ایران کیخلاف امریکہ اور اسرائیل جنگ 18 سے 27 مارچ تک
ایران کیخلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ پر اپ ڈیٹس
لندن: برطانیہ کے وزیر دفاع جان ہیلی نے سوموار کے روز اراکین پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایران نے جمعہ کے روز بحر ہند میں برطانیہ اور امریکہ کے مشترکہ فوجی اڈے ڈیاگو گارشیا پر دو میزائل داغے تھے۔
انھوں نے پارلیمان کو بتایا کہ ’جمعہ کی صبح سویرے، ڈیاگو گارشیا کی جانب دو ایرانی میزائل داغے گئے تھے۔‘
’ایک اپنے ہدف تک پہنچے سے پہلے ہی گر گیا تھا، دوسرے کو ہدف تک پہنچنے سے قبل ہی مار گرایا گیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ دونوں میزائل ڈیاگو گارشیا کے نزدیک بھی نہیں پہنچ سکے۔
وزیرِ دفاع کا مزید کہنا تھا، ’برطانیہ کو کارروائی کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی اور معمول کے مطابق آپریشنز جاری ہیں۔‘
تل ابیب: اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے تہران پر حملوں کے دوران ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے مرکزی سکیورٹی ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنایا ہے۔
اسرئیلی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کا ہیڈکوارٹر فوجیوں کی سرگرمیوں کو ہم آہنگ کرنے اور حالات کا جائزہ لینے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ ’یہاں سے بسیج بٹالینز کو بھی ہدایات دی جاتی تھیں۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ: ’حملے سے قبل شہریوں کو پہنچنے والے نقصان کو کم کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے تھے جن میں پریسیشن گولہ بارود کا استعمال، فضائی نگرانی، اور اضافی انٹیلی جنس شامل ہیں۔
تہران: ایران کے پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اسرائیل میں مختلف مقامات اور تین امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ تسنیم نیوز ایجنسی کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں، پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ اس نے ڈرونز کی مدد سے اسرائیل کے ’شمالی، وسطی اور جنوبی‘ علاقوں کو نشانہ بنایا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے اس نے تین امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے جن میں: کویت میں واقع علی السالم بیس، سعودی عرب میں الخرج بیس اور متحدہ عرب امارات میں واقع الظفرہ فوجی اڈہ شامل ہے۔
تاحال اسرائیلی فوج، کویت، سعودی عرب یا متحدہ عرب امارات میں سے کسی نےابھی اب تک پاسدارن انقلاب کے دعوؤں کی تصدیق ن
تہران: ایران کی مہر نیوز ایجنسی نے تہران کی وزارت خارجہ کے حوالے سے خبر دی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کروانے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔
اس سے قبل ایرانی وزارت خارجہ کے بعض عہدے داروں نے ایران امریکا مذاکرات کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ ٹرمپ کا بیان صرف تیل کی قیمتوں میں کمی کرنے اور ممکنہ مزید حملوں کے لیے وقت لینے کی خاطر جاری کیا گیا ہے۔
فلوریڈا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے خود مذاکرات کے لیے رابطہ کیا تھا، ایران کو اس کے جہازوں پر بھرا تیل فروخت کرنے کی اجازت دی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران اور امریکا دونوں ڈیل کرنا چاہتے ہیں، اسرائیل سے بات ہوگئی ہے، وہ تازہ پیشرفت پر خوش ہے۔
اسلام آباد: ایران اور امریکا کے مذاکرات کے پاکستان میں ہونے سے متعلق سوال کے جواب میں دفتر خارجہ کا جواب آگیا۔
ترجمان دفتر خارجہ سے سوال کیا گیا کہ کیا ایران امریکا مذاکرات پاکستان میں ہو رہے ہیں؟
اس سوال پر ترجمان دفتر خارجہ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس پر فی الحال بات نہیں کرسکتا۔
