ایران میں فوجی کارروائی سمیٹنے پر غور کر رہے ہیں، سٹاک مارکیٹ گرنے کے بعد ٹرمپ کا بیان

بیان اس اقدام کے برعکس ہے جس کے تحت خطے میں مزید فوج اور بحری جہاز بھیجے جا رہے ہیں، امریکی میڈیا

               
March 21, 2026 · اہم خبریں, بام دنیا

 

امریکی صدر نے کہا ہے کہ امریکہ ایران میں فوجی کوششوں کو سمیٹنے پر غور کر رہا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں جاری جنگ کے حوالے سے ایک نیا بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ واشنگٹن ایران میں اپنے مقاصد حاصل کرنے کے بہت قریب ہے اور فوجی کارروائی کو ختم کرنے پر غور کر رہا ہے۔

اپنے پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر ایک پوسٹ میں انہوں نے اپنے اس دعوے کو دہرایا کہ امریکہ آبنائے ہرمز کا استعمال نہیں کرتا، اس لیے ان کے بقول اس کی حفاظت اور نگرانی ان دیگر ممالک کو کرنی چاہیے جن کا وہاں مفاد وابستہ ہے۔

ٹرمپ کے مطابق اگر ضرورت پڑی تو امریکہ ایسی کوششوں میں مدد کرے گا، لیکن ایک بار جب ایران کا خطرہ جڑ سے ختم ہو جائے تو پھر اس (مدد) کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔

 

الجزیرہ نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی صدر فوجی کوششوں کو کم کرنے (winding down) پر غور کر رہے ہیں۔

ایسوسی ایٹڈ پریس  کے مطابق، صدر نے یہ تبصرہ جمعہ کی شام سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں اس وقت کیا جب تیل کی قیمتوں میں ایک اور اضافے نے امریکی اسٹاک مارکیٹ کو تیزی سے نیچے گرا دیا۔

ٹرمپ کا یہ بیان ان کی انتظامیہ کے اس اقدام کے برعکس نظر آیا جس کے تحت خطے میں مزید فوج اور بحری جہاز بھیجے جا رہے ہیں اور کانگریس سے جنگی اخراجات کے لیے مزید 200 ارب ڈالر کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

اپنی پوسٹ میں، صدر نے اس حوالے سے بھی ایک مبہم تصویر پیش کی کہ آیا امریکہ آبنائے ہرمز جیسی اہم بحری گزرگاہ کی نگرانی کرے گا یا نہیں۔ ٹرمپ نے رواں ہفتے یہ بھی کہا تھا کہ امریکہ کو کسی مدد کی ضرورت نہیں، ساتھ ہی یہ شکایت بھی کی تھی کہ دوسرے ممالک مدد نہیں کر رہے۔