ایران کیخلاف امریکہ اور اسرائیل جنگ 18 سے 27 مارچ تک
ایران کیخلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ پر اپ ڈیٹس
ایران،پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک کے وسطی علاقے میں ایک اسرائیلی ایف 16 جنگی طیارے کو جدید فضائی دفاعی نظام کے ذریعے تباہ کر دیا گیا۔ ایرانی حکام کے مطابق جنگ کے ابتدائی تین ہفتوں میں 200 سے زائد فضائی اہداف نشانہ بنائے جا چکے ہیں، جس میں ڈرونز، کروز میزائل، ایندھن فراہم کرنے والے طیارے اور جدید جنگی جہاز شامل ہیں۔ پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں ایران کی فضائی نگرانی اور دفاعی صلاحیت میں اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ نے ہفتے کے روز22ممالک کا ایک اہم مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس میں ایران کی جانب سے خلیج میں تجارتی بحری جہازوں پر حملوں، سول انفراسٹرکچر بشمول آئل اور گیس تنصیبات پر حملوں اور آبنائے هرمز کے عملاً بند کر دیے جانے کی شدید مذمت کی گئی ہے۔
بیان پر متحدہ عرب امارات، برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، نیدرلینڈز، جاپان، کینیڈا، جنوبی کوریا، نیوزی لینڈ، ڈنمارک، لٹویا، سلووینیا، اسٹونیا، ناروے، سوئیڈن، فن لینڈ، چیکیا، رومانیہ، بحرین، لتھوانیا اور آسٹریلیا کے رہنماؤں نے دستخط کیے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے”ہم ایران کی جانب سے غیر مسلھ تجارتی جہازوں پر حملوں، سول انفراسٹرکچر بشمول آئل اور گیس تنصیبات پر حملوں اور آبنائے هرمز کے عملاً بند کر دیے جانے کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ ہم بڑھتے ہوئے تنازع پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہیں اور ایران پر زور دیتے ہیں کہ وہ فوری طور پر اپنے دھمکی آمیز اقدامات، بارودی سرنگیں بچھانے، ڈرون اور میزائل حملوں سمیت مضيقِ هرمز کو تجاری شپنگ کے لیے بند کرنے کی تمام کوششیں روک دے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2817 کی پابندی کرے۔”
بیان میں مزید کہا گیا کہ “سمندری آزادیِ نقل و حرکت بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس میں اقوام متحدہ کی سمندری قانون کی کنونشن بھی شامل ہے۔ ایران کی کارروائیوں کے اثرات پوری دنیا کے لوگوں پر پڑیں گے، خاص طور پر سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں پر۔”
اس اقدام کو بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے بیان میں فوری طور پر سول انفراسٹرکچر بشمول آئل اور گیس تنصیبات پر تمام حملوں کے لیے جامع موراٹوریئم (موقت پابندی) کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
بیان میں آبنائے هرمز سے محفوظ گزر کی یقین دہانی کے لیے مناسب اقدامات میں حصہ لینے کی تیاری کا اظہار کیا گیا ہے اور ان ممالک کا خیر مقدم کیا گیا ہے جو اس سلسلے میں منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔اس کے علاوہ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (IEA) کے اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزروز کی ہم آہنگ ریلیز کے فیصلے کا خیر مقدم کیا گیا ہے اور توانائی کی منڈیوں کو مستحکم کرنے کے لیے مزید اقدامات، بشمول پیداواری ممالک کے ساتھ مل کر آؤٹ پٹ بڑھانے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔
متاثرہ ممالک کو اقوام متحدہ اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں (IFIs) کے ذریعے معاونت فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا گیا۔
بیان کے اختتام پر کہا گیا: “سمندری سلامتی اور آزادیِ نقل و حرکت تمام ممالک کے فائدے میں ہے۔ ہم تمام ریاستوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بین الاقوامی قانون کا احترام کریں اور بین الاقوامی خوشحالی و سلامتی کے بنیادی اصولوں کو برقرار رکھیں۔”
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران گزشتہ چند گھنٹوں میں ایران اور اسرائیل کے درمیان حملوں اور سفارتی بیانات کی ایک نئی لہر سامنے آئی ہے، جس سے خطے میں مزید بے چینی پیدا ہو گئی ہے۔
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے رات کے وقت ایران میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کا ایک کمپاؤنڈ اور میزائلوں کی تیاری اور ذخیرہ کرنے کی کئی تنصیبات شامل ہیں۔
