اسرائیل کے ایٹمی مرکز پر حملے کا ایرانی دعویٰ ۔ قریبی شہر کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، اسرائیلی میڈیا
فضائی دفاع ناکام رہا۔ کئی ہلاکتوں اور 100 زخمی ہونے کی اطلاعات
ایرانی میزائلوں نے اسرائیلی ایٹمی پلانٹ کے قریبی شہر عراد کو نشانہ بنایا ہے جس میں ہلاکتیں ہوئی ہیں اور 100 افراز زخمی ہو گئے۔ عراد شہر صحرائے نقب (Negev) کی سرحد پر واقع ہے اور نقب صحرا وہ علاقہ ہے جس میں اسرائیل کی ایٹمی ہتھیار ساز تنصیبات ہیں۔
عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کا کہنا ہے کہ وہ جنوبی اسرائیل میں نیگیو ایٹمی مرکز کے قریب ہونے والے میزائل حملے سے باخبر ہے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ اسے ایٹمی تحقیقی مرکز کو کسی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی، اور مزید کہا کہ تابکاری کے غیر معمولی اثرات بھی نہیں پائے گئے۔
آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی کا کہنا ہے کہ انتہائی فوجی تحمل کا مظاہرہ کیا جانا چاہیے، خاص طور پر ایٹمی تنصیبات کے گرد و نواح میں۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ ایک ایرانی میزائل فضائی دفاعی نظام کو چکمہ دے کر جنوبی قصبے ڈیمونا (Dimona) میں گرنے میں کیسے کامیاب ہوا، جس کے نتیجے میں کم از کم 47 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
ڈیمونا سے تقریباً 13 کلومیٹر باہر ایک ایسی تنصیب موجود ہے جسے طویل عرصے سے اسرائیل کے غیر اعلانیہ ایٹمی ہتھیاروں کے ذخیرے کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ سرکاری طور پر، اس جگہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ صرف تحقیق پر توجہ مرکوز کرتی ہے۔ لیکن تقریباً چھ دہائیوں سے یہ ایک کھلا راز ہے کہ اسرائیل نے وہاں ایٹمی ہتھیار تیار کیے ہیں۔
ایران نے اس حملے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ ڈیمونا پر حملہ اس کے اپنے نتنز (Natanz) ایٹمی مرکز پر امریکی اور اسرائیلی فضائی مہم کے گزشتہ حملے کا جواب تھا۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ اسرائیل کے جنوبی شہر ڈیمونا پر حالیہ ایرانی میزائل حملے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ جنگ کے نئے مرحلےمیں داخل ہوتے ہی ملک کی فضائی حدود تیزی سے غیر محفوظ ہو رہی ہیں۔
قالیباف نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا کہ اگر دفاعی نظام مخصوص علاقوں میں میزائلوں کو روکنے میں ناکام رہتا ہے تو یہ سیکورٹی کی صورتحال میں ایک نئی تبدیلی کی علامت ہے۔
الجزیرہ کے مطابق، اگرچہ مخصوص علاقوں میں میزائل گرنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، لیکن نیگیو ایٹمی تحقیقی مرکز کو کسی نقصان کے آثار نہیں ملے۔ ایجنسی کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ علاقائی معلومات کے مطابق تابکاری کی سطح میں کوئی غیر معمولی تبدیلی نہیں دیکھی گئی۔
اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، جنوبی علاقوں میں ہسپتالوں کو الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔ امدادی ٹیمیں مختلف مقامات پر کارروائیاں کر رہی ہیں جہاں نقصان کی اطلاعات ملی ہیں۔
حکام کی جانب سے نقصانات کا جائزہ لینے کا عمل جاری ہے اور متاثرہ افراد کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ ایران نے اس سے قبل اپنی تنصیبات پر ہونے والے حملوں کے جواب میں جوابی کارروائی کا اشارہ دیا تھا۔
ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق، اسرائیلی فضائیہ اس وقت جنوبی شہر عراد (Arad) پر لگنے والے ایرانی بیلسٹک میزائل کو روکنے میں ناکامی کی تحقیقات کر رہی ہے۔
اس میزائل حملے کے نتیجے میں ایک عمارت کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا جس سے بڑے پیمانے پر نقصان ہوا۔
مختلف ذرائع سے زخمیوں اور ہلاکتوں کی متضاد اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
یروشلم پوسٹ کے مطابق، کم از کم 64 افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے 7 کی حالت تشویشناک ہے۔ترک میڈیا کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اس حملے میں کم از کم 6 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
زخمیوں کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے بیر سبع (Beersheba) کے سورکا میڈیکل سینٹر منتقل کیا گیا ہے، جہاں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے۔
ابتدائی اندازے کے مطابق میزائل روایتی وار ہیڈ سے لیس تھا جس میں سینکڑوں کلو گرام بارود موجود تھا۔
اسرائیلی فضائیہ اس بات کی تفتیش کر رہی ہے کہ دفاعی نظام اس میزائل کو فضا میں ہی تباہ کرنے میں کیوں ناکام رہا۔
ہوم فرنٹ کمانڈبھی ان حالات کی تحقیقات کر رہا ہے جن کی وجہ سے میزائل گنجان آباد علاقے میں گرا۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، اسرائیلی امدادی ادارے جنوبی شہر عراد (Arad) میں براہِ راست میزائل حملے کے مقام پر پہنچ گئے ۔ یہ شہر اسرائیل کے اہم ترین ایٹمی تحقیقی مرکز (Dimona) کے قریب واقع ہے۔
جائے وقوعہ سے ملنے والی ابتدائی فوٹیج میں ایک بس دکھائی دے رہی ہے جس کے شیشے ٹوٹ چکے ہیں، جبکہ کئی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ درجنوں فائر فائٹرز اور پولیس اہلکار حملے کے دو مختلف مقامات پر کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
اسرائیلی امدادی خدمات کے مطابق 4 افراد شدید زخمی ہوئے ہیں (جن میں ایک 4 سالہ بچی بھی شامل ہے) اور 29 افراد کو معمولی خراشیں آئی ہیں۔ حکام ابھی تک ان افراد کی تلاش کر رہے ہیں جو تاحال لاپتہ ہیں۔
برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق ،ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ڈیمونا پر حملہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے بوشہر پاور پلانٹ اور نتنز کی تنصیبات پر حملے کے بعد” کیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کا کہنا ہے کہ دشمن کو ایک بار پھر ناقابل فراموش سبق ملا ہے۔ ڈیمونا کے علاقے پر میزائل حملے نے ایک بار پھر واضح پیغام دیا ہے کہ کوئی بھی علاقہ ایرانی میزائلوں سے محفوظ نہیں ہے۔ دشمن کو چاہیے کہ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے، ہتھیار ڈال دے۔”
جریدہ گارڈین کے مطابق، شمعون پیریز نیگیو نیوکلیئر ریسرچ سینٹر، جسے عام طور پر ڈیمونا ایٹمی ری ایکٹر کے نام سے جانا جاتا ہے، جنوبی اسرائیل میں صحرائے نیگیو میں واقع ایک جوہری تنصیب ہے، جو ڈیمونا شہر سے تقریباً 13 کلومیٹر (8 میل) جنوب مشرق میں واقع ہے۔