اس سے قبل غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کا کہنا تھا کہ امریکا اور ایران کے مذاکرات اسی ہفتے اسلام آباد میں ہونے کا امکا ہے۔
ایران کی مذاکراتی ٹیم کی قیادت ممکنہ طور پر ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر غالیباف کریں گے جبکہ امکان ہے کہ امریکی مذاکراتی ٹیم نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں آئے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی رائٹرز نے امریکی ویب میگزین ایکزیوس کے رپورٹر بارک روید کی سوشل میڈیا پوسٹ کے حوالے سے خبر دی کہ امریکا اور ایران مذاکرات پاکستان ترکیے اور مصر کی سہولت کاری میں ہوئے ہیں۔
اسلام آباد : برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے دعویٰ کیا ہےکہ فیلڈ مارشل آرمی چیف عاصم منیر نے اتوار کو امریکی صدر ٹرمپ سے بات چیت کی ہے۔برطانوی اخبار نے لکھا ہےکہ پاکستان خود کو ایران کے خلاف جنگ کے خاتمے کے لیے ایک مرکزی ثالث کے طور پر پیش کر رہا ہے اور سینئر پاکستانی حکام ایرانی عہدے داروں اور وٹکوف اور جیراڈ کشنر کے درمیان بیک چینلز رابطے کروا رہے ہیں۔
برطانوی اخبار کے مطابق جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان اپنی عسکری قیادت کے ایران کے ساتھ تعلقات اور ٹرمپ کے ساتھ خوشگوار روابط کو استعمال کر رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان نے آنے والے دنوں میں اعلیٰ امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان ممکنہ مذاکرات اسلام آباد میں کرانے کی پیشکش کی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ اتوار کو فیلڈ مارشل آرمی چیف عاصم منیر نےامریکی صدر ٹرمپ سے بات چیت کی جب کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے آج پیر کے روز ایرانی صدر سے گفتگو کی۔
اخبار کے مطابق شہباز شریف اور ایرانی صدر کے درمیان یہ بات چیت تقریباً اسی وقت ہوئی جب ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر یہ اعلان کیا کہ وہ ایران کے بجلی گھروں کو تباہ کرنے کی دھمکی کو مؤخر کر رہے ہیں کیونکہ تہران کے ساتھ بہت مثبت اور نتیجہ خیز بات چیت ہورہی ہے۔دوسری جانب ایران نے ٹرمپ کی جانب سے مذاکرات کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مقصد توانائی کی قیمتوں کو کم کرنا اور اپنے فوجی منصوبوں پر عملدرآمد کے لیے وقت حاصل کرنا ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہےکہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان کسی قسم کی کوئی بات چیت نہیں ہو رہی۔
ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہےکہ امریکی صدر ٹرمپ کے بیانات کا مقصد توانائی کی قیمتوں کو کم کرنا اور اپنے فوجی منصوبوں پر عملدرآمد کے لیے وقت حاصل کرنا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ خطے کے کچھ ممالک کشیدگی کم کرنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں، علاقائی ممالک کی جانب سے کچھ تجاویز سامنے آئی ہیں تاہم ان تمام تجاویز اور درخواستوں کا رخ واشنگٹن کی طرف موڑنا چاہیے، ہمارا جواب واضح ہےکہ ہم وہ فریق نہیں جس نے یہ جنگ شروع کی۔
واشنگٹن: امریکی نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر (این سی ٹی سی) کے سابق ڈائریکٹر جو کینٹ نے ایران سے مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کا الزام اسرائیل پر لگادیا۔
کچھ دن پہلے ایران کے خلاف جنگ کی مخالفت کے باعث استعفیٰ دینے والے جو کینٹ نے کہا کہ کشیدگی کم کرنے کا پہلا قدم اسرائیلیوں کو روکنا ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو روکنا چاہیے ورنہ مذاکرات کی تمام کوششیں اسی ڈگر پر چلتی رہیں گی، تل ابیب بڑے حملے کرتا ہے تاکہ مذاکرات کو سبوتاژ کیا جاسکے۔
این سی ٹی سی کی سابق ڈائریکٹر نے مزید کہا کہ امریکی صدر عوامی سطح پر کشیدگی کم کرنے کا اعلان کرتے ہیں اور اسرائیل حملہ کردیتا ہے۔
اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسرائیل کے حملے مذاکراتی صلاحیت کو کمزور کردیتا ہے اور جنگ تیز ہوجاتی ہے۔
واشنگٹن: امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر کا کہنا ہے کہ اسرائیل بھی پڑوسی عرب ممالک کیخلاف ایرانی خطرات کا مقابلہ کرتے ہوئے حملوں کو روک رہا ہے۔
ایک انٹرویو میں سربراہ امریکی سینٹ کام نے کہا کہ امریکا اور خلیجی اتحادیوں نے تاریخ کا سب سے بڑا فضائی دفاعی حصار قائم کیا ہے، پورے خطے کے ممالک کے اوپر ایک “بہت مضبوط دفاعی چھتری” موجود ہے۔
بریڈ کوپر نے کہا کہ اسرائیل، عرب ممالک کی طرف بڑھنے والے ایرانی ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں کو نشانہ بنا رہا ہے، ایران کی عسکری صلاحیتوں کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سربراہ سینٹکام بریڈ کوپر نے کہا کہ ایرانی عوام کو موجودہ حکومت کیخلاف نکلنے کی راہ ہموار کر رہے ہیں، جنگ ختم کرنے کا اختیار مکمل طور پر امریکی صدر کے پاس ہے۔
لندن: برطانوی دفترِ خارجہ نے برطانیہ اور بیرونِ ملک ایران کی “لاپرواہ اور عدم استحکام پیدا کرنے والی کارروائیوں” پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ایرانی سفیر سید علی موسوی کو طلب کر لیا۔
برطانوی دفترِ خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ برطانیہ، ایران اور اس کے اتحادیوں (Proxies) کی جانب سے لاحق خطرات کو “انتہائی سنجیدگی” سے لیتا ہے۔
قومی سلامتی ہماری اولین ترجیح ہے اور برطانوی عوام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔
رپورٹس کے مطابق، ایرانی سفیر کو وزیرِ خارجہ ایویٹ کوپر کی ہدایت پر طلب کیا گیا، جہاں مشرقِ وسطیٰ کے لیے برطانوی وزیر ہامش فالکنر نے ان سے ملاقات کی اور برطانیہ کے شدید تحفظات سے آگاہ کیا۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب ایک ایرانی شہری اور ایک برطانوی-ایرانی دوہری شہریت رکھنے والے شخص پر لندن میں یہودی کمیونٹی کی “معاندانہ نگرانی” (Hostile Surveillance) کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔ ان افراد پر شک ہے کہ وہ ایران کی ایما پر حساس مقامات اور افراد کی جاسوسی کر رہے تھے۔
ایران کو اس کی ان کارروائیوں کے لیے جوابدہ ٹھہرایا جائے گا جو برطانوی سرزمین پر امن و امان کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہیں۔
تہران: ایرانی پاسداران انقلاب نے مذاکرات پر تبصروں کے بعد ٹرمپ کو ’دھوکے باز امریکی صدر‘ کا نام دیا۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک “فریب کار امریکی صدر” قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ان کا تضاد سے بھرپور رویہ ایران کو ’میدانِ جنگ‘ سے غافل نہیں کر سکتا۔
یہ سخت بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تہران نے صدر ٹرمپ کے ان دعوؤں کو یکسر مسترد کر دیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں “بڑے اتفاقِ رائے” (Major points of agreement) پیدا ہو گئے ہیں۔
پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی باتوں اور ان کے اقدامات میں واضح تضاد ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق، امریکہ ایک طرف مذاکرات کا راگ الاپ رہا ہے اور دوسری طرف جارحیت اور پابندیوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔
لندن: برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ طویل عرصے تک جاری رہ سکتی ہے۔ ہمیں اسی حساب سے منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔
برطانوی میڈیا کے مطابق وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے ان خیالات کا اظہار پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