ادھر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملے میں ایران کی نطنز جوہری افزودگی تنصیب کو نشانہ بنایا گیا۔ تہران نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کو اطلاع دی ہے کہ ہفتے کے روز نطنز سائٹ پر حملہ ہوا، تاہم کسی قسم کے تابکار اخراج کی تصدیق نہیں ہوئی۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایرانی فضائی حدود میں داخل ہونے والے ایک اسرائیلی لڑاکا طیارے کو مار گرایا ہے۔ ایران کے مطابق جنگ کے دوران یہ تیسرا واقعہ ہے جس میں اسرائیلی طیارہ تباہ کیا گیا۔
دوسری جانب لبنان سے اسرائیل کی جانب کیے گئے ایک راکٹ حملے کے بعد شمالی اسرائیل میں راکٹ کے ملبے سے دو عمارتوں کو نقصان پہنچا، تاہم فوری طور پر جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔
خلیجی پانیوں میں کشیدگی کے تناظر میں متحدہ عرب امارات، بحرین، برطانیہ، فرانس اور جرمنی سمیت کئی ممالک نے مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے ایران کی جانب سے تجارتی جہازوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی مذمت کی ہے۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ تہران خلیجی پڑوسی ممالک اور دیگر مسلم ریاستوں کے ساتھ تصادم نہیں چاہتا اور انہیں “بھائی” قرار دیا ہے، تاہم انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ایران اپنی خودمختاری کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
ماہرین کے مطابق حالیہ حملوں اور جوابی دعوؤں نے خطے میں براہِ راست جنگ کے خطرات کو مزید بڑھا دیا ہے، جبکہ عالمی طاقتیں صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر رہی ہیں۔

ایران کی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق آج صبح امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملے میں نطنز کی جوہری افزودگی کی تنصیب کو نشانہ بنایا گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ “اس کمپلیکس میں تابکار مواد کے اخراج کی کوئی اطلاع نہیں ملی اور نہ ہی اس مقام کے اطراف کے رہائشیوں کو کسی خطرے کا سامنا ہے۔”
عراقی دارالحکومت بغداد کے علاقے المنصور میں ایک ڈرون حملہ ہوا، جس میں اطلاعات کے مطابق ایک ڈرون نے عراقی انٹیلی جنس کی عمارت کو نشانہ بنایا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق نشانہ بننے والی عمارت میں ایک عراقی سیکورٹی ایجنسی قائم ہے جو عراق میں امریکی مشیروں کے ساتھ کام کرتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ایک اور ڈرون جو اس کارروائی کی ویڈیو بنا رہا تھا، گر کر ایک نجی اسپورٹس کلب میں جا گرا، جو عراقی اشرافیہ اور غیر ملکی سفارتکاروں میں مقبول ہے۔
اسرائیل نے لبنان میں حالیہ آپریشن میں چار حزب اللہ کے جنگجو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے
اسرائیلی فوج کے مطابق اسرائیلی فورسز پر فائرنگ کی گئی، لیکن کوئی زخمی نہیں ہوا۔
فوج نے مزید کہا کہ اس کی فضائیہ نے بیروت میں “چند حزب اللہ کے ہیڈکوارٹرز” پر بھی حملے کیے۔

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایرانی رہنماؤں کو نوروز کی مبارکباددیتے ہوئے کہا کہ کا کہنا ہے کہ روس ایران کے ساتھ ہے، ماسکو تہران کا وفادار دوست اور قابل اعتماد ساتھی ہے۔
تہران کے مشرقی حصے میں کم از کم تین دھماکوں کی آوازیں سننے کی نئی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
رات بھر اور ہفتے کی صبح تک شہر کے مختلف علاقوں میں دھماکے ہوئے، جن میں ایکباتان ضلع اور اولمپک ولیج شامل ہیں۔
اس سے قبل، اسرائیل نے اعلان کیا تھا کہ اس نے نوروز اور عید الفطر کے پہلے دن تہران میں کئی حملے کیے۔
حملوں سے کسی جانی نقصان کی فوری اطلاع نہیں ملی۔

امریکی اور اسرائیلی حملے میں شہید ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے ترجمان اور شعبہ تعلقات عامہ کے نائب بریگیڈیئر جنرل علی محمد نعینی کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔ نمازجنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔
نعینی کی تدفین ایرانی دارالحکومت تہران میں کی گئی، جبکہ ملک میں عید الفطر اور فارسی نئے سال نوروز کے تقاریب بھی جاری تھیں۔
68 سالہ فوجی اہلکار امریکی اور اسرائیلی مشترکہ فضائی حملوں میں ہلاک ہوئے۔
