ایران کیخلاف امریکہ اور اسرائیل جنگ 18 سے 27 مارچ تک
ایران کیخلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ پر اپ ڈیٹس
تہران: ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز ’ایرانی سرزمین پر جارحیت ہماری سرزمین کی خلاف ورزی‘ کرنے والوں کے علاوہ تمام بحری جہازوں کے لیے کھلا ہے۔
ایرانی صدر نے یہ بات سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ میں کہی ہے۔

پیزشکیان نے مزید کہا کہ ’امریکہ کی جانب سے ایران کو نقشے سے مٹانے کا فریب ’مایوسی‘ کی علامت ہیں۔
ان کے مطابق ’ایران کو نقشے سے مٹانے کا وہم ایک تاریخ ساز قوم کی مرضی کے مقابلے میں مایوسی کو ظاہر کرتا ہے۔ دھمکیاں اور دہشت گردی ہماری یکجہتی کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔‘
صدر نے اپنے بیانات کے مطابق، ایران کی کسی بھی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم جنگ کے میدان میں بے بنیاد دھمکیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔‘
تل ابیب: اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران میں ایک فوجی اڈے سمیت ہتھیاروں کی تیاری و ذخیرہ کرنے والے مقام کو نشانہ بنایا ہے۔
ٹیلیگرام پر جاری ایک پیغام میں اسرائیل ڈیفنس فورسز نے کہا کہ رات گئے کیے گئے حملوں میں اُن مقامات کو نشانہ بنایا گیا جو ایرانی حکومت کے ماتحت سکیورٹی اداروں کی جانب سے ہتھیاروں کی تیاری اور ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال ہوتے تھے۔
دوسری جانب ایران کے دارالحکومت تہران میں نئے حملوں کی رپورٹس موصول ہو رہی ہیں جس کے بعد ایرانی میڈیا کے مطابق مشرقی تہران میں فضائی دفاعی نظام فعال کر دیا گیا ہے۔
ریاض: سعودی عرب کا کہنا ہے کہ اس نے ملک کے مشرقی حصے میں متعدد ڈرون مار گرائے ہیں۔
بیان کے مطابق صبح سے اب تک مجموعی طور پر نو ڈرونز گرائے جانے کی اطلاع دی گئی ہے۔
سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق ایران کی جانب سے سعودی عرب پر ڈرون حملے جاری ہیں۔ وزارت نے دن بھر میں سوشل میڈیا پر کئی بیانات جاری کیے جن میں بتایا گیا کہ ڈرونز کو مشرقی خطے کے اوپر روک کر تباہ کیا گیا۔
واشنگٹن: امریکا کے سابق وزیر دفاع لیون پینیٹا نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ بہت بھولا کہتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایران جنگ میں پھنس چکے ہیں۔
واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو میں لیون پینیٹا نے کہا کہ موجودہ امریکی صدر آگے چٹان اور پیچھے کھائی والی صورتحال میں پھنس چکے ہیں، ٹرمپ عملی امور کے بارے میں بہت بھولے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ نیشنل سیکیورٹی حکام کو ایران کی ہرمز بند کرنے کی صلاحیت کا خوب علم تھا، آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق ٹرمپ کی تکرار بچوں والی ہے نہ کہ صدر والی۔
سابق وزیر دفاع نے یہ بھی کہا کہ آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کے قتل کا نتیجہ ٹھیک نہیں رہا، ایران میں مزید ضدی نظام آگیا، ٹرمپ کی بےکیف حرکات کمزوری کا پیغام دے رہی ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ ہیگسیتھ وزیر دفاع نہیں، ٹرمپ کا سہولت کار ہے، صدر جادوئی باتیں چھوڑیں، اب فوجی قوت سے ہرمز کھولنے کے سوا کوئی آپشن نہیں۔ یہ جانی و مالی لحاظ سے بہت مہنگا آپشن ہے، ورنہ ٹرمپ کی ناکامی یقینی ہے۔