وزیراعظم کیئر اسٹارمر کا مزید کہنا تھا کہ جنگ کے فوری اور جلد خاتمے کی امید پر انحصار نہیں کیا جاسکتا۔ حکومت کی تمام تر توجہ توانائی بحران کو جلد از جلد کم کرنے پر مرکوز ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ جنگ کے آغاز سے ہی اپنی ٹیم کو واضح ہدایات دی تھیں کہ وہ اس غلط فہمی میں نہ رہیں کہ یہ تنازع مختصر ہوگا۔
دوسری جانب برطانوی وزیر اعظم کے ترجمان نے امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ سفارتی پیش رفت کا خیرمقدم کیا ہے۔
ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان مثبت بات چیت ہو رہی ہے تو یہ ایک خوش آئند امر ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا دونوں ڈیل کرنا چاہتے ہیں، اسرائیل سے بات ہوگئی ہے، وہ تازہ پیشرفت پر خوش ہے۔
فلوریڈا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران نے خود مذاکرات کے لیے رابطہ کیا تھا، ایران کو اس کے جہازوں پر بھرا تیل فروخت کرنے کی اجازت دی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ چیزیں بہت اچھے طریقے سے آگے بڑھ رہی ہیں، امریکی وفد اور ایرانی نمائندوں کے درمیان انتہائی گہری اور تفصیلی بات چیت ہوئی، امریکی وفد میں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل تھے، ایران شدت سے معاہدہ کرنا چاہتا ہے، معاہدہ آئندہ 5 دن یا اس سے بھی پہلے ہو سکتا ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ امید ہے کہ ایران کے معاملے کو حل کرلیا جائے گا،ایران 47 سال سے خطرہ تھا، امریکا ایران مذاکرات میں دونوں ملک کئی نکات پر راضی ہیں، 15 نکات پر ایران سے بات چیت چل رہی ہے، نکات میں سرفہرست ہے کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہوں گے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ہونے کی گارنٹی نہیں دے سکتا۔ اگر ڈیل ہوئی تو خطے اور ایران کے لیے اچھا آغاز ہوگا۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکا ایران مذاکرات میں دونوں ملک کئی نکات پر راضی ہیں، اگر ڈیل ہوگئی تو ایران کا افزودہ یورینیم امریکی استعمال میں لائیں گے۔
امریکی صدر نے کہا کہ اگر بی 52 بمبار سے حملہ نہ کرتے تو ایران چند ہفتوں میں ایٹمی ہتھیار بنا لیتا۔
صحافی کی جانب سے سوال کیا گیا کہ کیا امریکی فوجی ایران میں داخل ہوں گے، جس پر ٹرمپ نے جواب دیا کہ ہم حکمت عملی پر بات نہیں کرتے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ خامنہ ای قتل ہوچکے ہیں اور ان کے بیٹے کو میں لیڈر نہیں سمجھتا، ایران کے قابل احترام لیڈر سے بات ہوئی ہے، نہیں جانتا، نئے ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں یا نہیں؟ مجتبی خامنہ ای کے بارے میں کچھ نہیں سنا، نہیں چاہتا کہ مجتبی خامنہ ای کو قتل کیا جائے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے بجلی گھروں پر حملے 5 روز کیلئے موخر کرنے کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی ریکارڈ ہوئی ہے ۔
امریکی کروڈ آئل کی قیمت میں 10فیصد کمی دیکھنے میں آئی جو کہ 88.34 ڈالر فی بیرل پر آ گئی ہے جبکہ برطانوی کروڈ آئل میں بھی 10 فیصد کمی ہوئی جس کے بعد فی بیرل قیمت 101.49 ڈالر پر آ گئی ہے ۔
یاد رہے کہ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے مکمل اور جامع حل کے حوالے سےایران کے ساتھ ’تعمیری بات چیت‘ ہوئی ہے اس لیے ایران کے بجلی گھروں پر حملے 5 روز کیلئے موخر کر دیئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ ایران کے بجلی گھروں اور توانائی کی تنصیبات پر، بلکہ ایران میں تمام حملوں کو پانچ روز کے لیے مؤخر کر رہے ہیں۔
واشنگٹن: امریکی انتظامیہ نے سعودی عرب کی جانب سے دفاعی ہتھیاروں اور گولہ بارود کی دوبارہ فراہمی کی درخواستوں کو منظور کر لیا ہے۔ ایک علاقائی عہدیدار نے، جو ان معاملات سے آگاہ ہیں، بتایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ سعودی عرب کے ایران کے ممکنہ حملوں کے خلاف دفاع کی بھرپور حمایت کر رہی ہے۔
