”
انہوں نے مزید کہا مستحکم توانائی کی فراہمی کے تناظر میں مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کو برقرار رکھنا، بشمول آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی حفاظت کو یقینی بنانا، جاپان سمیت عالمی برادری کے لیے نہایت اہم ہے۔
امریکا کی ریاست ٹیکساس کی آئل ریفائنری میں آگ بھڑک اٹھی، پورٹ آرتھر کی ویلرو رئفائنری میں آگ لگنے سے پہلے دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
ذرائع کے مطابق دھماکوں کی آوازیں اتنی شدید تھیں کے قریب موجود گھر لرز اٹھے، آتشزدگی کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہوسکی ہے۔
حکام کا بتانا ہے کہ رئفائنری میں خام تیل کو ساڑھے چار لاکھ بیرلز روزانہ کی بنیاد پر گیسولین، ڈیزل اور جیٹ فیول میں پراسیس کیا جاتا ہے۔
ایران نے امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی تردید کردی، جنگ روکنے کیلئے 6 اسٹریٹیجک شرائط بھی پیش کردیں تاہم ساتھ ہی کہا ہے کہ اس منصوبے پر مرحلہ وار عمل کیا جارہا ہے، میدان جنگ میں ہونے والی پیشرفت کے سبب فوری جنگ بندی کی توقع نہیں۔
نجی ٹی وی کے مطابق ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ پچھلے چند روز کے دوران بعض دوست ممالک کی جانب سے پیغامات ملے ہیں کہ امریکا جنگ ختم کرنے کیلئے مذاکرات کا مطالبہ کررہا ہےجن کا ملک کے اصولی موقف کے تحت جواب دیا گیا ہے۔
ایک اہلکار نے نام ظاہر کیے بغیر ایرانی میڈیا کو بتایا کہ علاقائی پارٹیوں اور ثالثوں نے ایران کو تجاویز پیش کی ہیں کہ جنگ روکی جائے تاہم ایران نے شرائط عائد کی ہیں جنہیں سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔
اہلکار نے نئے قانونی اسٹریٹجیک فریم ورک کے تحت چھ شرائط بتائیں، جن میں سے اولین جنگ دوبارہ نہ شروع ہونے کی یقین دہانی ہے۔
دوسری خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو بند کیا جانا ہے، تیسری جارح کو پیچھے دھکیلنا اور ایران کو ہرجانے کی ادائیگی ہے۔
چوتھے تمام علاقائی فرنٹس پر جنگ کو ختم کیا جانا ہے، پانچویں آبنائے ہرمز کیلیے نئے قانونی رجیم پر عمل درآمد کیا جانا ہے اور چھٹی شرط ایران مخالف میڈیا آپریٹیوز کیخلاف قانونی کارروائی اور انہیں ملک بدر کرنا ہے۔
یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ شرائط کن ثالثوں کے زریعے امریکا اور اسرائیل کو پیش کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا نے ایک سیکیورٹی و سیاسی اہلکار کے حوالے سے نام ظاہر کیے بغیر کہا کہ مہینوں پہلے سے طے حکمت عملی کو اسٹریٹیجک تحمل کے ساتھ قدم بہ قدم آگے بڑھا رہا ہے۔

صدر ٹرمپ کے حملے روکنے کے اعلان کے باوجود امریکی سینٹ کام کا حملے جاری رکھنے کا اعلان سامنے آیا ہے۔
سینٹ کام کا کہنا ہےکہ ایران پر 28 فروری سے اب تک 9 ہزار اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
ایران پر حملوں میں 140 بحری جہازوں کو تباہ کردیا گیا، طے شدہ اہداف کو انتہائی مہارت سے نشانہ بنایا جارہا ہے۔
دوسری جانب آیت اللّٰہ مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر محسن رضائی کا کہنا ہے کہ ایران کے نقصانات پورے ہونے تک جنگ نہیں رکے گی۔
محسن رضائی نے کہا کہ اس بار آنکھ کے بدلے سر لیں گے، امریکا کو خطے سے نکلنا ہوگا۔

ایرانی پارلیمنٹ کے نائب اسپیکر علی نکزاد نے کہا ہے کہ ایران کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مذاکرات نہیں کرنے چاہئیں، جنہوں نے خود کو ایک “جھوٹا اور بے اصول” ثابت کیا ہے۔
نکزاد نے مزید کہا کہ جون 2025 اور فروری میں ہونے والے مذاکرات کے دو سابقہ ادوار کے دوران، جب معاہدے کی طرف پیش رفت ہو رہی تھی تاکہ تنازع سے بچا جا سکے، اس وقت امریکا نے ایران پر حملہ کر دیا تھا۔

ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے ایران کی قومی خودمختاری اورعلاقائی سالمیت کادفاع جاری رکھنےکےعزم کااعادہ کیا، روسی ہم منصب سے گفتگو کے دوران ایرانی وزیرخارجہ نے کہا کہ ایران کےتوانائی ڈھانچے پر حملےکی دھمکی جنگی جرم اورنسل کشی کے مترادف ہے، ایسی دھمکیوں پرعمل کیاگیا تو ایران کاجواب فوری اورفیصلہ کن ہوگا۔
عباس عراقچی نےآبنائےہرمز سے متعلق ایران پر لگائے جانے والے الزامات مستردکردیے، انہوں نے واضح کیاکہ آبنائے ہرمز میں عدم تحفظ دراصل امریکا اور صہیونی حکومت کےایران پرحملوں کانتیجہ ہے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ عالمی برادری امریکا اوراسرائیل کو خلاف ورزیوں اور جرائم پر جوابدہ ٹھہرائے۔
روسی وزیرخارجہ نےگفتگو کے دوران ایران پر امریکا اور اسرائیل کے غیرقانونی حملوں کی مذمت کی اور کہا روس بین الاقوامی فورمز میں ہمیشہ بین الاقوامی قانون کےتحفظ اور عالمی تعلقات میں قانون کی حکمرانی کوکمزور ہونےسےبچانےکی کوشش کرتا ہے۔

سلووینیا یورپی یونین کا پہلا رکن ملک بن گیا ہے جس نے ایران پر امریکی-اسرائیلی حملوں اور ایران کی جانب سے خلیجی ممالک کے خلاف جوابی کارروائیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی ایندھن کی قلت سے نمٹنے کے لیے ایندھن کا کوٹہ مقرر کر دیا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی ممالک عالمی توانائی کی منڈیوں میں سب سے بڑے کھلاڑی ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث کئی ممالک میں ایندھن کی قیمتوں میں خاطر خوا اضافہ ہوا ہے۔
اس کے نتیجے میں سلووینیا میں نام نہاد ’ایندھن کی سیاحت‘ شروع ہو گئی تھی۔ کئی ہمسایہ ممالک خصوصاً آسٹریا کے ڈرائیورز سلووینیا میں فیول کی کم قیمتوں کا فائدہ اٹھا رہے تھے۔
حکومت کی جانب سے لاگو کیے گئے نئے اقدامات کے تحت اب سلووینیا میں نجی گاڑی چلانے والوں کو روزانہ زیادہ سے زیادہ 50 لیٹر ایندھن خریدنے کی اجازت ہوگی جبکہ مختلف کاروبار اور کسان 200 لیٹر تک ایندھن خرید سکیں گے۔