تہران: ایرانی صدر مسعود پرشکیان کا کہنا ہے کہ بے قابو بیانات اور لاپرواہ دھمکیوں کا فیصلہ کن جواب دیں گے۔
ایک پیغام میں ایرانی صدر مسعود پرشکیان نے کہا کہ ایران کو نقشے سے مٹانے کی دھمکی امریکا کی مایوسی ظاہر کرتی ہے، دشمن کی دھمکیاں ہمیں مزید مضبوط اور متحد بناتی ہیں۔
صدر مسعود پرشکیان نے کہا کہ ایران پر حملہ کرنیوالوں کیلئے آبنائے ہرمز بند ہے، آبنائے ہرمز ہمارے دوست ممالک کیلئے کھلا ہے، ہم میدان میں بے قابو بیانات اور لاپرواہ دھمکیوں کا فیصلہ کن جواب دیں گے۔
ایرانی خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈ کوارٹر زکے کمانڈر میجر جنرل سید علی عبداللہی نے کہا ہے کہ نئے اور جدید ہتھیاروں کے ذریعے دشمن کے اندازوں کو الٹ دیں گے۔
تہران سے جاری بیان میں سید علی عبداللہی نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج نئے تیار کردہ جدید ہتھیاروں کے ذریعے دشمن کے اندازوں کو الٹ دیں گی۔ ایران کا فوجی نظریہ دفاعی سے بدل کر جارحانہ ہو چکا ہے، حکمت عملی بھی اسی کے مطابق ڈھال لی گئی ہے۔
خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹرزکے کمانڈر نے مزید کہا کہ نوجوان سائنسدانوں کے تیار کردہ جدید ترین ہتھیار پہلے ہی میدانِ جنگ میں استعمال ہو رہے ہیں، مزید حیران کن اقدامات بھی سامنے آئیں گے۔
ایرانی کمانڈر نے یہ بھی کہا کہ قومی اتحاد اور عوامی حمایت ایران کی طاقت اور مستقبل کی کامیابیوں کے بنیادی عوامل ہیں۔
جنیوا:سوئٹزرلینڈ نے ایران جنگ کے دوران اپنی غیر جانبداری برقرار رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے امریکا سمیت جنگ میں شامل ممالک کو اسلحے کی برآمدات معطل کر دی ہیں۔
سوئس حکومت کے مطابق یہ فیصلہ عالمی قوانین اور غیر جانبداری کی پالیسی کے تحت کیا گیا ہے تاکہ جاری تنازع میں کسی فریق کی حمایت سے گریز کیا جا سکے۔
دوسری جانب سری لنکا نے بھی امریکی جنگی طیاروں کو اپنے اڈے استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ سری لنکن صدر نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ امریکا نے دو جنگی طیاروں کی تعیناتی کے لیے درخواست کی تھی جسے مسترد کر دیا گیا۔
ادھر چین نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے حل کے لیے مذاکرات پر زور دیا ہے۔ چینی وزیر خارجہ نے فرانس کے ساتھ مل کر سفارتی کوششیں تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
اسی سلسلے میں ترکیہ کے وزیر خارجہ نے ترکی صدر کا پیغام اماراتی امیر تک پہنچاتے ہوئے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتکاری کو ترجیح دینے کی اپیل کی ہے۔
انقرہ: ترکیہ نے ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ ترک وزیرِ خارجہ ہاقان فیدان نے عالمی طاقتوں اور علاقائی ممالک کے ساتھ اہم رابطے کیے ہیں۔
ترک سفارتی ذرائع نے غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کو بتایا ہے کہ وزیرِ خارجہ ہاقان فیدان نے ایران، مصر، امریکہ اور یورپی یونین کے اعلیٰ حکام کے ساتھ الگ الگ ٹیلیفونک گفتگو کی ہے۔ ان مذاکرات کا بنیادی ایجنڈا جنگ بندی کے لیے ٹھوس اقدامات اور خطے میں پائیدار امن کا قیام تھا۔
ترک ذرائع کے مطابق ہاقان فیدان نے ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ جنگ کے خاتمے پر بات چیت کی۔مصری ہم منصب بدر عبدالعاطی سے علاقائی سلامتی پر تبادلہ خیال کیا۔
یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کالس سے بھی رابطہ کیا گیا۔امریکی حکام کے ساتھ صورتحال کو مزید بگڑنے سے بچانے کے لیے اقدامات پر غور کیا۔
ترک سفارتی ذرائع نے ان رابطوں کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں، تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ ترکیہ اس وقت ایک اہم ثالث کے طور پر ابھر رہا ہے جو عالمی اور علاقائی قوتوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ مشرقِ وسطیٰ کو ایک بڑی تباہی سے بچایا جا سکے۔

اسرائیل کے شہروں عراد اور دیمونا میں ایرانی میزائل حملوں کے بعد تباہی کے مناظر سامنے اگئے ہیں دونوں شہروں میں کئی عمارتیں تباہ ہو گئی ہیں۔ دھماکوں کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ عمارتیں ڈھانچوں میں تبدیل ہوگئیں۔
ماسکو: روس کے وزیرِ خارجہ سرگئی لاروف نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں زبردستی معاہدے مسلط نہیں کیے جا سکتے۔
سرگئی لاروف نے اپنے بیان میں کہا کہ روس کے پاس مضبوط فوجی اور جدید دفاعی صلاحیت موجود ہے، جبکہ دنیا ایک بار پھر طاقت کے قانون کی طرف واپس جا رہی ہے۔
سرگئی لاروف نے امریکہ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ صرف اپنے مفادات کو ترجیح دیتا ہے اور تیل کے لیے وینزویلا اور ایران میں دلچسپی رکھتا ہے۔یورپ کو سستی توانائی سے محروم کیا جا رہا ہے، جبکہ ہنگری اور سلوواکیہ سستی توانائی کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔
یوکرین معاملے پر امریکہ مزید رعایتیں چاہتا ہے، جبکہ یورپ نوآبادیاتی طرز کی پالیسی جاری رکھے ہوئے ہے، جس کا نقصان بالآخر کمزور ممالک کو اٹھانا پڑتا ہے۔
تل ابیب: اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو ایران کے جوابی حملوں سے پریشان ہو گئے ۔
تفصیلات کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو جنوبی اسرائیلی شہر دیمونا اور عراد میں ایران کے جوابی حملوں سے پریشان ہوگئے۔سوشل میڈیا پر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے جاری بیان میں کہا ’’یہ اسرائیل کے لیے ایک انتہائی مشکل شام ہے۔ انتہائی مشکل شام کے باوجود دشمنوں پر حملےجاری رکھیں گے، یہ ہمارے مستقبل کی جنگ ہے۔‘‘
دیمونا اور عراد پر ایران کے ہولناک حملوں کے بعد اسرائیل نے پورے ملک میں تعلیمی اداروں میں چھٹی دے دی۔اسرائیلی وزارت تعلیم نے اعلان کیا کہ 2روز کوئی شخص جسمانی طور پر کسی تعلیمی ادارے میں نہ جائے۔
واضح رہے کہ ایرانی میزائل حملوں نے جنوبی اسرائیلی شہر دیمونا اور عراد میں بڑی تباہی مچا دی ، کئی عمارتیں تباہ، 6 افراد ہلاک، 150 سے زائد زخمی ہوگئے۔
تہران: ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل نے ایران میں پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا تو تہران خلیجی خطے میں اہم انفرسٹرکچر کو ’ناقابلِ تلافی نقصان‘ پہنچائے گا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں انھوں نے لکھا کہ ایرانی پاور پلانٹس پر حملوں کی صورت میں خطے میں موجود تیل اور توانائی کی تنصیبات کو ’جائز اہداف‘ تصور کیا جائے گا۔
انھوں نے خبردار کیا کہ ایسی صوت میں ’طویل مدت کے لیے‘ تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو جائے گا۔
خیال رہے اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر ایران نے 48 گھنٹوں کے اندر آبنائے ہرمز کو نہ کھولا تو امریکہ ایران کے مختلف پاور پلانٹس کو تباہ کر دے گا اور اس کا آغاز سب سے بڑے پاور پلانٹ پر حملے سے کیا جائے گا۔