عہدیدار کے مطابق امریکا نے نہ صرف براہِ راست اسلحہ فراہم کرنے کی منظوری دی ہے بلکہ تیسرے ممالک کے ذریعے اسلحہ منتقلی کی اجازت بھی دے دی ہے، جس کے بعد امریکی ساختہ ہتھیار اتحادی ممالک اپنے ذخائر سے سعودی عرب کو فراہم کر سکیں گے۔
سی این این کے مطابق سعودی عرب کو سب سے زیادہ تشویش ایران کی جانب سے خطے کے شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے خطرات پر ہے، خاص طور پر ایسی صورت میں جب امریکا ایران کے خلاف کوئی کارروائی کرتا ہے۔ عہدیدار نے بتایا کہ خلیجی عرب ممالک کے درمیان اس معاملے پر قریبی تعاون جاری ہے، خصوصاً ان ممالک کے درمیان جو پہلے بھی ایرانی حملوں کا سامنا کر چکے ہیں۔
اسی تناظر میں رواں سال جنوری میں امریکی انتظامیہ نے سعودی عرب کو 730 پیٹریاٹ میزائلوں کی فروخت کی منظوری دی تھی، جس کی مالیت تقریباً 9 ارب ڈالر ہے۔ مزید برآں، نومبر میں امریکا نے سعودی عرب کو “میجر نان نیٹو اتحادی” کا درجہ بھی دیا، جس کے بعد اسلحہ کی منتقلی کے عمل کو مزید آسان بنا دیا گیا۔
حالیہ دنوں میں امریکی انتظامیہ نے کانگریس کو بائی پاس کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات کو تقریباً 8.4 ارب ڈالر، کویت کو 8 ارب ڈالر اور اردن کو 70.5 ملین ڈالر کے ہتھیاروں کی فروخت کی بھی منظوری دی ہے، جسے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔
واشنگٹن: امریکی انتظامیہ نے سعودی عرب کی جانب سے دفاعی ہتھیاروں اور گولہ بارود کی دوبارہ فراہمی کی درخواستوں کو منظور کر لیا ہے۔ ایک علاقائی عہدیدار نے، جو ان معاملات سے آگاہ ہیں، بتایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ سعودی عرب کے ایران کے ممکنہ حملوں کے خلاف دفاع کی بھرپور حمایت کر رہی ہے۔
عہدیدار کے مطابق امریکا نے نہ صرف براہِ راست اسلحہ فراہم کرنے کی منظوری دی ہے بلکہ تیسرے ممالک کے ذریعے اسلحہ منتقلی کی اجازت بھی دے دی ہے، جس کے بعد امریکی ساختہ ہتھیار اتحادی ممالک اپنے ذخائر سے سعودی عرب کو فراہم کر سکیں گے۔
سی این این کے مطابق سعودی عرب کو سب سے زیادہ تشویش ایران کی جانب سے خطے کے شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے خطرات پر ہے، خاص طور پر ایسی صورت میں جب امریکا ایران کے خلاف کوئی کارروائی کرتا ہے۔ عہدیدار نے بتایا کہ خلیجی عرب ممالک کے درمیان اس معاملے پر قریبی تعاون جاری ہے، خصوصاً ان ممالک کے درمیان جو پہلے بھی ایرانی حملوں کا سامنا کر چکے ہیں۔
اسی تناظر میں رواں سال جنوری میں امریکی انتظامیہ نے سعودی عرب کو 730 پیٹریاٹ میزائلوں کی فروخت کی منظوری دی تھی، جس کی مالیت تقریباً 9 ارب ڈالر ہے۔ مزید برآں، نومبر میں امریکا نے سعودی عرب کو “میجر نان نیٹو اتحادی” کا درجہ بھی دیا، جس کے بعد اسلحہ کی منتقلی کے عمل کو مزید آسان بنا دیا گیا۔
حالیہ دنوں میں امریکی انتظامیہ نے کانگریس کو بائی پاس کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات کو تقریباً 8.4 ارب ڈالر، کویت کو 8 ارب ڈالر اور اردن کو 70.5 ملین ڈالر کے ہتھیاروں کی فروخت کی بھی منظوری دی ہے، جسے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ماسکو: روسی ایوان صدر کریملن نے کہا ہے کہ ایران کے بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ کے قریب حملے عالمی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ ہیں۔
کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا کہ جوہری تنصیبات کے قریب حملے کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
ترجمان کریملن کا کہنا تھا کہ روس نے اپنی تشویش سے امریکا کو آگاہ کردیا ہے۔
انہون نے کہا کہ صورتحال کو فوری سفارتی اور سیاسی طریقے سے حل کیا جانا چاہیے۔
تہران: ایرانی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایران نے کویت میں ایک امریکی لڑاکا طیارہ مار گرایا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق کویت میں طیارے کو ایران کی جانب سے نشانہ بنا کر گرایا گیا۔
