ایران کا پہلی بار 3,800 کلومیٹر دور امریکی اڈے پر حملہ
نطنز کی ایٹمی تنصیبات پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے بعد کارروائی، ایرانی بیلسٹک میزائل مرکز کو تباہ کرنے کا بھی دعوی
ایران نے اپنے نطنز جوہری مرکز پر حملے کے بعد بحرِ ہند میں واقع امریکہ اور برطانیہ کے مشترکہ فوجی اڈے ڈیاگو گارشیا کی جانب بیلسٹک میزائل فائر کیے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس حملے میں کسی جانی یا مالی نقصان کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
ایران کی نطنز ایٹمی تنصیبات پر ہفتہ اور اتوار کی صبح امریکہ اور اسرائیل نے حملہ کیا۔ امریکی سینٹ کام نے ایران کے ایک بیلسٹک میزائل مرکز کو بھی نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ایران کی جانب سے داغے گئے دو میزائل ہدف تک نہیں پہنچ سکے۔ ایک میزائل راستے میں ہی ناکام ہو گیا جبکہ دوسرے کو امریکی دفاعی نظام نے نشانہ بنایا یا وہ سمندر میں گر گیا۔
یہ حملہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا جب برطانیہ نے ایک روز قبل امریکہ کو اپنے فوجی اڈوں کے اضافی استعمال کی اجازت دی تھی، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔
امریکی حکام کے حوالے سے اس واقعے کی خبر سب سے پہلے وال اسٹریٹ جرنل نے دی، جس کے بعد دیگر بین الاقوامی ذرائع نے بھی تصدیق کی کہ ایران نے درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے دو بیلسٹک میزائل ڈیاگو گارشیا کی سمت داغے تھے۔ دونوں میزائل ہدف تک نہیں پہنچ سکے۔
برطانوی وزارتِ دفاع نے تاحال اس بات کی نہ تو مکمل تصدیق کی ہے اور نہ ہی واضح تردید، تاہم اس نے ایرانی حملوں کو خطے میں برطانوی مفادات اور اتحادیوں کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔
ڈیاگو گارشیا بحرِ ہند میں واقع ایک اسٹریٹجک جزیرہ ہے جو برطانوی زیرِ انتظام خطے برٹش انڈین اوشین ٹیریٹری کا حصہ ہے اور یہاں امریکہ کا بڑا فضائی اور بحری اڈہ قائم ہے۔ یہ جزیرہ ایران کے جنوبی ساحلی علاقے پاسبندر سے تقریباً 3,800 کلومیٹر دور واقع ہے، جس کے باعث اس حملے کو ایران کی طویل فاصلے تک مار کرنے والی صلاحیت کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
نطنز جوہری تنصیب پر حملہ اور ایرانی ردعمل
اس سے قبل ہفتے کی صبح ایران کی مرکزی یورینیم افزودگی تنصیب نطنز کو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ ایرانی حکام کے مطابق اس حملے کے باوجود تابکار مواد کے اخراج کی کوئی اطلاع نہیں ملی اور قریبی آبادی کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوا۔
ایران کی جوہری توانائی تنظیم نے اس حملے کو جوہری عدم پھیلاؤ کے عالمی معاہدوں اور جوہری سلامتی کے اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔
ادھر امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس ہفتے ایران کے ایک زیرِ زمین ہتھیاروں کے مرکز پر بمباری کے بعد آبنائے ہرمز میں جہازوں کو خطرہ پہنچانے کی اس کی صلاحیت کم ہو گئی ہے۔
سینٹکام کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے ایک ویڈیو پیغام میں دعویٰ کیا کہ امریکہ نے نہ صرف اس تنصیب کو تباہ کیا بلکہ وہ مقامات بھی نشانہ بنائے جو جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے استعمال ہوتے تھے۔