دوحہ: قطر کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ ملک میں ایک ہیلی کاپٹر کے گِر کر تباہ ہونے سے چھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
اس سے قبل قطر نے کہا تھا کہ اس کا ایک ہیلی کاپٹر ’تکنیکی خرابی‘ کے باعث قطر کی سمندری حدود میں گر کر تباہ ہو گیا ہے۔
وزارتِ دفاع کا اب اپنے تازہ بیان میں کہنا ہے کہ ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہونے والے افراد میں دو ترک شہری اور ایک ترک فوجی اہلکار شامل ہے۔
ایران نے بحرِ ہند میں واقع برطانیہ اور امریکا کے مشترکہ فوجی اڈے ڈیاگو گارشیا پر میزائل حملے میں ملوث ہونے کی تردید کر دی ہے، جبکہ اسرائیلی فوجی قیادت نے اس کے برعکس دعویٰ کیا ہے کہ حملہ ایرانی بین البراعظمی میزائل سے کیا گیا۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے ایک ایرانی سینئر اہلکار نے کہا کہ تہران اس حملے کے پیچھے نہیں ہے اور اس کا اس کارروائی سے کوئی تعلق نہیں۔
یہ اڈہ اس وقت امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف جاری جنگ میں “دفاعی آپریشنز” کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال ضمیر نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک روز قبل ہونے والے حملے میں ایران نے دو مرحلوں پر مشتمل بین البراعظمی بیلسٹک میزائل استعمال کیا، جس کی رینج تقریباً 4 ہزار کلومیٹر (2,500 میل) بتائی جا رہی ہے۔
ایک روز قبل سامنے آنے والی ان خبروں نے یورپ میں بھی تشویش پیدا کر دی تھی۔ خاص طور پر پیرس اور لندن میں اس خدشے کے باعث خوف و ہراس دیکھا گیا کہ اگر ایران کے پاس اس نوعیت کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل موجود ہیں تو یہ یورپی دارالحکومت بھی ان کی زد میں آ سکتے ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یورپی ممالک کو ایران کے خلاف جاری تنازع میں عملی طور پر شامل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس سے خطے کے ساتھ ساتھ یورپ میں بھی سیکیورٹی خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر تہران نے 48 گھنٹوں کے اندر آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر اور بغیر کسی دھمکی کے بحری جہازوں کے لیے نہ کھولا تو امریکہ ایرانی بجلی گھروں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں ٹرمپ کے حوالے سے کہا گیا کہ اگر ایران نے مقررہ وقت میں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بحال نہ کی تو امریکہ “ایران کے مختلف پاور پلانٹس کو نشانہ بنا کر تباہ کر دے گا، اور اس کی شروعات سب سے بڑے پلانٹ سے کی جائے گی۔”
امریکی صدر کی یہ دھمکی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب خلیج فارس میں کشیدگی بڑھ چکی ہے اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت محدود ہونے کے باعث عالمی تیل کی رسد شدید متاثر ہو رہی ہے۔
🚨 “If Iran doesn’t FULLY OPEN, WITHOUT THREAT, the Strait of Hormuz, within 48 HOURS from this exact point in time, the United States of America will hit and obliterate their various POWER PLANTS, STARTING WITH THE BIGGEST ONE FIRST…” – President DONALD J. TRUMP pic.twitter.com/htLz1A0Mf7
— The White House (@WhiteHouse) March 22, 2026