دوسری جانب اسرائیل کے شمالی اور وسطی علاقوں میں خطرے کے سائرن بج رہے ہیں۔
اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ غزہ سے متصل اسرائیلی شہر عسقلان میں ایرانی میزائل گرنے کی اطلاع ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق عسقلان میں دو مقامات پر ایرانی میزائل سے حملہ کیا گیا ہے۔

ایران کی دفاعی کونسل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’غیر دشمن ممالک کے لیے‘ آبنائے ہرمز سے گزرنے کا واحد طریقہ ’ایران کے ساتھ ہم آہنگی‘ ہے۔
ایرانی میڈیا میں شائع ہونے والے اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’دشمن کی جانب سے ایرانی ساحل یا جزائر پر حملے کی کوئی بھی کوشش‘ کی گئی تو خلیج (ایرانی حکام کے مطابق خلیج فارس) کے ’تمام راستوں‘ اور ساحلی علاقوں میں مختلف اقسام کی بحری بارودی سرنگیں نصب کر دی جائیں گی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر ایران پر ایسا کوئی حملہ ہوتا ہے ’تو صرف آبنائے ہرمز ہی نہیں بلکہ مکمل خلیج فارس عملی طور پر بند ہو جائے گی اور اس کی ذمہ داری جارحیت کرنے والے پر عائد ہو گی۔
رات بھر جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں میں اسرائیل کی جانب سے متعدد فضائی حملے کیے گئے، جن میں سرحد کے مشرقی حصے میں واقع خیام اور نبطیہ سے لے کر صور کے قریب بلدیہ الشہابیہ تک کے علاقے شامل ہیں۔ لبنان کی نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق، ان حملوں میں کم از کم ایک شخص جاں بحق ہو گیا۔

ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جنگ سے غریب ملکوں کو خوراک کی فراہمی شدید متاثر ہو رہی ہے۔
ورلڈ فوڈ پروگرام کی رپورٹ کے مطابق غریب ترین ممالک کو دسیوں ہزار ٹن غذائی امداد کی فراہمی میں خلل پڑا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں تنازعات سے عالمی سطح پر بھوک کی شرح ریکارڈ سطح تک جاسکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ساڑھے 4 کروڑ افراد شدید بھوک کی طرف دھکیلے جا رہے ہیں۔
ورلڈ فوڈ پروگرام کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 31کروڑ 80 لاکھ افراد کو خوراک کے عدم تحفظ کا سامنا ہے۔
ایران کے ختم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں پرنس سلطان ایئر بیس کو نشانہ بنایا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ پرنس سلطان ایئر بیس امریکی فوجی سرگرمیوں کا اہم مرکز ہے۔
انہوں نے کہا کہ پرنس سلطان ایئر بیس پر امریکی جاسوس طیاروں کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا۔
ختم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بحرین میں بھی امریکی ففتھ فلیٹ کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے۔
ایران کے میزائل حملوں کے بعد شمالی اسرائیل میں سائرن بج اٹھے۔اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ وہ کئی ہفتوں تک لڑائی جاری رکھیں گے۔ اسرائیل میں خدشہ ہے کہ امریکہ جنگ کو “قبل از وقت” روک سکتا ہے، اسی وجہ سے اسرائیلی حکام مسلسل پیغامات دے رہے ہیں کہ وہ ایران پر مزید کریک ڈاؤن جاری رکھیں گے۔
اسرائیلی فوج (اسرائیل ڈیفنس فورسز، آئی ڈی ایف) نے اپنی تازہ ترین اپ ڈیٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اسرائیل کی جانب میزائل داغے ہیں۔
آئی ڈی ایف کے مطابق فضائی دفاعی نظام ان حملوں کو روک رہا ہے۔
اس سے پہلے یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ اسرائیلی فوج نے ایران کے دارالحکومت تہران میں ’وسیع پیمانے پر‘ فضائی حملے کیے ہیں۔
تل ابیب پر رات کو ہونے والے ایرانی حملوں کی ایک اور لہر بھی روکی گئی، جس میں کلسٹر بم بھی شامل تھے۔

امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں میں تہران کے وسطی حصوں میں دھماکوں کی اطلاعات ہیں، دیگر کئی شہروں میں بھی حملے کئے گئے ہیں۔