عراق میں امریکی وکٹری بیس پر ڈرون حملے کیے گئے ہیں۔جس کے بعد دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ایک ڈرون نے گیٹ کے پچھلے حصے کو نشانہ بنایا، جس سے آگ لگ گئی۔
ایسا لگتا ہے کہ ایک ڈرون بیس کے اندر گرا، ایک اور ڈرون نے راکٹ پروپلڈ گرینیڈ داغا، اور یہ بظاہر ایک نمایاں تصادم کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔
برطانیہ نے امریکہ کو ایران پر حملوں کے لیے اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دے دی۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق برطانیہ نے امریکا کو اجازت دے دی ہے کہ وہ ایرانی اہداف پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال کر سکے، خاص طور پر وہ اہداف جو آبنائے ہرمز کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
جنوبی کوریا نے اعلان کیا ہے کہ وہ بھی آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کی بین الاقوامی کوششوں میں حصہ لینے کے لیے تیار ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق جنوبی کوریا بھی ان ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے جنھوں نے جمعرات کے روز جاری ہونے والے اس اعلامیے پر دستخط کیے تھے جس میں مختلف ممالک نے آبنائے کو محفوظ بنانے کے لیے ضروری اقدامات میں حصہ لینے کے لیے اپنی رضامندی ظاہر کی تھی۔
اس اعلامیے پر سب سے پہلے برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، نیدرلینڈز اور جاپان کے رہنماؤں کے دستخط کیے تھے۔ بعد ازاں کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، ڈنمارک، لیٹویا، سلووینیا، ایسٹونیا، ناروے، سویڈن، فن لینڈ، چیک ریپبلک، رومانیہ، بحرین اور لتھوانیا بھی اس میں شامل ہو گئے۔
اسرائیل کی فوج نےایران پر ایک اور میزائل حملے کی وارننگ جاری کی ہے، جو کہ ہفتہ کی صبح سے اب تک چوتھا حملہ ہے۔ عوام سے کہا گیا ہے کہ وہ پناہ گاہوں میں منتقل ہو جائیں اور اس وقت تک وہاں رہیں جب تک خطرہ ختم نہ ہو جائے۔
فوج کا کہنا ہے کہ فضائی دفاعی نظام میزائلوں کو روکنے کے لیے کام کر رہا ہے جو ابھی کچھ دیر پہلے ایران سے فائر کیے گئے تھے۔
الجزیرہ عربی کے مطابق، شمالی ایران میں گولہ باری کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صوبہ گیلان کے گورنر کے مطابق، یہ واقعہ شمالی ایران کے علاقے کیاشہر کے گاؤں دستک میں ایک رہائشی علاقے پر گولہ باری کے دوران پیش آیا۔
امریکی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے جوہری مواد کو محفوظ بنانے یا اسے قبضے لینے کے مختلف طریقوں پر کام کر رہی ہے۔
ذرائع نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ اس کام کے لیے جوائنٹ سپیشل آپریشنز کمانڈ کو استعمال کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ یہ ایک ایلیٹ ملٹری یونٹ ہے جسے اکثر انتہائی حساس آپریشنز کا کام سونپا جاتا ہے۔
ایک اور ذریعے نے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی تک ایسی کسی کارروائی کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے سی بی ایس کو بتایا کہ تیاریاں کرنا پینٹاگون کا کام ہے۔
خیال رہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے حملوں کے آغاز کے بعد سے بارہا ایران کے جوہری پروگرام سے منسلک اہم مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایران کا اصرار ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے ہے۔
ایران نے امریکی و برطانوی مشترکہ فوجی اڈے پر میزائل حملہ کر دیا۔
امریکی اخبار کے مطابق ڈیگو گارشیا بیس کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، ایران نے 2 درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائل فائر کیے۔
امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ کوئی میزائل ہدف کو نشانہ نہ بناسکا۔ ایک میزائل دوران پرواز گرا جبکہ امریکی بحری جہاز نے دوسرے میزائل کو روکا۔
امریکی اخبار کے مطابق بحر ہند میں واقع فوجی اڈہ محفوظ رہا۔
تہران میں فضائی حملے کے بعد ایرانی ریڈ کریسنٹ کا امدادی آپریشن شروع
ایرانی دارالحکومت تہران میں تازہ فضائی حملے کے بعد ایرانی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی نے تلاش اور امدادی کارروائیاں شروع کر دی ہیں،
