آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کا ایرانی جزیرہ خارک پر قبضے پر غور
زمینی حملہ بھی کیا جا سکتا ہے، ایران کا 90 فیصد تیل اسی جزیرے سے فروخت ہوتا ہے
جزیرہ خارگ پر اس ایرانی ٹرمینل پر حملہ کرنے کی امریکہ کو بھی ہمت نہیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے اس کے اہم تیل برآمدی مرکز جزیرہ خارک پر قبضہ یا ناکہ بندی جیسے عسکری اقدامات پر غور کر رہا ہے، اس بات کا انکشاف امریکی نشریاتی ادارے ایکسیوز Axios نے جمعہ کو کیا۔
رپورٹس کے مطابق امریکی انتظامیہ کا بنیادی مقصد ایران کو آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے دوبارہ کھولنے پر مجبور کرنا ہے، جسے حالیہ کشیدگی کے دوران مؤثر طور پر بند کر دیا گیا ہے اور اس کے باعث عالمی بحری تجارت شدید متاثر ہوئی ہے۔
جزیرہ خارک خلیج فارس میں ایران کی سب سے اہم تیل برآمدی تنصیب ہے۔ ماہرین کے مطابق ایران کی خام تیل کی تقریباً 90 سے 95 فیصد برآمدات اسی جزیرے کے ذریعے عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہیں۔ اس لیے اس جزیرے پر کنٹرول کو ایران کی معیشت کی شہ رگ پر قبضے کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔
ایک سینئر امریکی عہدیدار نے امریکی میڈیا کو بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ آبنائے ہرمز کو ہر صورت کھلا دیکھنا چاہتے ہیں۔ عہدیدار کے مطابق اگر اس مقصد کے لیے جزیرہ خارک پر قبضہ یا ساحلی حملہ کرنا پڑا تو یہ آپشن بھی میز پر موجود ہے، تاہم اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ ہفتوں میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ خلیج میں جہاز رانی تقریباً رک چکی ہے اور روزانہ گزرنے والے جہازوں کی تعداد درجنوں سے کم ہو کر چند تک رہ گئی ہے، جس سے عالمی توانائی رسد کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
اقوام متحدہ کی عالمی بحری تنظیم نے بھی خلیج میں پھنسے ہزاروں ملاحوں کے انخلا کے لیے محفوظ بحری راہداری قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جس سے صورت حال کی سنگینی واضح ہوتی ہے۔
دفاعی اور توانائی امور کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جزیرہ خارک پر کسی بھی قسم کی امریکی فوجی کارروائی نہ صرف ایران کے ساتھ بڑی جنگ کو جنم دے سکتی ہے بلکہ اس کے نتیجے میں عالمی تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ اور خطے میں وسیع تر جنگ کا خطرہ بھی بڑھ جائے گا۔