بندر عباس میں ایک ریڈیو اسٹیشن کو نشانہ بنایا گیا جس میں ایک شخص جاں بحق ہوا۔ خرم آباد اور ارومیہ میں بھی دو رہائشی علاقے نشانہ بنے، جس کے نتیجے میں عام شہری جاں بحق ہوئے۔ اب تک 1,500 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔
اصفہان، کرج اور اہواز میں بھی شدید دھماکوں کی آوازیں سنائی گئیں۔ اہواز میں دھماکوں کے نتیجے میں ایک ہسپتال متاثر ہوا۔
ایران ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے مطابق، 80,000 سے زائد شہری یونٹس متاثر ہوئے ہیں، جن میں کچھ مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔ اس میں ہسپتال، اسکول، تعلیمی ادارے اور ریڈ کریسنٹ کی سہولیات بھی شامل ہیں۔

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں زبردستی معاہدے مسلط نہیں کیے جا سکتے۔
اپنے ایک بیان میں سرگئی لاروف نے ایران پر امریکی حملوں پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دنیا طاقت کے قانون کی طرف واپس جا رہی ہے،کمزور ممالک کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں زبردستی معاہدے مسلط نہیں کیے جا سکتے، امریکا صرف اپنے مفادات کو ترجیح دیتا ہے۔

ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے آبنائے ہرمز کی بندش کا ذمہ دار امریکا اور اسرائیل کو ٹھہرادیا۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نےایک بیان میں امریکا اور اسرائیل کو پیغام دیا کہ وہ آبنائے ہرمز کے معاملے پر دھمکیوں سے ہر گز خوفزدہ نہیں ہوں گے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹ اس جنگ کے باعث ہے جس کا آغاز امریکا اور اسرائیل نے کیا۔
انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بحری راستے میں رکاوٹ کی ذمہ داری ایران پر نہیں بلکہ ان ممالک پر عائد ہوتی ہے۔

ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں شدید مندی کا رجحان ہے کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی رہنماؤں کے درمیان حملوں اور جوابی کارروائیوں کے خطرات بڑھ گئے ہیں، جس سے طویل جنگ اور اسٹریٹ آف ہرمز کی بندش کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے، جہاں دنیا کے تیل کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔
ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس 3.3 فیصد کی کمی کے ساتھ 24,435.74 پر ہے، جبکہ شنگھائی کمپوزٹ 2.3 فیصد کم ہو کر 3,867.51 پر آ گیا ہے۔
سنگاپور کا سٹریٹس ٹائمز انڈیکس بھی 2.1 فیصد کی کمی کے ساتھ 4,884.710 پر ہے (0400 GMT، پیر کے مطابق)۔ فلپائن اسٹاک ایکسچینج 3.17 فیصد کم اور تھائی لینڈ اسٹاک ایکسچینج 2.15 فیصد کی کمی کے ساتھ بند ہوئی۔
ٹوکیو کا نکئی اوسط 3.4 سے 3.5 فیصد کمی کے ساتھ 51,582.23 پر بند ہوا۔

اسرائیلی فوج نے ایران کے دارالحکومت تہران میں ’وسیع پیمانے پر‘ فضائی حملے کیے ہیں۔
پاسداران انقلاب کے حامی خبر رساں ادارے فارس سمیت ایران کے سرکاری میڈیا نے شہر کے کئی مقامات پر دھماکوں کی اطلاعات دی ہیں۔
فارس کے مطابق ’دھماکوں کی خوفناک آوازوں کی اطلاعات ملی ہیں۔‘
اسرائیل ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) کا کہنا ہے کہ تہران میں ’دہشت گردوں کے انفراسٹرکچر‘ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
مقبوضہ بیت المقدس میں امریکی سفارت خانہ سوموار کے روز سے اردن کے دارالحکومت عمان کے لیے بسیں چلا رہا ہے۔
امریکی سفارت خانے کا کہنا ہے کہ اسرائیل چھوڑنے کے خواہش مند امریکی شہری اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ بسیں اردن کے بین الاقوامی ہوائی اڈے تک چلائی جائیں گی۔
سفارت خانے کے مطابق’اس وقت بسیں بیت المقدس اور تل ابیب سے روانہ ہوں گی۔ عمان کے ہوائی اڈے سے آگے سفر کے لیے نشستوں کی بکنگ مسافروں کی ذمہ داری ہو گی۔‘
مغربی تہران کے قریب واقع شہر خرم آباد پر امریکی و اسرائیلی حملے ایک بچہ جاں بحق ہوا ہے۔ فضائی حملے میں عمارت بھی مکمل تباہ ہوگئی۔