ایران کے سرکاری ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حالیہ حملے میں ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا گیا۔ فوری طور پر جانی نقصان یا تباہی کی نوعیت کے بارے میں کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
اس سے قبل تہران کے مختلف علاقوں میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جن میں ایکباتان کا علاقہ بھی شامل ہے جو معروف آزادی ٹاور کے قریب واقع ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ اس وقت سمندر میں موجود ایرانی تیل پر سے پابندیاں عارضی طور پر ہٹا رہا ہے، جس سے تیل کی قیمتوں کو کم رکھنے کے لیے اسے بیشتر ممالک کو فروخت کیا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ مرحلہ وار ختم کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کو ایکس پر پوسٹ کیے گئے بیان میں کہا کہ ’مختصر مدت کی اجازت‘ سے تقریباً 14 کروڑ بیرل تیل عالمی منڈیوں کے لیے دستیاب ہو سکے گا۔
اُنھوں نے کہا کہ ایران کو فروخت سے حاصل ہونے والے کسی بھی مالی منافع تک رسائی حاصل کرنے میں دُشواری ہو گی۔
بیسنٹ نے کہا کہ اجازت ’سختی سے تیل تک محدود ہے جو پہلے سے ہی ٹرانزٹ میں ہے اور نئی خریداری یا پیداوار کی اجازت نہیں دیتا ہے۔‘
اُنھوں نے مزید کہا کہ ’اصل میں ہم قیمت کم رکھنے کے لیے تہران کے خلاف ایرانی تیل ہی استعمال کریں گے۔‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر بیان جاری کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ’ہم اپنے مقاصد کے حصول کے بہت قریب ہیں کیونکہ ہم مشرقِ وسطیٰ میں ایران کی دہشت گرد حکومت کے حوالے سے جاری بڑی عسکری کارروائیوں کے خاتمے پر غور کر رہے ہیں۔‘
آبنائے ہرمز کا ذکر کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اسے ’ان دیگر ممالک کی جانب سے محفوظ اور نگرانی میں رکھا جانا ہوگا جو اسے استعمال کرتے ہیں۔ امریکہ اسے استعمال نہیں کرتا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’اگر ہم سے کہا گیا تو ہم ان ممالک کی آبنائے ہرمز سے متعلق کوششوں میں مدد کریں گے۔ لیکن ایران کا خطرہ ختم ہونے کے بعد یہ ضروری نہیں ہونا چاہیے۔‘

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے جاپان کے نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران جاپان اور اس سے متعلقہ جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دینے کے لیے تیار ہے۔
کیوڈو نیوز کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے جاپانی حکام کے ساتھ بات چیت پہلے ہی شروع ہو چکی ہے، جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں موجود رکاوٹوں میں عارضی نرمی لانا ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ کے اس بیان کے پس منظر میں جاپانی حکومت کے ایک اہلکار نے کیوڈو نیوز کو بتایا کہ ’ایران کے ساتھ براہِ راست مذاکرات ہی (آبنائے ہرمز کا) محاصرہ ختم کرنے کا سب سے مؤثر طریقہ ہے۔‘
لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں میں دو اسرائیلی فضائی حملے کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق دونوں حملے تقریباً دو منٹ کے وقفے سے کیے گئے۔ یہ علاقہ ایک بڑا شہری خطہ ہے جہاں متعدد محلوں میں لاکھوں افراد آباد تھے۔
برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) کا کہنا ہے کہ خلیج عرب، آبنائے ہرمز اور خلیج عمان میں سمندری خطرے کی سطح بدستور بہت زیادہ ہے۔
اگرچہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سمندر کسی قسم کے واقعے کی اطلاع نہیں ملی ہے، تاہم یکم مارچ سے تجارتی جہازوں اور سمندر کے کنارے موجود تنصیبات پر 21 حملوں کی تصدیق ہوئی ہے۔
یو کے ایم ٹی او کا کہنا ہے کہ ان واقعات میں صرف مغربی ملکوں کی ملکیت والے جہازوں ہی نشانہ نہیں بنے ہیں۔ ادارے کے مطابق ان حملوں سے وسیع پیمانے پر سمندری تجارت میں خلل ڈالنے کی مہم کی عکاسی ہوتی ہے
سعودی عرب کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ اس نے گزشتہ دو گھنٹوں کے دوران مشرقی علاقے میں آٹھ ڈرونز کو فضا میں ہی نشانہ بنا کر تباہ کر دیا ہے۔
وزارتِ دفاع کی جانب سے ڈرونز کی اصل یا ان کے ذریعے ہونے والے کسی جانی یا مالی نقصان کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
ایران کا کہنا ہے کہ وہ خلیجی ممالک میں امریکی فوجیوں کی موجودگی کے باعث اپنے ہمسایہ ممالک پر مسلسل میزائل اور ڈرون حملے کر رہا ہے۔