حملے کے بعد امدادی کارکن اور مقامی افراد ملبے میں زندہ بچ جانے والوں کی تلاش میں مصروف ہیں۔ ایک خاتون نے بتایا کہ حملے کا نشانہ بننے والے گھروں میں سے ایک میں ایک معمر خاتون رہائش پذیر تھیں۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے فرانسیسی صدر کا ٹیلیفونک رابطہ ہوا، دونوں رہنماؤں نے خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
فرانسیسی صدر نے سعودی عرب کی خود مختاری، سلامتی کیلئے سعودی اقدامات کی حمایت کا اعادہ کیا۔

نیٹو کے سیکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل کے اس دعوے کی ’جانچ پڑتال‘ کر رہے ہیں کہ ایران کے پاس ایسے میزائل موجود ہیں جو یورپی دارالحکومتوں تک پہنچ سکتے ہیں۔
سنیچر کے روز اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ اب تہران کے پاس ایسے میزائل ہیں جو ’لندن، پیرس یا برلن‘ تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک رٹّے نے امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس کے پروگرام فیس دی نیشن کو بتایا کہ نیٹو ’اس وقت اس دعوے کی تصدیق نہیں کر سکتا۔‘ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگر یہ دعویٰ درست ہوا تو ’یہ اس بات کا مزید ثبوت ہو گا کہ صدر جو کچھ کر رہے ہیں وہ انتہائی اہم ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’جو بات ہم یقینی طور پر جانتے ہیں وہ یہ ہے کہ ایران اس صلاحیت کو حاصل کرنے کے بہت قریب پہنچ گیا ہے‘ لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ’آیا برطانوی فوجی اڈے ڈیاگو گارسیا کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوا، اس کا ہم جائزہ لے رہے ہیں۔‘
ایران کے مختلف شہروں میں لوگوں نے مسلسل بمباری کی دھمکیوں کے درمیان امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جنگ کی مذمت کے لیے سڑکوں پر نکل کر مظاہرے کیے۔
اتوار کی رات جنوب مشرقی شہر کرمان میں بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے، جہاں انہوں نے جھنڈے اٹھا رکھے تھے اور ملک کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی تصاویر بھی اپنے ساتھ اٹھا رکھی تھیں، فارس نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا۔
تہران کے مغرب میں واقع شہر خرمآباد کے رہائشی فضائی حملے کے بعد تباہ شدہ عمارت کے ملبے میں تلاش کر رہے ہیں۔
ویڈیوز میں دیکھا گیا ہے کہ علاقے میں بجلی بند ہونے کے باعث لوگ ٹارچوں کی مدد سے کام کر رہے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملے کے نتیجے میں بلیک آؤٹ ہو گیا ہے۔
تہران کے وسطی، جنوبی اور مشرقی علاقوں میں طاقتور دھماکوں کا سلسلہ دیکھا گیا ہے۔
الجزیرہ عربی کے مطابق رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ایرانی دارالحکومت بھر میں فضائی دفاعی نظام بھی فعال کر دیا گیا ہے۔
عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 113 ڈالر فی بیرل سے بڑھ گئی جبکہ امریکی خام تیل کی فی بیرل قیمت بھئ 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔

برطانوی وزیرِاعظم کیئر سٹارمر اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان آبنائے ہرمز کو کھلوانے کے حوالے سے بات چیت ہوئی ہے۔
ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ کے ترجمان کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان آج ٹیلیفونک گفتگو میں مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال، خصوصاً عالمی بحری تجارت کی بحالی کے لیے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی ضرورت پر بات کی گئی۔
ترجمان نے کہا کہ دونوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ آبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا عالمی توانائی منڈی میں استحکام کے لیے ضروری ہے۔’